پراپرٹی قانون پر مریم حکومت کا موقف درست ہے یا جسٹس عالیہ کا؟

لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کی جانب سے پنجاب حکومت کے نافذ کردہ پراپرٹی پروٹیکشن آرڈیننس کی معطلی نے نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ سیاسی اور عوامی سطح پر بھی گہرے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے اپنے تجزیے میں عدالتی فیصلے کو محض ایک تکنیکی قانونی معاملہ قرار دینے کے بجائے ریاستی اداروں کے باہمی تعلق، عدلیہ کے کردار اور عوامی توقعات کے تناظر میں ایک دور رس پیش رفت قرار دیاہے۔

نصرت جاوید کے مطابق لاہور ہائی کورٹ سے آنے والا حکم نامہ اور اس سے قبل چیف جسٹس کی جانب سے بھری عدالت میں جاتی عمرا کے حوالے سے دیے گئے سخت ریمارکس غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ قانون پنجاب حکومت نے اکتوبر میں آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا تھا اور غیر معمولی عجلت میں دسمبر کے دوسرے ہفتے صوبائی اسمبلی سے منظور بھی کرا لیا تھا۔ حکومت کا دعویٰ تھا کہ اس قانون کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں زمینوں پر ناجائز قبضوں کے دیرینہ مسئلے کا خاتمہ ہے، جو برسوں سے عام شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنا ہوا تھا۔

نصرت جاوید کہتے ہیں کہ بطور صحافی وہ خود اس قانون کی تفصیلات سے زیادہ واقف نہیں تھے۔ تاہم لاہور ہائی کورٹ کے تحریری حکم کے بعد انہوں نے خود اس قانون کے مسودے کو پڑھا، جسے تین ماہ سے بھی کم عرصے میں تیار، نافذ اور منظور کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ عدالتی برہمی کو درست یا غلط قرار دیں، لیکن اس پورے عمل نے ان کے ذہن میں کئی خدشات کو جنم دیا ہے۔ نصرت جاوید کے مطابق یورپ میں مقیم ان کے ایک قریبی دوست کئی دہائیوں بعد پاکستان آئے اور پنجاب کے مختلف شہروں میں انہوں نے صوبائی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں عوامی رائے جاننے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، سیاسی اختلافات کے باوجود بہت سے لوگ جرائم پیشہ افراد کے پولیس مقابلوں میں پار کیے جانے اور زمینوں پر ناجائز قبضے کے خلاف بنائے گئے قانون سے مطمئن نظر آئے۔ نصرت جاوید کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں بھی یہی قانون سب سے زیادہ مقبول تھا، کیونکہ وہ اکثر اپنی جائیدادوں پر قبضے کے خدشات کا شکار رہتے ہیں۔

نصرت جاوید اس نکتے کی جانب بھی توجہ دلاتے ہیں کہ عدالتی ریمارکس اور قانون کی معطلی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حالیہ آئینی ترامیم کے بعد عدلیہ کے اختیارات محدود ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق چیف جسٹس کی جانب سے دیے گئے سخت ریمارکس کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ عدلیہ اب بھی انتظامیہ کے اقدامات پر سوال اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں چیف جسٹس افتخار چودھری کے دور میں عدلیہ کو انتظامیہ پر جو بالادستی حاصل تھی، وہ دور اب ختم ہو چکا ہے، لیکن حالیہ اقدام اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش محسوس ہوتا ہے کہ عدلیہ مکمل طور پر غیر مؤثر ہو گئی ہے۔

سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر عدالتی فیصلے کے حوالے سے واضح طور پر دو بیانیے سامنے آئے۔ ایک طبقہ پنجاب حکومت کے نافذ کردہ پراپرٹی پروٹیکشن قانون کا دفاع کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائیوں سے مظلوم عوام کو فوری اور فری انصاف مل رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اس قانون کو آئینی اور قانونی اصولوں سے متصادم قرار دے رہا ہے۔

نصرت جاوید کے مطابق یہ تقسیم خود اس بات کی علامت ہے کہ مسئلہ محض قانونی نہیں بلکہ گہرے سماجی اور سیاسی اثرات رکھتا ہے۔ ان کے مطابق خدشہ یہ ہے کہ زمینوں پر ناجائز قبضوں کے خلاف جو سخت اور غیر معمولی قانونی فریم ورک متعارف کروایا گیا تھا، اس کی معطلی سے ایک بار پھر وہ عناصر مضبوط ہو جائیں گے جن کے خلاف یہ قانون بنایا گیا تھا۔ نصرت کے نزدیک یہ معاملہ صرف ایک قانون کی معطلی تک محدود نہیں بلکہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ ریاست شہریوں کے جان و مال اور جائیدادوں کے تحفظ کے لیے کس حد تک مؤثر اور متوازن نظام قائم کر پاتی ہے۔ انکا کہنا  ہےکہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عالیہ نیلم کا عدالتی فیصلہ آئندہ دنوں میں عدلیہ، انتظامیہ اور عوامی اعتماد کے تعلق پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

Back to top button