کیا پاکستان TTP کو توڑنے کے لیے افغانستان پر حملہ کرنے والا ہے؟

بین الاقوامی شہرت یافتہ تھنک ٹینک انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے پاکستان کے اس موقف کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کے 2021 میں برسراقتدار آنے کے بعد دہشت گردی کی سب سے بھاری قیمت پاکستان نے ادا کی ہے۔ تھنک ٹینک کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی میں ریکارڈ اضافہ براہِ راست افغانستان میں موجود تنظیم تحریک طالبان کے منظم نیٹ ورک کا نتیجہ ہے، جسے افغان طالبان حکومت کی عملی سرپرستی حاصل ہے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی محض داخلی سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سرحد پار سکیورٹی چیلنج بن چکی ہے، جس کی جڑیں افغانستان میں موجود تحریک طالبان جیسے ان دہشت گرد گروہوں تک جاتی ہیں جنہیں نہ صرف پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ مالی معاونت اور ہتھیاروں تک رسائی بھی حاصل ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی حکومت، جسے پاکستان مخالف اور بھارت نواز دھڑوں کے اثر و رسوخ کا سامنا ہے، ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے مسلسل گریزاں ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ پاکستان پر دہشت گرد حملوں کا خاتمہ ہو۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بارہا مذاکرات، سفارتی رابطوں اور براہِ راست مطالبات کے باوجود افغان طالبان حکومت نے ٹی ٹی پی کے دہشت گرد نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد اور ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا۔ چنانچہ پاکستانی فیصلہ سازوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے اور اب واضح امکان ہے کہ اگر سرحد پار سے حملے جاری رہے تو پاکستان افغانستان کے اندر براہِ راست فوجی کارروائیاں شروع کر دے۔
بیلجیم کے شہر برسلز میں قائم انٹرنیشنل کرائسز گروپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستانی حکام کو افغانستان سے شدت پسندوں کے کسی مزید دہشت گرد حملے کا قابلِ اعتبار سراغ ملا تو پاکستانی فوج سرحد پار اہداف کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کرے گی۔
رپورٹ یاد دلاتی ہے کہ ماضی قریب میں جب خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کی دہشت گردی نے سنگین صورت اختیار کر لی تھی تو پاکستانی فضائیہ نے پاک-افغان سرحد کے اندر دہشت گرد ٹھکانوں پر بمباری کی تھی۔ یہ کارروائیاں تب روکی گئیں جب قطر اور ترکی نے دونوں نیوکلیئر ممالک کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کرنے کا اعلان کیا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی تو ہو گئی لیکن نتیجہ کوئی نہ نکلا۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کی بنیادی وجہ افغان طالبان کا تحریک طالبان کے خلاف کریک ڈاؤن سے انکار ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2022 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی میں غیر معمولی تیزی آئی ہے، اور صرف سال 2025 کے دوران 600 سے زائد پاکستانی فوجی اور پولیس اہلکار عسکریت پسند حملوں میں شہید ہوئے۔
ان میں سے زیادہ تر حملے افغانستان سے ملحقہ پاکستانی صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کیے گئے، جہاں ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسند گروہ متحرک ہیں۔
پاکستان ان حملوں کا ذمہ دار تحریک طالبان اور بلوچ باغی تنظیموں کو ٹھہراتا ہے، اسلام آباد کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اس کا روایتی حریف انڈیا ان دہشت گرد گروپس کو خفیہ مالی مدد فراہم کرتا رہا ہے تاکہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔
انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے مطابق اقوام متحدہ کے نگران ادارے واضح طور پر یہ کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے، تاہم افغان طالبان حکومت اس کی عوامی سطح پر تردید کرتے ہیں اور پاکستان میں دہشت گردی کو ایک داخلی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ 8 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے افغانستان سے متصل ایک ضلع میں ٹی ٹی پی کے حملے میں 11 پاکستانی فوجی اہلکاروں کی شہادت کے بعد پاکستان نے افغانستان میں سرحد پار فضائی حملے کیے، جن میں کابل پر پاکستان کا پہلا براہِ راست حملہ بھی شامل تھا۔ ان حملوں میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن اس کی موت کی تصدیق نہیں ہو پائی۔ افغان حکومت نے ان حملوں کا جواب پاکستان کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنا کر دیا، جسکے نتیجے میں دونوں جانب فوجی اور سویلین جانی نقصان ہوا۔
اگرچہ افغان طالبان حکومت کو اب تک دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا، لیکن اس کی پاکستان فوج کے خلاف جوابی کارروائیاں خاصی مہلک ثابت ہو رہی ہیں۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ اسکے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو پاکستانی شہروں تک مار کر سکتے ہیں، تاہم ان کے استعمال ہونے کی صورت میں پاکستان کا ردعمل کہیں زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کی رپورٹ میں جنوبی ایشیا کی سکیورٹی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے خارجہ تعلقات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ 2025 میں پاکستان کو افغانستان اور بھارت دونوں کے ساتھ مختصر جنگوں کا سامنا کرنا پڑا، اور کسی بڑے دہشت گرد حملے کی صورت میں خطے میں موجود نازک امن مکمل طور پر ٹوٹ سکتا ہے۔
پاکستان افغانستان میں مفاہمت کی رہی سہی امیدیں بھی ختم
ادھر پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ دشمنی نہیں چاہتا، لیکن دوطرفہ تعلقات میں بہتری کا انحصار کابل پر ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ پاکستان کے تحفظات صرف سکیورٹی سے متعلق ہیں، نہ کہ سیاسی یا نظریاتی اختلافات سے۔ انہوں نے بتایا کہ سفارتی رابطے بدستور قائم ہیں اور پاکستان چین اور افغانستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات سمیت تمام علاقائی فورمز میں افغانستان کی مثبت شمولیت کا حامی ہے۔ ترجمان کے مطابق، اگر کابل کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدہ اقدامات کے ذریعے حل کر لیا جائے تو پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت اور تعاون کے زبردست امکانات موجود ہیں، لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا، حکومت پاکستان کے لیے قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں۔
