پاکستان بطور ثالث دشمن زیادہ بنا رہا ہے یا دوست؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ بطور ثالث پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بندی کی کوششیں پاکستان کے کئی دوستوں کو دشمنوں میں بدل رہی ہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ مسلم دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہے جس نے حق اور سچ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے تین الفاظ نے 4 اپریل کو دنیا بھر کے میڈیا میں تہلکہ مچا دیا کیونکہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کئے گئے اپنے بیان کا اختتام انہی تین الفاظ پر کیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان کیساتھ ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی جس میں ایرانی عوام تہران کی سڑکوں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ عباس عراقچی نے اپنے اس بیان میں امریکی میڈیا کی ان خبروں کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی قیادت نے امریکا کیساتھ مذاکرات کیلئے اسلام آباد آنے سے انکار کر دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی میڈیا ایران کے موقف کو درست انداز میں پیش نہیں کر رہا ،ہم قیام امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کے شکر گزار ہیں لیکن ہمیں مذاکرات کو نتیجہ خیر بنانے کیلئے ضمانت چاہئے ۔ یہ بیان ایک ایسے وزیر خارجہ نے جاری کیا تھا جسکی کتاب کا نام ہی ’مذاکرات کی طاقت‘ہے اور اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے ۔ عباس عراقچی نے مذاکرات کی طاقت سے امریکا سے معاملات طے کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ وہ 2025ء اور پھر فروری 2026ء میں امریکا کیساتھ ہونیوالے مذاکرات میں شامل تھے۔ 2025ء میں مذاکرات کے دوران امریکا نے اسرائیل کیساتھ ملکر ایران پر حملہ کر دیا اور 2026ء میں بھی امریکا نے مذاکرات کو ایک دھوکے کے طور پر استعمال کیا۔ دو مرتبہ دھوکہ کھانے کے بعد بھی ایرانی مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن انہیں ضمانت چاہئے کہ تیسری بار مذاکرات کے نام پر ان کیساتھ دھوکہ نہیں ہو گا۔ عباس عراقچی کا مسئلہ پاکستان نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دغا بازی اور مکر و فریب ہے۔
حامد میر کے بقول یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے ایکس پر امریکی میڈیا کی جھوٹی خبروں کی تردید کی تو پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر اُنکا شکر یہ ادا کیا
عراقچی کے بیان میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے الفاظ کا ایک لمبا پس منظر ہے۔ عباس عراقچی ایسے بہت سے واقعات کے عینی شاہد ہیں جن میں پاکستان نے جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی جنگ رکوانے کی کوشش کی اور جنگ شروع ہونے کے بعد بھی جنگ بندی کیلئے بھر پور کوشش کی۔28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے سے کئی دن قبل عباس عراقچی کو پاکستان کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا تھا کہ وزیر اعظم شہبازشریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اسحاق ڈار تہران آنا چاہتے ہیں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اہم افراد سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایران پر ایک اور حملے کے خطرے کو ٹالا جائے۔ ایران کی طرف سے پاکستان کے اس پیغام کا ابھی حتمی جواب نہیں آیا تھا کہ جنگ شروع ہو گئی۔ جب جنگ شروع ہوئی تو اسحاق ڈار عمرے کیلئےسعودی عرب میں تھے ۔ انہوں نے فوری طور پر ایران کیخلاف حملے کی مذمت میں بیان جاری کر دیا ۔ جب ایران نے اپنے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے شروع کر دیئے تو اسحاق ڈار نے ان حملوں کی بھی مذمت کردی ۔
اس دوران اسحاق ڈار نے ٹیلیفون پر عباس عراقچی سے رابطہ کیا اور ایران پر حملے کی مذمت کیساتھ ساتھ انہیں یاد دلایا کہ پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی تعاون کا معاہدہ ہے اسلئے ایران پاکستان کو کسی امتحان میں نہ ڈالے۔ عباس عراقچی نے ڈار کو یقین دلایا کہ اگر سعودی عرب کی فضائی حدود سے ایران پر کوئی حملہ نہ ہوا تو ایران بھی سعودی عرب پر کوئی حملہ نہیں کریگا۔ اسحاق ڈار نے عباس عراقچی سے پوچھا کہ کیا میں یہ پیغام سعودی حکومت کو دیدوں؟ عباس عراقچی نے اثبات میں جواب دیا۔ ڈار صاحب نے یہ پیغام سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کو دیدیا۔ کچھ دنوں بعد 18 مارچ کو ریاض میں سعودی عرب، قطر، بحرین، یو اے ای، کویت، ،مصر، اردن، شام، آذربائیجان، لبنان، ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ اکٹھے ہوئے تاکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کا کوئی راستہ نکالا جا سکے۔ 12ممالک کے وزرائے خارجہ کے باقاعدہ اجلاس سے قبل ترکی اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ایک دو طرفہ ملاقات جاری تھی۔ ترک وزیر خارجہ حاکان فیدن نے اسحاق ڈار کو بتایا کہ اسرائیل کی طرف سے ترکی کو جنگ میں گھسیٹنے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کئے جا رہے ہیں۔ ملاقات کے دوران اُنکے موبائل فون کی گھنٹی بجی تو انہوں نے اسحاق ڈار سے اجازت لیکر یہ فون سننا شروع کر دیا اور پھر فون کا سپیکر کھول دیا ۔ دوسری طرف عباس عراقچی تھے ۔تینوں میں گفتگو شروع ہو گئی۔ ڈار صاحب نے عباس عراقچی کو بتایا کہ سعودی عرب پر بدستورحملے جاری ہیں اور اسوقت بھی ریاض میں سائرن بج رہے ہیں آپ سائرن کی آوازیں سُن سکتے ہیں ۔ عباس عراقچی نے دونوں دوستوں کو یقین دلایا کہ ہم نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن مذاکرات کے نام پر کسی دھوکے کیلئے تیار نہیں۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ اس کے تھوڑی دیر بعد 12 وزرائے خارجہ کا اجلاس شروع ہو گیا۔ اس اجلاس میں کچھ وزرائے خارجہ جنگ بندی کی بجائے ایران کیخلاف ایک مشترکہ مذمتی بیان جاری کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہے تھے ۔ اسحاق ڈار نے اجلاس کے شرکاء سے گزارش کی کہ صرف ایران کی نہیں اسرائیل کی مذمت بھی ضروری ہے کیونکہ حملہ ایران نے نہیں بلکہ اسرائیل نے کیا ہے۔ کچھ دیر میں ایک تفصیلی بیان کا ڈرافٹ سامنے آیا تو اس میں صرف ایران کی مذمت کی گئی تھی۔ اسرائیل کی مذمت میں ایک لفظ نہیں تھا۔ اسحاق ڈار نے اس بیان کی تائید سے انکار کر دیا ۔ ترک وزیر خارجہ اور لبنان کے وزیر خارجہ یوسف راجی نے بھی ڈار صاحب کی تائید کی حالانکہ لبنان کی مورونائیٹ مسیحی کمیونٹی کا نمائندہ راجی ایران کا سخت مخالف ہے۔ اس موقع پر ایک خلیجی ملک کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران جو ہمارے ساتھ کر رہا ہے اسکے بعد تو ہم چاہتے ہیں اُس کیخلاف ایٹم بم استعمال کیا جائے۔ یہ وہ موقع تھا جب پاکستان اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے اس وزیر خارجہ سے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
ایرانی مزاحمت نے صدر ٹرمپ کو شدید مشکل میں کیسے ڈال دیا؟
اسحاق ڈار نے تمام شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایٹم بم سے پوری ایرانی قوم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل نے ایران سے فارغ ہو کر باری باری تمام خلیجی ممالک کا رخ کرنا ہے کیونکہ نیتن یاہو گریٹر اسرائیل بنانا چاہتا ہے۔ بہت بحث مباحثے کے بعد مشترکہ بیان کے ایک نئے ڈرافٹ میں اسرائیل کی مذمت شامل کردی گئی۔ اس سلسلے میں سعودی عرب نے اسرائیل کی حمایت کرنیوالے ایک خلیجی ملک کو بڑی مشکل سے راضی کیا۔ اس اجلاس کے چند دن بعد اسلام آباد میں چار ممالک کے وزرائے خارجہ دوبارہ اکٹھے ہوئے اور جنگ بندی کیلئے مزید تجاویز پر غور ہوا۔اس اجلاس کے بعد چین نے پاکستان سے رابطہ کیا پھر اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ پائی کے ساتھ ملکر جنگ بندی کیلئے پانچ نکاتی فارمولا پیش کیا ۔ اس فارمولے میں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے علاوہ اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی شامل تھاجس پر ٹرمپ انتظامیہ راضی نظر نہیں آتی ۔
حامد میر کے بقول پاکستان اور چین کے اس پانچ نکاتی فارمولے کو عالمی سطح پر بھر پور پذیرائی ملی تو ٹرمپ انتظامیہ بوکھلا گئی کیونکہ امریکی عوام کی اکثریت بھی ایران کیخلاف اس جنگ کی مخالفت کر رہی ہے ۔ مذاکرات کا جو بھی راستہ نکلے گا وہ اسی پانچ نکاتی فارمولے سے نکلے گا۔عباس عراقچی اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان نے کس کس کو ناراض کر کے جنگ بندی کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ اسلئے لگایا ہے کہ ریاض میں 12 ممالک کے اجلاس میں خلیجی ممالک کو گریٹر اسرائیل کی سازش سے ہوشیار کرنے کی جرات صرف اور صرف پاکستان نے کی ہے۔
