کیا ہائی آکٹین کے بعد پٹرول بھی 500روپے فی لیٹر ہونے والا ہے؟

 

 

 

وفاقی حکومت کی جانب سے لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی آکٹین فیول پر پیٹرولیم لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کرنے کے بعد پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ بڑے اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ موجودہ عالمی مارکیٹ کے حساب سے پاکستان میں پیٹرول کی اصل قیمت تقریباً 450 روپے فی لیٹر بنتی ہے، جبکہ اس وقت مقامی قیمت 322 روپے ہے۔ عالمی اور مقامی حالات کے تناظر میں امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہے۔

 

خیال رہے کہ پیٹرولیم لیوی میں 200 روپے کے اضافے کے بعد ہائی آکٹین کی قیمت پہلی بار ملکی تاریخ میں 500 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔ ہائی آکٹین پر لیوی 105 روپے 37 پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر 305 روپے 37 پیسے فی لیٹر کر دی گئی، جس کے نتیجے میں اس کی نئی قیمت 535 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ جس میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ حکام کے مطابق ہائی آکٹین فیول پر لیوی بڑھانے کے اقدام سے ماہانہ 9 ارب روپے کی بچت ہو گی، جسے عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

 

حکومت کی جانب سے ہائی آکٹین کی قیمت میں اضافے کا فیصلہ سوشل میڈیا پر موضوع بحث ہے۔ جہاں بعض لوگ اس حکومتی اقدام کو سراہتے نظر آرہے ہیں تو وہیں کئی افراد اس حکومتی فیصلے کو تنقید کا نشانہ بھی بنا رہے ہیں ناقدین کے مطابق عالمی توانائی بحران کے تناظر میں کئے جانے والے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں ان سے معاشی اہداف حاصل کرنا ناممکن ہے۔ صنعتکار مصدق ذوالقرنین کا اس حکومتی فیصلے بارے کہنا ہے کہ وہ بطور ہائی آکٹین فیول استعمال کرنے والا صارف اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، لیکن حکومت کو چاہیے کہ اس اضافی لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کا فائدہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں تک بھی پہنچائے۔ تاہم، صحافی مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ وزیرِاعظم ایسا تاثر دے رہے ہیں جیسے امیروں پر ٹیکس لگایا جا رہا ہو، حالانکہ سرکاری استعمال کی لگژری گاڑیوں کے لیے فراہم ہونے والا مفت ایندھن ابھی بھی جاری ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پہلے ملک بھر میں تمام سرکاری گاڑیوں کے لیے مفت ایندھن ختم کیا جائے، تب ہی یہ اقدام واقعی مؤثر اور شفاف ثابت ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے ہائی آکٹین فیول کی قیمت میں اضافے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین کے استعمال پر پابندی لگا رکھی ہے

 

دوسری جانب صحافی کامران یوسف نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہائی آکٹین پر لیوی بڑھانے کے حکومتی اقدام سے ہائی آکٹین کی کھپت کم ہو سکتی ہے، کیونکہ صارفین عام فیول کی طرف منتقل ہو جائیں گے اگر ان کے لیے ہائی آکٹین استعمال کرنا ضروری نہ ہو۔ صارف یوسف فاروق نے کہا کہ اگر مقصد واقعی درآمدات میں کمی اور مالیاتی خسارے کو کم کرنا ہے تو ہر سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ضروری ہے، ورنہ حکومت کو قرض یا نوٹ چھاپنے پر انحصار کرنا پڑے گا، جس سے کرنسی کمزور ہوگی اور مہنگائی خاص طور پر غریب طبقے سمیت سب کو متاثر کرے گی۔ تاہم وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کے مطابق ہائی آکٹین پر لیوی میں اضافہ عام عوام پر اثر نہیں ڈالے گا، اور حاصل ہونے والی رقم عوام کو ریلیف دینے کے لیے استعمال ہوگی۔

وزیر اعظم نے سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین فیول کے استعمال پر پابندی عائد کر دی

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہائی آکٹین زیادہ تر لگژری گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے، جو امیر طبقے کے پاس ہیں۔ عام پیٹرول کی ماہانہ کھپت تقریباً 600,000 سے 700,000 میٹرک ٹن ہے، جبکہ ہائی آکٹین کی کھپت صرف 30,000 سے 33,000 میٹرک ٹن کے قریب ہے۔ حکومت نے ہائی آکٹین پر لیوی میں 200 روپے اضافے کے بعد 9 ارب روپے اضافی آمدن کا تخمینہ لگایا ہے، تاہم  ماہرین کے بقول ہائی آکٹین کی قیمت میں یہ بڑا اضافہ ممکنہ طور پر اس کی کھپت کو کم کر دے گا جس سے اس اقدام سے مکمل ریونیو حاصل ہونا مشکل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ہائی آکٹین پر لیوی بڑھانے کے بعد بھی حکومت نے گذشتہ دو ہفتوں میں عام پیٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا حالانکہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ماہرین کے بقول موجودہ عالمی قیمتوں کے مطابق پاکستان میں پیٹرول کی اصل قیمت تقریباً 450 روپے فی لیٹر بنتی ہے، جبکہ مقامی قیمت اس وقت 322 روپے ہے۔ پٹرول کی قیمت کو کم کرنے کیلئے حکومت مسلسل سبسڈی دے رہی ہیں تاہم محدود مالی وسائل کی وجہ سے یہ سلسلہ مزید چلنا ممکن دکھائی نہیں دیتا اس لئے آنے والے دنوں میں عالمی اور مقامی عوامل کے مطابق پٹرول کی قیمت 500 روپے فی لیٹر تک جا سکتی ہے۔

 

Back to top button