پراپرٹی مافیا پر مریم نواز کا موقف درست ہے یا جسٹس عالیہ کا؟

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی جانب سے حکومتِ پنجاب کا نافذ کردہ پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈینینس معطل کرنے کا عدالتی فیصلہ سخت عوامی تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پنجاب حکومت کے اس آرڈیننس کے تحت جن شہریوں کو ان کی جائیدادیں واپس دلوائی گئی تھیں، لاہور ہائی کورٹ کے عبوری فیصلے کے بعد ان جائیدادوں کا قبضہ دوبارہ پرانے قابضین کو دینے کا حکم بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس پر متاثرہ شہریوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پنجاب حکومت کے نافذ کردہ پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کے ذریعے عدالتی حاکمیت ختم کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقتدار میں بیٹھے بعض لوگ یہ چاہتے ہیں کہ تمام اختیارات انہی کے ہاتھ میں ہوں۔ ان کا کہتا تھا کہ اس قانون کے تحت تو جاتی امرا کا قبضہ بھی پانچ منٹ میں کسی دوسرے شخص کو مل جائے گا۔

تحریک انصاف کے لیے ہمدردی رکھنے والی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی جائیداد کا تنازع سول کورٹ میں زیرِ سماعت ہو تو نئے آرڈیننس کے تحت پنجاب حکومت کا کوئی ریونیو افسر کیسے اس جائیداد کا قبضہ دلا سکتا ہے۔ ان کے مطابق نئے قانون کے ذریعے سول عدالتی سیٹ اپ کو ختم کر دیا گیا ہے کیونکہ نیا قانون یہ کہتا ہے کہ ایسے معاملات میں عدالت حکمِ امتناعی بھی جاری نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون سازی کرنا اسمبلی کا آئینی حق ہے اور پنجاب پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس کی معطلی سے قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعلیٰ آفس سے جاری بیان میں مریم نواز نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایک عبوری حکم کے ذریعے نئے نافذ ہونے والے پنجاب پروٹیکشن آف پراپرٹی ایکٹ 2025 پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے، جس کے تحت ڈپٹی کمشنرز کی سربراہی میں تنازعات کے حل کی کمیٹیاں جائیداد سے متعلق معاملات نمٹانے کی مجاز تھیں۔

مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ اس قانون کی منظوری کا مقصد طویل عرصے سے زمین اور جائیداد کے تنازعات میں مبتلا لاکھوں شہریوں کو دیرینہ ریلیف فراہم کرنا تھا۔ ان کے مطابق یہ قانون پہلی مرتبہ زمین اور جائیداد کے مقدمات کے فیصلے کے لیے 90 دن کی مدت مقرر کرتا ہے، جو ماضی میں برسوں بلکہ نسلوں تک لٹکے رہتے تھے۔ انہوں نے اس قانون کو عام شہریوں کو بااثر لینڈ گریبرز اور قبضہ مافیا سے تحفظ دینے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے زور دیا کہ جمہوری طور پر منتخب پنجاب اسمبلی نے یہ قانون عوام کو بااثر لینڈ مافیا کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے منظور کیا تھا۔ ان کے مطابق اس قانون کے ذریعے شہریوں کو اپنی قانونی ملکیت والی زمین اور جائیداد کے تحفظ کا اختیار دیا گیا۔ یاد رہے کہ یہ آرڈیننس 31 اکتوبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے منظور کیا تھا، جس کے تحت زمین سے متعلق تنازعات کو 90 دن کے اندر حل کرنا لازم قرار دیا گیا تھا۔ اس معاملے پر سینئر صحافی مزمل سہروردی نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ وہ عدالت کی برہمی کو سمجھ سکتے ہیں، لیکن عدالت کو بھی عوام کی برہمی کو سمجھنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی نکات پر بحث نہیں کرنا چاہتے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ لوگ زمینوں پر قبضوں سے تنگ آ چکے ہیں اور عدالتوں سے انہیں بروقت انصاف نہیں مل رہا۔

مزمل سہروردی کے مطابق انہیں چیف جسٹس کا بہت احترام ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کا جوڈیشل سسٹم عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معزز چیف جسٹس کو یہ حقیقت بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ انصاف میں تاخیر، انصاف کے قتل کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق جب پاکستان کی عدالتوں میں روزانہ انصاف میں تاخیر ہو رہی ہے تو درحقیقت انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ جب جج صاحبان تاریخ پر تاریخ ڈالتے ہیں تو ملک میں انصاف کے حصول میں مزید تاخیر ہوتی ہے، اور جب جب انصاف میں تاخیر ہوتی ہے، تب تب انصاف کا قتل ہوتا ہے۔

مزمل سہروردی نے چیف جسٹس کے اس مؤقف پر بھی بات کی کہ سرکاری افسران درست انصاف نہیں کر سکتے اور غلط قبضے دلوائے جا سکتے ہیں، کیونکہ پٹواری خود قبضہ گروپوں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس دلیل کو نہ درست کہتے ہیں اور نہ غلط، کیونکہ یہ چیف جسٹس کے ریمارکس ہیں اور ان کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عدالتوں سے کبھی غلط فیصلے نہیں ہوتے؟ کیا وہاں قبضہ گروپ جعلی کاغذات کے ذریعے مقدمات نہیں جیت جاتے؟ کیا وہاں حق داروں کی حق تلفی نہیں ہوتی؟ ان کے مطابق غلطی کا امکان دونوں طرف موجود ہو سکتا ہے اور عدالتیں یہ دعویٰ نہیں کر سکتیں کہ ان سے کبھی غلطی نہیں ہوتی۔

مریم نواز اورلاہورہائیکورٹ آمنےسامنے کیوں آگئے؟

مزمل سہروردی کا کہنا تھا کہ اصل سوال جلد انصاف کی فراہمی کا ہے۔ ان کے مطابق بہتر یہ ہوتا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اس قانون کو معطل کرتے ہوئے اپنی سول عدالتوں کو یہ ہدایت بھی جاری کرتیں کہ زمینوں کے تنازع سے متعلق تمام مقدمات کے فیصلے 30 دن کے اندر کیے جائیں، طویل عرصے سے جاری تمام حکمِ امتناعی ختم کیے جائیں، اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی شخص کسی کی زمین پر ناجائز قابض ہے تو اسے جیل بھیج کر اس کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ ہدایت بھی دیتیں کہ سول عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دس دن میں سنی جائیں اور ان پر فیصلہ کیا جائے۔

مزمل سہروردی کے مطابق اگر ایسا کیا جاتا تو چیف جسٹس اس قانون کو معطل کرتے ہوئے پنجاب کے عوام کو یہ واضح پیغام دیتیں کہ عدالتیں انہیں جلد انصاف فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں، اس لیے عدالتوں کے متوازی کسی قانون کی ضرورت نہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں، ان کے بقول، نہ تو عدالتوں سے مقدمات کے فیصلے ہو رہے ہیں اور نہ ہی حکومت کو کوئی عملی اقدام کرنے دیا جا رہا ہے، جس سے عوام مزید مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔

Back to top button