کیا پاکستان اب بھی جموں کشمیر میں دہشت گرد بھیج رہا ہے؟

بھارتی فوج کے سربراہ اوپیندر دویدی نے کشمیر کی سرحد سے پاکستانی دہشت گردوں کی درا اندازی میں اضافے کا الزام عائد کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ انہیں نے یہ درندازی روکنے کے لیے 15 ہزار اضافی فوجی سرحد پر تعینات کرنے پڑے ہیں۔ تاہم پاکستان نے اس الزام کو سختی سے رد کرتے ہوئے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کار بھارتی فوجی سربراہ کے الزام کو مودی حکومت کے پاکستان مخالف بیانیے کی ایک کڑی قرار دے رہے ہیں۔
اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں جنرل دِویدی نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان اب بھی انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جنگجو بھیجنے سے باز نہیں آ رہا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ 2024 میں مارے گئے 73 دہشت گردوں میں سے 60 فیصد پاکستانی تھے جبکہ اب بھی کشمیر میں جو دہشتگرد سرگرم عمل ہیں ان میں 80 فیصد پاکستانی ہیں۔ بھارتی آرمی چیف نے اعدادوشمار دیتے ہوئے بتایا کہ 2024 میں جموں کشمیر کے 10 میں سے آٹھ اضلاع میں مسلح حملے ہوئے جن میں 18 فوجیوں اور 13 مسلح عسکریت پسندوں سمیت 44 افراد مارے گئے۔ اس دوارن انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی چند حملے ہوئے لیکن وادی میں مجموعی طور پر حالات پرسکون ہی رہے۔ فوجی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایسے حملے پاکستان کی جانب سے مسلح دراندازی کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔
انڈین فوج کے سربراہ کے مطابق لائن آف کنٹرول پر مؤثر جنگ بندی کے باوجود مسلح عسکریت پسندوں کی دراندازی کا سلسلہ جاری ہے اور ’دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ‘ اب بھی موجود ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اگر مسلح گروپوں کو پاکستان کی حمایت جاری رہی تو ایل او سی پر دراندازی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تاہم سرحدی علاقوں میں 15 ہزار اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد مسلح تشدد میں معنی خیز کمی آئی ہے۔‘ فوجی سربراہ نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ جموں کشمیر میں ’ٹیرراِزم کی جگہ ٹوراِزم فروغ پائے تاکہ علاقے کی معیشت بہتر ہو پائے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا ماضی میں تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد ایسے مواقع بھی آئے جب یہ دونوں چوتھی باقاعدہ جنگ کے دہانے سے واپس پلٹے۔ نیوکلیئر پاور رکھنے والے دونوں ہمسایہ ممالک ایک دوسرے پر دہشتگردی پھیلانے کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ برس دسمبر کے آخری ہفتے میں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دعویٰ کیا تھا کہ اس برس انڈیا نے 25 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔ تجزیہ کار اور مبصرین انڈین فوج کے سربراہ جنرل دِویدی کے بیان کو وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے بیانیے کی ہی ایک کڑی قرار دے رہے ہیں۔
کشمیر امور کے ماہر اور مصنف غلام رسول شاہ نے بتایا کہ ’کئی برسوں سے پاکستان کے تئیں انڈیا کی فوجی اور سِول قیادت کا لہجہ نرم ہے۔ جنرل دِویدی دراصل ان اعداد و شمار سے یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ کشمیریوں کی اکثریت نے موجودہ صورتحال کو تسلیم کیا اور وہ تعمیر و ترقی اور سیاحت کو ترجیح دینے لگے ہیں۔‘
خیال رہے وزیر اعظم مودی کی حکومت نے اگست 2019 میں انڈین آئین سے آرٹیکل 370 کا حذف کردیا تھا جس کے تحت اس کے زیرِ انتظام کشمیر کو نیم خودمختار حیثیت اور خصوصی اختیارات حاصل تھے۔ اس شق کے خاتمے کے بعد انڈیا کے تمام مرکزی قوانین ریاستی اسمبلی کی منظوری کے بغیر کشمیر میں نافذ ہو گئے تھے۔ غلام رسول شاہ کا کہنا ہے کہ اب انڈین فوج کی توجہ کا مرکز چین ہے۔
انکا کہنا تھا کہ جنرل دِویدی نے اسی پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ لداخ میں چینی سرحد پر حالات حساس ہیں اور اس بات پر انڈیا میں سب کا اتفاق ہے کہ انڈیا بیک وقت دو محاذوں پر نہیں لڑ سکتا۔‘ انڈیا اور چین کے تعلقات میں بھی گذشتہ کئی برس سے تناؤ پایا جاتا ہے اور وزیر اعظم مودی کی حکومت نے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع گاندربل میں لداخ ہائی وے پر ایک سُرنگ بھی بنائی ہے جسے انڈین افواج کو چینی سرحد تک فوری رسائی کے حولے سے ایک اہم ترین دفاعی منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم دیگر سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل دِویدی کے بیان کی سیاسی اہمیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ’یہ اہم نہیں کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں متحرک عسکریت پسند کتنے پاکستانی ہیں یا کشمیری۔ اہم بات یہ ہے کہ فوج کے سربراہ نے اشارہ دیا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی اب ان کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں بلکہ اب اصل چیلنج چین ہے۔
پاکستان میں دہشت گردوں نے واردات کا طریقہ کیوں بدل لیا؟
لیکن اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ گزشتہ چند برس کے دوران انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایل او سی کے قریبی علاقوں یہاں تک کہ ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلح حملوں کے بعد انڈین سکیورٹی اداروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ پچھلے چار برس میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جھڑپوں میں مارے گئے عسکریت پسندوں کی لاشیں ان کے خاندان والوں کو نہیں دی جاتیں بلکہ انھیں سرحدی علاقوں میں پولیس کی نگرانی میں دفنایا جاتا ہے۔
ایسے میں کچھ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ مارے گئے عسکریت پسند کشمیری تھے یا پاکستانی۔ جب کوئی غیرکشمیری عسکریت پسند بھی مارا جاتا ہے تو صرف یہ کہا جاتا ہے کہ ایک غیر ملکی دہشتگرد مارا گیا، کوئی شناخت ظاہر نہیں کی جاتی۔ لہازا کیسے پتا چلے کہ مارا گیا عسکریت پسند پاکستانی تھا یا کشمیری؟‘
