کیا لاہور ایلیویٹڈ ایکسپریس وے کا منصوبہ اشرافیہ کیلئے بن رہا ہے؟

لاہور کی صرف 10 سے 15 فیصد آبادی کو ذاتی گاڑیوں کی سہولت حاصل ہے جبکہ باقی آبادی پیدل ہے یا اکثریت کے پاس موٹر سائیکل ہیں، فضائی آلودگی میں خطرناک اضافے کی وجہ سے بھی حکومت کی ترجیح پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہونی چاہئے، لیکن حیران کن طور پر صوبائی حکومت شہر میں مزید ایکسپریس ویز بنانا چاہتی ہے جس سے لاہور کے باسیوں کو مزید مشکلات پیش آئیں گی۔

یاد رہے کہ ہنجاب حکومت نے اربوں روپے کے ایلیویٹڈ ایکسپریس وے کے تعمیراتی منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، ایلیویٹڈ ایکسپریس وے کا تصور پہلی بار مسلم لیگ ن کی حکومت نے 2014 میں دیا تھا، یہ آٹھ رویہ سگنل فری ایکسپریس وے ہے جو گلبرگ میں میکڈونلڈز ریسٹورنٹ کے پیچھے سے شروع ہو کر اچھرہ، سمن آباد اور گلشن راوی سے ہوتی ہوئی لاہور-اسلام آباد موٹروے پر ختم ہوگی، ایل ڈی اے کے مطابق منصوبے پر 61 ارب روپے لاگت آئے گی اور اسے مکمل ہونے میں 15 ماہ لگیں گے۔

ہنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے گا، شہر میں ٹریفک کی نمو کی شرح 3 سے 4 فیصد سالانہ ہے لیکن کینال روڈ پر یہی شرح 7 تا 8 فیصد سالانہ ہے، اگر ٹریفک اسی طرح بڑھتی رہی تو چند سالوں میں کینال روڈ چھوٹی پڑ جائے گی۔

37 میل طویل کینال روڈ مغلوں کی تعمیر کردہ آبی گزر گاہ پر واقع ہے جو لاہور شہر کے وسط سے گزرتی ہے۔ایل ڈی اے کے لیے کینال روڈ پر ٹریفک کو کم کرنے کا واحد حل اس پر ایکسپریس وے بنانا ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد یا موٹر وے پر واقع کئی اضلاع سے آنے والی ٹریفک کو شہر کے مرکزی علاقوں سے ملایا جا سکے لیکن ٹریفک کی باقاعدگی کے علاوہ ایک اور وجہ ہے کہ ایل ڈی اے اور پنجاب حکومت اس منصوبے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ ہے پیسہ کمانا۔

ایل ڈی اے کے اندازے کے مطابق تعمیر کے بعد اس ایکسپریس وے کو تقریباً 140,000 کاریں روزانہ استعمال کریں گی، حکومت نے فی کار 100 روپے ٹال فیس وصول کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے، اس طرح 20 برسوں میں حکومت 180 ارب روپے جمع کرے گی۔
یاد رہے کہ شہباز شریف کی وزارت اعلی کے دوران جب یہ منصوبہ سامنے آیا تھا تو آٹھ درخواست گزاروں نے ایلیویٹڈ ایکسپریس وے کی تعمیر کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا، ان کی بنیادی دلیل یہ تھی کہ ایکسپریس وے ایک انتہائی مہنگا اور بڑا منصوبہ ہے جو کہ لاہور کے ماسٹر پلان میں سرے سے موجود ہی نہیں، مزید دلیل یہ دی گئی کہ اس منصوبے کے ماحولیاتی اثرات کی رپورٹ میں یہ غور نہیں کیا گیا کہ نہر کو کینال ہیریٹیج پارک ایکٹ کے تحت محفوظ قرار دیا گیا ہے۔

پاک ائیرفورس کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، دونوں پائلٹ شہید

پٹیشن کے مطابق اس منصوبے میں استعمال ہونے والی ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنوں کے نقصان دہ تابکاری اثرست سے سے سکول اور ہسپتال متاثر ہوں گے، اسکے علاوہ انسانی زندگی، جائیداد، ماحولیات، ورثے کے تحفظ اور قانون کے تحفظ کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی، درخواست گزاروں نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس منصوبے پر اربوں روپے لگابے کی بجائے یہی رقم 11 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے میں صحت اور تعلیم کی بہتری پر خرچ کرے،

ان دلائل کی روشنی میں لاہور ہائیکورٹ نے اس منصوبے کی تعمیر روک دی تھی۔ تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اس منصوبے کو روکے جانے کے باوجود اب بزدار حکومت اسے دوبارہ شروع کرنے جا رہی ہے۔

Is Lahore Elevated Expressway being planned for the elite?

Back to top button