کیا پاکستان بھی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنے جا رہا ہے؟

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ کی زیر قیادت کام کرنے والی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار کے بعد عالمی کرکٹ ایک نئے بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سب سے اہم سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا پاکستان واقعی بنگلہ دیش کی حمایت میں ورلڈ کپ 2026 میں شرکت سے انکار کر دے گا۔
ڈھاکہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبل نے مشیر برائے کھیل آصف نذرل کے ہمراہ بھارت میں ورلڈ کپ میچز نہ کھیلنے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ انکا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اپنی ٹیم اور کھلاڑیوں کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور اسی بنیاد پر بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار کیا گیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا جب ایک روز قبل آئی سی سی نے اپنی بورڈ میٹنگ میں بنگلہ دیش کو بھارت میں ورلڈ کپ کھیلنے یا نہ کھیلنے سے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے 24 گھنٹے کی مہلت دی تھی، تاہم بی سی بی نے اس مہلت کے ختم ہونے سے پہلے ہی اپنا مؤقف واضح کر دیا۔ مشیر برائے کھیل آصف نذرل نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حکومت کا فیصلہ بالکل واضح ہے اور بنگلہ دیش کی ٹیم انڈیا میں نہیں کھیلے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کے سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، حالانکہ کھلاڑیوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ آصف نذرل کے مطابق کسی دباؤ کے سامنے سر جھکا کر اپنے کھلاڑیوں کو ممکنہ خطرات سے دوچار کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہو سکتا، اسی لیے حکومت اور کرکٹ بورڈ دونوں اس معاملے پر یکسو ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس فیصلے سے قبل کھلاڑیوں سے ذاتی طور پر بات چیت کی گئی تھی۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبل نے کہا کہ انکا بورڈ ایک بار پھر آئی سی سی سے رابطہ کرے گا اور اپنا مؤقف دہرائے گا کہ وہ بھارت کے بجائے سری لنکا میں ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق بنگلہ دیش آئی سی سی کا حصہ رہتے ہوئے حل چاہتا ہے، تاہم سیکیورٹی کے معاملے پر کوئی لچک نہیں دکھائی جائے گی۔
دوسری جانب آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ تعمیری مذاکرات میں مصروف ہے تاکہ ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش کی شمولیت یقینی بنائی جا سکے۔ آئی سی سی کے مطابق اس دوران آزادانہ سیکیورٹی جائزے اور بھارتی حکام کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی کی یقین دہانیاں بھی بی سی بی کے ساتھ شیئر کی گئیں، جن سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ بھارت میں بنگلہ دیشی ٹیم کو کوئی مستند خطرہ درپیش نہیں۔
آئی سی سی نے یہ بھی کہا کہ اس کی تمام تر کوششوں کے باوجود بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اپنے مؤقف پر قائم ہے اور وہ ٹورنامنٹ میں شرکت کو ایک ایسے واقعے سے جوڑ رہا ہے جو ڈومیسٹک لیگ کے دوران پیش آیا تھا۔ آئی سی سی کے مطابق آزاد سیکیورٹی جائزے کی عدم موجودگی میں میچز کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنا ممکن نہیں اور ایسا کرنے سے نہ صرف دیگر ٹیموں بلکہ دنیا بھر میں شائقین کے لیے بھی شیڈول اور لاجسٹک مسائل پیدا ہوں گے۔ یہ تنازع ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تناؤ میں اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ہندو شہری کی ہلاکت نے صورت حال کو مزید خراب کر دیا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر تعلقات بگاڑنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں اور سفارتی سطح پر احتجاجی پیغامات کا تبادلہ بھی جاری ہے۔
ان حالات میں پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہلے ہی آئی سی سی کو ایک باضابطہ خط ارسال کر دیا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے سیکیورٹی خدشات بالکل جائز ہیں اور پاکستان اس معاملے میں بی سی بی کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر بنگلہ دیش کو دباؤ کے ذریعے ورلڈ کپ سے باہر کرنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان بھی اس ٹورنامنٹ میں شرکت پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے یہ پیغام دراصل آئی سی سی کے لیے ایک واضح انتباہ ہے کہ معاملے کو محض انتظامی یا شیڈولنگ مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ پاکستان پہلے ہی یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باعث اپنے ورلڈ کپ میچز انڈیا کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گا، اور اسی تناظر میں بنگلہ دیش کے تحفظات کو بھی منطقی اور قابلِ فہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ سات فروری 2026 سے شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش کے انکار اور پاکستان کی حمایت کے بعد یہ معاملہ صرف ایک ٹیم کے سیکیورٹی خدشات تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی کرکٹ کے سب سے بڑے ایونٹ کی ساکھ، غیر جانبداری اور فیصلہ سازی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ آنے والے دنوں میں آئی سی سی کے فیصلے اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ تنازع مذاکرات کے ذریعے حل ہوتا ہے یا عالمی کرکٹ ایک بڑے بحران کی طرف بڑھتا ہے۔
