کیا پرویز خٹک ن لیگ میں شامل ہو کر گنڈاپور سے ٹکر لینے والے ہیں؟

وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں عمران خان کو اپنے ہی مہروں سے شکست فاش دینے کی نئی حکمت عملی مرتب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق مقتدر قوتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد سابق وزیر دفاع و وزیرا علیٰ اور عمران خان کے سابق قریبی ساتھی پرویز خٹک سے ایک بار پھر سیاست میں سرگرم ہو گئے ہیں۔ اور ممکنہ طور پر جلد ہی ن لیگ میں شمولیت اختیار کرکے صوبے کی سیاست میں فعال نظر آئیں گے۔ مبصرین کے مطابق پرویز خٹک کو سیاسی جوڑ توڑ کا گرو مانا جاتا ہے ان کے خیبرپختونخوا میں متحرک ہونے کے بعد خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی ٹوٹ پھوٹ میں مزید تیزی دکھائی دے گی اور پارٹی مزید چھوٹے چھوٹے دھڑوں اور گروپوں میں بٹ جائے گی جس سے وفاقی حکومت کیلئے گنڈاپور سرکار کو قابو کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔
پرویز خٹک کے قریبی حلقے بتاتے ہیں کہ خٹک جلد ہی وفاقی کابینہ کا حصہ بن جائیں گے اور اس ضمن میں جلد ان کی وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات ہو گی جو انھیں صوبے کے حوالے سے خصوصی ٹاسک بھی دے سکتے ہیں۔
پرویز خٹک کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ پرویز خٹک اور ان کے بھائی لیاقت خٹک کے درمیان صلح بھی ہو گئی ہے۔ اور وہ پرویز خٹک کی سرپرستی میں کام کرنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ جس کے بعد پرویز خٹک کی سیاسی طاقت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پرویز خٹک سیاست سے دوری کے اعلان کے بعد خاندانی معاملات کو درست کرنے میں مصروف تھے اور آخر کار بھائی کو منانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اب دونوں بھائیوں نے سیاسی محاذ پر اتفاق رائے سے مل کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق چند روز قبل پرویز خٹک نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کی تھی جس کے بعد پرویز خٹک کے دوبارہ سیاست میں سرگرم ہونے کی خبروں کی تصدیق ہوئی تھی۔ حالات سے باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے ایک بار پر پرویز خٹک کو نئے ٹاسک کے ساتھ میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ان کے قریبی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پرویز خٹک جلد باقاعدہ وفاقی کابینہ کا حصہ بن جائیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ پرویز خٹک نے ن لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ چند دنوں میں ان کے بھائی لیاقت خٹک باقاعدہ ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کریں گے جس کے بعد پرویز خٹک خود بھی نون لیگ میں شامل ہو جائیں گے۔ذرائع بتاتے ہیں کہ ن لیگ نے صوبائی صدر امیر مقام کی تجویز پر ہی پرویز خٹک کو نون لیگ میں باقاعدہ شمولیت کی دعوت دی ہے۔ اس سلسلے میں امیر مقام اور پرویز خٹک کی متعدد ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔
تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرویز خٹک کی نون لیگ انٹری سے پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم ملے گا؟
سیاسی منظرنامے سے باخبر ذرائع بتاتے ہیں کہ ن لیگ خیبر پختونخوا میں پارٹی کو مضبوط کرنا چاہتی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی کے اثر کو کم کیا جائے۔ جس کے لیے اب پرویز خٹک کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت پرویز خٹک کے ذریعے صوبے میں حریف جماعت پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینا چاہتی ہے۔ کیونکہ گنڈاپور سرکار عمران خان کی ہدایات پر احتجاجی سیاست میں مصروف ہے اور صوبے میں ترقیاتی کاموں کے لیے وقت اور فنڈز دونوں ایشو ہے اس لئے وفاق نے اب براہ راست صوبے میں کام کرنا کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے پرویز خٹک کو میدان میں اتارا جا رہا ہے کیونکہ وہ صوبے کے سابق وزیراعلی رہے ہیں اس لئے وہ کم وقت میں زیادہ ڈلیور کر سکیں گے۔
عمران اب چوروں اور ڈاکوؤں سے مذاکرات کیلئے ترلے کیوں کر رہے ہیں؟
دوسری طرف بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق پرویز خٹک اب صوبے کے سیاسی منظر نامے سے باہر ہیں اور واپس جگہ بنانا شاید ان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق پرویز خٹک پی ٹی آئی کی وجہ سے ہی کامیاب تھے اور نئی جماعت بنانے کے بعد انھیں اس کا بخوبی اندازہ ہو گیا تھا۔ انھوں نے کہا عام انتخابات سے پہلے پرویز خٹک کا پورا خاندان اقتدار میں تھا تاہم پی ٹی آئی چھوڑنے کے بعد وہ خود ایم این اے تک نہ رہے۔ مبصرین کے مطابق‘پرویز خٹک حقیقت میں اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ ہیں، جب ضرورت ہو گی انھیں سامنے لایا جائے گا اور جب ضرورت نہیں ہوگی تو وہ منظرعام سے غائب رہیں گے۔ وہ اس کھیل کے کھلاڑی ہیں۔’ان کے مطابق پرویز خٹک کے ذریعے صوبے میں پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینا شاید مشکل ہے۔ تاہم اگر پرویز خٹک ڈلیور کرنے اور پی ٹی آئی کو صوبے میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئے تو گنڈاپور سرکار کا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔ تاہم اب دیکھنا ہے کہ پرویز خٹک گنڈاپور حکومت کا زہر نکالنے کیلئے کون سا کلیہ اپناتے ہیں۔
