کیا فوجی آپریشن سے بلوچستان میں امن قائم کرنا ممکن ہے ؟

فوجی قیادت اور وفاقی حکومت نے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف ٹارگٹڈ فوجی آپریشنز میں تیزی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم اس حکومتی اعلان پر بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے شدید تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا ہے۔ بلوچ رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ صوبے میں مزید فوجی کارروائیاں بلوچ عوام اور ریاست کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید گہرا کریں گی، اس لیے اس فیصلے پر ازسرِنو غور کیا جانا چاہیے اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی عمل کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست کی جانب سے ماضی میں نرمی برتنے کے نتیجے میں بلوچ عسکریت پسندوں کے حوصلے بڑھ گئے ہیں، جو اب وہ دشمن ممالک کی فنڈنگ سے بڑے اور منظم حملے کرنا شروع ہو گئے ہیں۔ اس بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اور ہدفی کارروائیاں ناگزیر ہو چکی ہیں۔

خیال رہے کہ حکومت اور عسکری قیادت نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا ہے جب بلوچستان کے مختلف شہروں میں عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے سیکیورٹی فورسز اور نہتے عوام پر حملوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بلوچستان میں ہونےوالی حالیہ شرپسندانہ اور دہشتگردانہ کارروائیوں کے بعد عسکریت پسندوں سے کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہ برتنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کی قوم پرست سیاسی جماعتوں کی جانب سے فوجی آپریشنز کی مخالفت سامنے آئی ہے۔ بلوچستان میں فوجی کارروائی کے مخالفین تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ مذاکرات کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے اور اب اسلحہ اٹھانے والوں کا مقابلہ بندوق سے ہی کیا جائے گا۔ لیکن بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں کے نزدیک بلوچستان کے مسائل کا حل فوجی آپریشن سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے چاہیئں۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے مطابق بلوچستان میں ٹارگٹڈ فوجی آپریشنز کا سلسلہ گزشتہ 20 برسوں سے جاری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ماضی کے آپریشنز سے کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہیں ہوا تو مجوزہ آپریشنز سے کیا نتیجہ نکلے گا۔ سابق وزیرِ اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ "ہم ایسے آپریشنز کی مخالفت کرتے ہیں اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن سے مسائل اور مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ جب کہ یہ اقدام عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا دے گا۔ ان کے بقول "ریاست کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کی حکمت عملی اختیار کرے اور ایسے اقدامات کرے جو عوام کو ریاست سے مطمئن اور خوش رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔”

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے بھی صوبے میں نئے فوجی آپریشن کی مخالفت اور مذمت کی ہے۔ بی این پی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن غلام نبی مری کے مطابق حکومت اور اسٹیبشلمنٹ کو چاہیے تھا کہ وہ موجودہ حالات میں بلوچستان میں فوجی آپریشنز کا اعلان کرنے کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز سے مل کر مفاہمت کا اعلان کرتے۔ ان کے بقول پاکستان بننے سے اب تک بلوچستان میں متعدد فوجی آپریشنز ہو چکے ہیں لیکن نتائج عوام کے سامنے ہیں حکمران اور فوجی قیادت خود سوچیں کہ ان آپریشنز کا کیا فائدہ اور کیا نقصان ہوا ہے۔ غلام نبی مری کے مطابق بلوچستان میں پہلے ہی اس طرح کے فوجی آپریشنز جاری ہیں۔جس کی وجہ سے صوبے میں الیکشن اور پارلیمانی سیاست پر یقین رکھنے والے لوگوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ ان کے بقول، ماضی میں جن آمروں نے بلوچستان میں فوجی آپریشنز کیے آج ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے صوبے میں حالات خراب ہیں۔ حکمرانوں کو اب بھی یہ اندازہ نہیں ہو رہا کہ وہ کس ڈگر پر چل رہے ہیں۔

بلوچستان کے حملوں میں انڈیا اور افغانستان نے معاونت کی

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے پیچیدہ اور دیرینہ مسئلے کا حل محض فوجی آپریشنز میں شدت لانے سے ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ ریاست کے لیے امن و امان قائم رکھنا ناگزیر ہے، تاہم صرف طاقت کے استعمال سے نہ تو بداعتمادی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی دیرپا استحکام حاصل کرنا ممکن ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومت کو سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ بات چیت اور مذاکرات کے دروازے بھی کھلے رکھنے چاہییں تاکہ ناراض بلوچ قیادت، سیاسی جماعتوں اور دیگر سٹیک ہولڈرز کو قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ماضی میں جب بھی بلوچستان کے مسئلے کو یک رخی سکیورٹی نقطۂ نظر سے دیکھا گیا، اس کے نتائج مزید کشیدگی اور دوریوں کی صورت میں سامنے آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اعتماد سازی کے اقدامات، لاپتہ افراد کے معاملے پر شفاف پیش رفت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سیاسی شمولیت کے بغیر فوجی کامیابیاں بھی عارضی ثابت ہوں گی۔ اسی لیے تجزیہ کار حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ طاقت اور مکالمے کے درمیان توازن قائم کرے، تاکہ صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے۔

 

Back to top button