کیا صرف فوجی کاروائیوں سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟

اگرچہ 2025 میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ریکارڈ تعداد میں تحریک طالبان اور دیگر تنظیموں سے وابستہ ریاست مخالف دہشتگردوں کو ہلاک کیا، تاہم اسکے باوجود دہشت گرد حملوں میں مسلسل اضافے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ عسکری حکمت عملی کے ساتھ غیر عسکری یعنی سیاسی حکمت بھی اپنائی جائے۔
معروف دفاعی تجزیہ کار عامر رانا نے اپنی تجزیاتی تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت 2025 میں داخلی اور خارجی محاذ پر حاصل ہونے والی سفارتی اور دفاعی کامیابیوں پر مطمئن ہے، ان کامیابیوں سب سے کی بڑی وجہ امریکہ کے ساتھ اعتماد کی بحالی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل مائیکل کوریلا کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کا اعتراف، اس بدلے ہوئے رویے کی واضح مثال ہے۔ اس پیش رفت سے جنوبی اور مغربی ایشیا میں پاکستان کی علاقائی پوزیشن مضبوط ہوئی ہے، جبکہ وسطی ایشیا میں بھی اس کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں۔
عامر رانا کے مطابق داعش خراسان کے خلاف کارروائیوں کے بعد پاکستان کے لیے کئی مسلم ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے، جن میں پاکستان۔سعودی دفاعی تعاون کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ تاہم ان کے بقول یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ تعاون عملی معاشی اور سیاسی فوائد میں ڈھل پاتا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب عامر رانا نے داخلی سلامتی کے محاذ کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق مذہبی شدت پسند تنظیمیں اور بلوچ علیحدگی پسند گروہ بدستور سرگرم ہیں، جس سے سکیورٹی چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستانی ریاستی ادارے دہشت گردی سے متعلق مستند اور قابلِ تصدیق اعداد و شمار فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی یعنی نیکٹا سمیت متعلقہ ادارے جامع ڈیٹا بیس تشکیل دینے میں ناکام ہیں، جس کے باعث پرائیویٹ تحقیقی ادارے اوپن سورس معلومات پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے مبالغہ آمیز دعوؤں کی مؤثر تردید بھی مشکل ہو جاتی ہے۔
دہشتگردوں نے 2025 کو صدی کا خونریز ترین سال کیسے بنایا ؟
عامر رانا کے مطابق مختلف تحقیقی رپورٹس تصدیق کرتی ہیں کہ 2025 میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران ملک بھر میں 699 دہشت گرد حملے ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہیں، ان حملوں میں 1004 سے زائد افراد جان سے گئے۔ انکا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے سال 2025 کے دوران بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو ہلاک کیا، تاہم صرف عسکری طاقت پر انحصار مسئلے کا حل نہیں۔ ان کے بقول دہشت گردی کے پائیدار خاتمے کے لیے فوجی اقدامات کے ساتھ ساتھ مؤثر غیر عسکری حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ جب تک ریاست قابلِ تصدیق اعداد و شمار اور مضبوط غیر عسکری فریم ورک تیار نہیں کرتی، پاکستان کو عالمی سطح پر اپنے انسدادِ دہشت گردی اقدامات کا مؤثر دفاع کرنے میں مشکلات کا سامنا رہے گا۔
