سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ پاکستان کے گلے پڑنے کا خطرہ؟

معروف تجزیہ کار اور تحریک انصاف سے ہمدردی رکھنے والے کیپٹن ریٹائیرڈ ایاز امیر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کرکے پاکستان بری طرح پھنس چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں ایران سعودی عرب کشیدگی بڑھنے پر پاکستان کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ ایاز امیر کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان ممکنہ تناؤ میں شدت آنے پر پاکستان کیلئے دونوں ممالک میں توازن برقرار رکھنا انتہائی دشوار ہو جائے گا۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو پاکستان کو اس معاہدے کے باعث سخت سفارتی اور تزویراتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی، معاشی مجبوریوں اور عالمی طاقتوں کے سامنے اختیار کی جانے والی سفارتی حکمتِ عملی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کیپٹں ریٹائرڈ ایاز امیر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری یہ نہیں کہ ملک کو مالی مشکلات درپیش ہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی کمزوریوں کو اس حد تک بڑھا لیا ہے کہ قومی وقار اور سفارتی توازن بھی متاثر ہونے لگا ہے۔ ایاز امیر کے مطابق پاکستان کی معیشت اس حد تک بیرونی امداد اور قرضوں پر منحصر ہو چکی ہے کہ اگر دوست ممالک ایک یا دو ارب ڈالر کا سالانہ رول اوور نہ کریں تو معیشت فوری دباؤ میں آ جاتی ہے۔ ایاز امیر کا ماضی قریب میں وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریفوں کے پل باندھنے کے عمل کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہنا ہے کہ ٹرمپ جیسے متنازع عالمی رہنما کو “مردِ امن” قرار دینا اور فخر کے ساتھ انہیں نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرنے کا اعلان کرنا پاکستان کی سفارتی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں لکھتے ہیں کہ اگر امریکی صدر کو خوش کرنا ہی مقصد ہے تو پھر اسی منطق کے تحت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی نوبل امن انعام کیلئے نامزد کر دینا چاہیے۔ ان کے مطابق کسی عالمی طاقت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ایک الگ بات ہے، مگر خوشامد کی بھی ایک حد ہونی چاہیے۔
دنیا کے مختلف ممالک سے تعلقات کے تناظر میں ایاز امیر کا پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ماضی میں جب سعودی بادشاہ پاکستان آتے تھے تو ملاقاتوں میں برابری کا تاثر محسوس ہوتا تھا لیکن اب صورتحال مختلف ہے اور پاکستان کی معاشی کمزوریوں کے باعث سفارتی توازن بھی متاثر ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف عرب ممالک کی دولت میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کی اپنی داخلی ناکامیوں کا بھی نتیجہ ہے۔ ایاز میر ایک تاریخی مثال دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جنرل یحییٰ خان کے دور میں مراکش کے شہر رباط میں اسلامی سربراہی کانفرنس کے دوران بھارت کو مبصر کے طور پر مدعو کیا گیا تھا، مگر پاکستان کے سخت مؤقف کے باعث یہ دعوت واپس لینا پڑی۔ ان کے مطابق اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت پاکستان کی سفارتی حیثیت زیادہ مضبوط تھی۔ تاہم اب حالت بہت پتلی ہو چکی ہے۔
ایران کا ہتھیار ڈالنے سے انکار، امریکہ اور اسرائیل برے پھنس گئے
اپنے سیاسی تجزیے میں ایاز امیر کا حالیہ پاکستان سعودی دفاعی معاہدے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہنا ہے کہ اس معاہدے کے پس منظر میں بھی پاکستان کی معاشی مجبوریوں کا عنصر موجود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عملی طور پر سعودی عرب پاکستان کی عسکری مشکلات میں براہِ راست مدد فراہم نہیں کر سکتا، کیونکہ پاکستان کو جن جغرافیائی خطرات کا سامنا ہے وہ مختلف نوعیت کے ہیں۔ ان کے مطابق اس معاہدے کا اصل تناظر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک مشکل سفارتی صورتحال میں پھنس سکتا ہے۔ اگر ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو پاکستان کیلئے دونوں جانب توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ایاز میر کے بقول پاکستان کو اپنی معاشی مجبوریوں کے باوجود قومی وقار اور اصولی موقف کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا، کیونکہ صرف عملی سیاست اور مصلحت پسندی پر مبنی خارجہ پالیسی طویل مدت میں ملک کیلئے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
