کیا عمران کی فراغت کے بعد قومی حکومت کا قیام ممکن ہے؟

وزیراعظم عمران خان کی اقتدار سے ممکنہ بے دخلی کے بعد تحریک انصاف کے سوا دیگر بڑی سیاسی جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت بنائے جانے کی تجویز تو سامنے آئی ہے لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین میں قومی حکومت کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ قومی حکومت کی تجویز اس لیے پیش کی جا رہی ہے کہ پچھلے ساڑھے تین برس میں عمران خان نے پاکستان اور اسکی معیشت کو جس طرح برباد کیا ہے اس کی بحالی کا مشکل ٹاسک حاصل کرنا کسی ایک جماعت کے لیے ممکن نہیں ہے۔
یاد رہے کہ سیاسی منظر نامے میں ممکنہ تبدیلی کے بعد ایک قومی حکومت بنانے کی تجویز مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی طرف سے سامنے آئی ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اگلے سیاسی سیٹ اپ میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے آئین میں ’قومی حکومت‘ کی کوئی گنجائش تو موجود نہیں ہے لیکن اگر اس کی سیاسی تشریح کے مطابق چلا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل ایک ایسی حکومت بنائی جائے جسے پوری قوم کی حمایت حاصل ہو تاکہ درپیش ملکی مسائل کے حل کے لیے بڑے اور بنیادی فیصلے مل جل ہر کیے جا سکیں۔ اس سے پہلے شہباز شریف نے تجویز دی تھی کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی تو تحریک انصاف کو شامل کیے بغیر پانچ سال کے لیے ایک قومی حکومت قائم کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی قومی حکومت بنانا ہو گی جو پانچ سال مل کر، سر جوڑ کر، ملکی مسائل حل کرے۔ اس کے بعد ایک سٹیج سیٹ ہو جائے گا۔‘
لیکن شہباز شریف کی تجویز کے مطابق اس قومی حکومت میں تحریکِ انصاف شامل نہیں ہو گی، لہذا سوال یہ ہے کہ پھر یہ قومی حکومت کیسے ہوئی؟ شہباز شریف نے خود اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس جماعت نے پاکستان اور اس کی معیشت کو تباہ کیا ہے اور عوام کو مہنگائی کی دلدل میں دھکیلا ہے اسے قومی حکومت کا حصہ کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں قومی حکومت کے قیام کی تجویز پہلی مرتبہ سامنے نہیں آئی ہے۔ تقربباً تین دہائی قبل نواب زادہ نصراللہ خان نے بھی یہی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم پاکستان میں قومی حکومت ایک مبہم سا تصور رہا ہے جس کی پوری طرح وضاحت نہیں ہو سکی ہے۔
آئین اور قانون کے ماہر سابق جج طارق محمود کا بھی کہنا ہے کہ قومی حکومت کی کوئی گنجائش پاکستان کے آئین میں موجود نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے شاید قومی حکومت کی روایتی تشریح کو ذہن میں رکھتے ہوئے بات کی۔ انکا کہنا تھا کہ ’اگر تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو ظاہر ہے آئین کے مطابق وزیرِ اعظم اپنے عہدے پر نہیں رہ سکیں گے۔ صدر اسمبلی سے کہیں گے کہ اپنا نیا قائد منتخب کر لو، جو اگلے ڈیڑھ برس کے لیے ہو گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ملک کی اس وقت جو صورتحال ہے اس میں وہ کون ہو گا جو ڈیڑھ سال کے لیے وزیرِ اعظم بنے اور عوام کے سامنے غیر مقبول ہو اور عوام کے غصے کا سامنے کرے۔ کیونکہ اگلے ڈیڑھ سال میں تو معاشی صورتحال اور دیگر معاملات بہتر نہیں ہو سکیں گے۔‘
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ عمران مخالف سیاسی جماعتوں کے سامنے دو راستے ہوں گے۔ ایک راستہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں آپس میں طے کر لیں کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد جب صدر ان سے کہیں کہ نیا قائد ایوان منتخب کریں تو وہ کسی کو منتخب ہی نہ کریں اور صدر کو مجبوراً نئے انتخابات کا اعلان کرنا پڑے۔ ’دوسرا راستہ یہ ہے کہ اعتماد کا ووٹ لے کر شہباز شریف وزیرِ اعظم بنیں اور فوراً ہی صدر کو اسمبلی توڑنے کا مشورہ دیں تاکہ اگلے انتخابات کا اعلان ہو جائے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ اُن کے خیال میں قومی حکومت سے شہباز شریف کا مطلب یہ ہے کہ نئے انتخابات کے بعد تمام جماعتیں جن میں مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام (ف) عوامی نیشنل پارٹی، ایم کیو ایم، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر جماعتیں مل کر حکومت بنائیں۔ ’یعنی عمران خان کی پی ٹی آئی کے علاوہ تقریباً تمام سیاسی جماعتیں مل کر حکومت بنائیں اور ملک میں اتفاقِ رائے سے مسائل حل کریں۔‘
دوسری جانب پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ انھیں شہباز شریف کی طرف سے ایسی تجویز کا آنا بہت عجیب لگا۔
’ذاتی حیثیت تو کچھ نہیں ہوتی، وہ اپنی پارٹی کے صدر ہیں اور ایک ایسی پارٹی کے صدر ہیں جو اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی ہے یعنی جو مستقبل میں حکومت بھی بنا سکتی ہے۔‘ تاہم احمد بلال محبوب شہباز شریف کے بیان کا ایک مثبت پہلو بھی دیکھتے ہیں۔ ’اس میں جو اور بامعنی بات ہے وہ یہ ہے کہ شہباز شریف کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس اگر اتنی اکثریت ہو جائے کہ ہم اکیلے بھی حکومت بنا سکتے ہوں، ہم تب بھی چاہیں گے کہ ہم دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں تاکہ اتفاقِ رائے وسیع ہو۔‘ لیکن اُن کے مطابق اس کے لیے دوسری جماعتوں کا حکومت میں شامل ہونا ضروری نہیں ہے۔
’جمہوری کلچر کا تقاضا تو یہ ہے کہ حکومت اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلے اور کوشش کی جائے کہ ان کو ساتھ ملا کر قانون سازی کریں اور پالیسیاں بنائیں۔ ان کا حکومت میں شامل ہونا یا نہ ہونا اتنی اہمیت نہیں رکھتا۔‘
احمد بلال محبوب کے مطابق اس کی بڑی مثال 18ویں ترمیم ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جس کے پاس تو سادہ اکثریت بھی نہیں تھی لیکن انھوں نے وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کیا اور کئی اہم اور اختلافی معاملات طے ہو گئے جن میں صوبائی خودمختاری بھی شامل ہے، لہٰذا قومی حکومت کے بجائے اس طرح کا اتفاقِ رائے پیدا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ ’سٹیج سیٹ ہو جائے گا‘ سے شاید ان کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کے معیشت سمیت جو بڑے بڑے مسائل ہیں ان کے حل کے لیے سٹرکچرل تبدیلیوں کی ضرورت ہے، ان کے بارے میں کُھل کر فیصلے کیے جا سکیں جو اب تک نہیں کیے جا سکے۔
’تو غالباً وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات پر اتفاقِ رائے ہو جائے لیکن یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہے۔ اگر یہ سب کرنا ہی ہے تو یہ بغیر قومی حکومت کے بھی ہو سکتا ہے۔ اس میں محنت لگے گی، مہینے لگیں گے۔‘
’ملک میں جب بحران ہوتا ہے تو قومی حکومت کی بات سامنے آتی ہے لیکن ماضی قریب میں ایسا نہیں ہوا ہے۔ البتہ ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی بات زیادہ ہوتی رہی ہے کہ ٹیکنوکریٹس یا ماہرین کی ایسی حکومت بن جائے جو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر فیصلے کر سکے۔‘ احمد بلال محبوب کے مطابق یہ اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ طریقہ ہو سکتا ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ سیاستدان تو اختلاف ہی کرتے رہتے ہیں اور انھیں مختلف شعبوں کے بارے میں زیادہ سمجھ بھی نہیں ہوتی اور ان میں صلاحیت بھی ضرورت سے کم ہوتی ہے۔ تو شاید اسٹیبلشمنٹ کے خیال میں ’سٹیج سیٹ‘ کرنے کے لیے ٹیکنوکریٹس کی حکومت چاہیے تاکہ ملک کی معیشت اور دیگر شعبے درست ہو سکیں۔ ’لیکن یہ بھی ایک غیر حقیقی سوچ ہے کیونکہ سیاستدانوں کے بغیر استحکام کا آنا ایک ناممکن سی بات ہے۔ ٹیکنیکل لوگ اگر یہ کر سکتے تو دنیا میں سیاسی نظام ہوتے ہی نہیں، اتفاقِ رائے سیاستدان ہی پیدا کر سکتے ہیں۔‘
