کیا ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھر ٹوٹنے والی ہے؟

 

 

ماضی قریب میں متحد ہونے والی ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھر شدید اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔ جس کے بعد ایک بار پھر ایم کیو ایم کے ٹکڑوں میں بٹنے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ تاہم، پارٹی قیادت باہمی اختلافات کو دور کر کے تنظیم کو ایک رکھنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔

مبصرین کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی دھڑے بندی یا گروپنگ کی کہانی خاصی پیچیدہ اور پرانی ہے جو بانی ایم کیو ایم الطاف حسین سے اظہار لاتعلقی کے بعد زیادہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ اصولی طور پر ایم کیو ایم پاکستان میں اتحاد کی کوششوں کی وجہ سے مرکزی دھڑے بندی دب چکی ہیں تاہم پارٹی قائدین کے مابین اندرونی طور پر اختلافات اور رسہ کشی تاحال موجود ہے جبکہ کچھ معاملات پر پارٹی قیادت میں سنجیدہ اختلافات موجود ہیں جو کسی بھی وقت لاوے کی شکل میں پھٹ کر سامنے آ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ایم کیوایم کے مختلف دھڑوں اور گروپوں سے وابستہ افراد کو پارٹی میں اہم عہدے دئیے گئے ہیں جیسا کہ اگر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کنوینیئر اور گورنر سندھ کامران ٹیسوری پارٹی کے اہم ترین رہنماؤں میں شامل ہیں تو وہیں سابق میئر کراچی اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار بھی پارٹی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ تاہم آپس میں عوام کے سامنے شیروشکر ہونے کے باوجود ایم کیوایم رہنماؤں میں اندرونی اختلافات تاحال موجود ہیں اور ان میں ہر گزرت دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے۔ پارٹی کے اندرونی اجلاسوں، تنظیمی تبدیلیوں اور فیصلوں پر سینیئر رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے اختلافات کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

عمران کو راولپنڈی سے کسی دور دراز جیل میں شفٹ کرنے کا امکان

واضح رہے کہ سنہ 2023 میں ایم کیو ایم پاکستان، پاک سر زمین پارٹی پی ایس پی اور تنظیم بحالی کمیٹی جس کی قیادت ڈاکٹر فاروق ستار کرتے تھے نے سندھ کے شہری علاقوں میں اپنی کمزور ہوتی سیاسی قوت کو بحال کرنے کیلئے مل کر آگے بڑھنے کا اعلان کیا تھا۔ ضم ہونے کے بعد مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار دونوں کو ایم کیو ایم پاکستان کے اہم عہدے دیے گئے تھے جس سے یہ تینوں دھڑے ایک مرکزی جماعت کا حصہ بن گئے۔ تاہم ایم کیوایم کے اندرونی ذرائع کے مطابق دھڑوں کے باہمی مختلف دھڑوں کے اتحاد کے باوجود ایم کیو ایم رہنماؤں میں اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہیں اور تنظیمی ڈھانچے میں اہم عہدوں کے لیے ردو بدل اور کشمکش کی خبریں آتی رہتی ہیں لیکن اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے مختلف دھڑے نہ بھی چاہیں تب بھی ان کا ساتھ رہنا مجبوری بن چکا ہے۔ تاہم جہاں تک دھڑوں میں باہمی اختلافات کی بات ہے تو ایم کیو ایم پاکستان میں شامل گروپس وقتاً فوقتاً اپنی طاقت دکھاتے بھی رہیں گے اور کارکنوں کے ذریعہ دباؤ بھی بڑھاتے رہیں گے تا کہ ہر دھڑا پارٹی پر اپنی گرفت قائم کر سکے۔

 

تاہم ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما و ممبر قومی اسمبلی حسان صابر کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم میں کوئی اختلافات نہیں ہیں نظریاتی طور پر سب اکٹھے ہیں گروپ بندی ہر سیاسی جماعت میں ہوتی ہے اسی طرح ایم کیوایم میں بھی مختلف گروپس موجود ہیں اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں ہے۔حسان صابر کے مطابق مختلف معاملات پر پارٹی پالیسی یا کچھ فیصلوں پر پارٹی رہنماؤں میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایم کیو ایم قیادت میں کوئی گہری خلیج موجود ہے۔ یا پارٹی کا شیرازہ دوبارہ بکھرنے والا ہے۔ حسان صابر کے مطابق یوٹیوبرز اپنے ویوز لینے کے چکر میں ایم کیو ایم کے ٹوٹنے کے شوشے چھوڑ رہے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں متحد ہے اور رہے گی، ایم کیو ایم ایک جمہوری جماعت ہے اور اس میں ہر ممبر کو اختلاف رائے رکھنے کا پورا حاصل ہے۔تاہم سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ تاثر بالکل بے بنیاد اور غلط ہے کہ  ایم کیو ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

Back to top button