کیا تھیٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن سے فحاشی کا خاتمہ ممکن ہے ؟

سینیئر صحافی سہیل وڑائچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے فحاشی پھیلانے والے تھیٹرز کے خلاف کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پہلے جنرل ضیا کے زمانے میں بازار حسن بند کیا گیا تھا لیکن اس سے جسم فروشی ختم ہونے کی بجائے پورے لاہور شہر میں پھیل گئی۔ یہاں گندا تھیٹر تب ختم ہو گا جب اچھے تھیٹر کے شائقین گندے تھیٹر کے شائقین سے بڑھ جائیں گے، ان کا کہنا ہے کہ ادب اور کلچر کو اس کے اچھے یا گندے پہلو سے نہیں بلکہ اسکے معیار سے ناپا جاتا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو گندگی کا ذکر بھی اس معیار سے کرتا ہے کہ وہ ادب بن جاتا ہے، جوش ملیح آبادی اپنے معاشقوں کا ذکر اس ذوق سے کرتا ہے کہ اسکی ’’یادوں کی بارات‘‘ نامی نثر اس کی شاعری سے بھی زیادہ مقبول ہو جاتی ہے۔ انکا کہنا یے کہ قصور اور لاہور میں ڈانس پارٹیوں پر چھاپے کے پیچھے بظاہر پولیس کی ذہنی پسماندگی کار فرما ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم پاسدارانِ انقلاب یا طالبان کے ملک میں رہ رہے ہیں؟ پولیس کے ہاتھوں ڈانس پارٹی میں شریک لڑکیوں کی گرفتاری کے بعد انکی تصاویر وائرل کر دی گئی ہیں۔ اگر یہ تصاویر وائرل ہونے کے بعد ان لڑکیوں میں سے کسی کا غیرت کے نام پر قتل ہوگیا تو اس کی ذمہ دار پولیس فورس ہو گی۔ اسلام میں گناہ کو چھپانا، چادر، دیواری کی حرمت کو پامال کرنا اور خواتین کو سرعام بدنام کرنا کیا جائز ہے، کوئی تو بتائے؟
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ہر زمانے، ہر خطے اور ہر ملک میں اخلاقیات کے الگ پیمانے ہیں اور یہ پیمانے بھی وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں، انہی اخلاقی معیارات سے فحاشی کا مطلب جڑا ہوا ہے، انہی روایتی معیارات سے ہٹنے پر چھاپے پڑتے ہیں، مگر اس بحث میں بنیادی معاملہ ثقافت کا ہے۔ ہمارا اصل تضاد ثقافت کی تشریح پر ہے۔ احمد ندیم قاسمی اور بائیں بازو کے دانشور متفق ہیں کہ ہماری ثقافت اور تاریخ کا آغاز موہنجو ڈارو سے ہوتا ہے۔ اب اس ثقافت میں ایک طرف پروہت بادشاہ موجود ہے تو دوسری طرف ننگی رقاصہ سمبارا جان بھی موجود ہے ،بحث یہ ہے کہ کیا اس ثقافت کو تسلیم کرتے ہوئے آج کی تہذیب اسی کے مطابق بنائی جائے؟ دوسری طرف ہمارے مذہبی اہل فکر ہیں جو تہذیب و ثقافت کو مذہب سے جڑا دیکھتے ہیں اور انکا دعویٰ ہے کہ اس خطے میں ہماری تہذیب محمد بن قاسم کے آنے سے شروع ہوئی، ہمارا موہنجو ڈارو کی تہذیب، وہاں کے مذہب یا رقص سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی ہمیں اس طرف دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف فکری تضاد نہیں یہ ایک عملی مسئلہ ہے۔ ایک بہت بڑے اسلامی ملک کے سرکاری اخبار سعودی گزٹ میں ایک چھاپے کی خبر شائع ہوئی جو ایک ایسے گھر پر مارا گیا جس میں تصوف کی تعلیم دی جا رہی تھی، اخبار کے مطابق تصوف کی تعلیم دینے والوں کو چھاپہ مار کر موقع پر گرفتار کرلیا گیا یہ پرانی خبر میں نے ایک عمرے کے دوران پڑھی تھی اور پھر مجھے پاکستانی نژاد باکسر عامر خان کا جدہ میں دو تین سال پہلے ایک مقابلہ دیکھنے کا موقع ملا، اس میں امریکی اور برطانوی سنگرز نے موسیقی کا جادو جگایا اور میں نے نوجوان سعودی نسل کو ان گانوں پر رقص کناں دیکھا ۔میرے ساتھ اس محفل میں جنرل (ر) راحیل شریف بھی شامل تھے، چنسچہ سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب کے پہلے اخلاقی معیارات درست تھے یا آج کی تبدیلی درست ہے؟ کچھ اسی طرح کا معاملہ ہماری تہذیب و ثقافت اور بدلتے اخلاقی معیارات کا بھی ہے۔
سہیل وڑائچ یاد دلاتے ہیں آج کے لیجنڈ سعادت حسن منٹو پر ماضی میں فحش نگاری کا مقدمہ بنا جس کی پیروی کرنے والے کوئی اور نہیں علامہ اقبال کے سب سے باوفا دوست چودھری محمد حسین تھے، تب چودھری محمد حسین کی بڑی واہ واہ ہوئی کہ وہ غیر اخلاقی اور فحش نگاری پر مبنی لٹریچر کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ لیکن پھر ریاست پاکستان نے منٹو کو ایک بڑا افسانہ نگار تسلیم کرتے ہوئے ان کے جشن صد سالہ پر ڈاک ٹکٹ جاری کیا، لہٰذا ہم لوگ پاکستانی ثقافت اور لٹریچر کا ہیرو چودھری محمد حسین کو مانیں یا منٹو کو؟ اصل میں ضرورت اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی ہے۔ فحاشی اور بدلتے اخلاقی معیارات کا مسئلہ صرف پاکستان یا اسلامی ممالک میں ہی نہیں، بلکہ برطانیہ، امریکہ اور دنیا کے باقی ممالک بھی اسی تضاد سے گزرے ہیں۔
آج کی دنیا میں یہ بات طے شدہ ہے کہ آرٹ پر پابندیاں ہمیشہ غلط سمجھی جاتی ہیں لیکن سوسائٹی اور آرٹ کے تضاد کو حل کرنے کیلئے امریکی سپریم کورٹ نے ملر کے مشہور کیس میں ایک فارمولا طے کر دیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ فحاشی کا فیصلہ کیسے کرنا ہے !ملر کیس کے فیصلے کے مطابق اس کے تین درجے ہیں۔ پہلا یہ کہ کمیونٹی کے معیار سے اس کا مواد حد سے بڑھا ہوا جنسی تو نہیں ہے جو معاشرے کے مطابق غیر مناسب ہو۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ یہ مواد ریاستی قانون کے مطابق فحاشی کے زمرے میں آتا ہو اور تیسرا یہ کہ اس میں ادبی یا فنی، سیاسی یا تکنیکی قدروقیمت نہ ہو۔ میری رائے میں کسی مخصوص زمانے میں فحاشی کو جانچنے کا اس سے بہتر کوئی معیار نہیں۔ دنیا بھر میں تخلیق کار زمانے سے آگے چلتے ہیں مگر زمانہ انہیں اس قدر آگے نہیں جانے دیتا کہ وہ کسی نئی فضا میں چلے جائیں، اسی لیے معاشرہ انہیں روکتا ہے۔ صحافی تو معاشرے سے آگے جانے کے باوجود معاشرے سے نہ تو الگ ہو سکتا ہے نہ زیادہ الگ سوچ سکتا ہے۔
تھیٹرز پر چھاپے: ابوجہل کے فالورز میں اضافہ کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں حکومت پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری کی جانب سے ڈانس تھیٹرز پر چھاپوں کے بعد یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ وہاں دکھائے جانے والے ڈراموں کا مواد پہلے سے منظور شدہ ہوتا ہے۔ اگر متعلقہ ادارے اس مواد سے ہٹنے والوں سے مل جائیں تو پہلے ان کا احتساب کرنا ضروری ہے۔ تھیٹر پر کام کرنے والوں کی یہ غلطی ضرور ہے کہ وہ سکرپٹ سے ہٹ جاتے ہیں لیکن انہیں اصل میں سزا انہیں سکرپٹ تک محدود رکھنے کے ذمہ داروں کو ملنی چاہئے۔ عظمیٰ بخاری کے تھیٹرز پر چھاپے قانون کے نفاد کیلئے جتنے بھی ضروری ہوں، لیکن ایک ہیرا منڈی بند کرنے سے ہر بستی میں ایک نہ ایک مکان لازمی ہیرا منڈی بن جاتا ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے، گناہ ہو رہے ہیں، اور ہوتے رہیں گے، البتہ دنیا نے گناہ روکنے کیلئے بہتر سے بہتر قوانین کو ہی واحد حل قرار دیا ہے، زور زبردستی اور چھاپے کام نہیں آتے۔
