پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 350روپےفی لیٹرتک جانے کاامکان

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سعودی عرب اور قطر کو حملوں کا سامنا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی معطلی نے عالمی توانائی کی منڈی میں شدید بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ اس بحران کے اثرات دنیا کے متعدد ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان تک بھی پہنچنے لگے ہیں کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ سعودی عرب سے تیل اور قطر سے گیس کی درآمد کے ذریعے پورا کرتا ہے اور ان دونوں سپلائی لائنز کا زیادہ تر انحصار آبنائے ہرمز پر ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ اگر جنگ طوالت پکڑتی ہے اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو پاکستان میں تیل اور گیس کی فراہمی، قیمتوں اور مجموعی معیشت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق جنگی صورتحال مزید شدت اختیار کرتی ہے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 258 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت تقریباً 276 روپے فی لیٹر کے قریب ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 90 سے 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے تو پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 20 سے 40 روپے فی لیٹر تک بڑھ سکتی ہیں۔ اس صورت میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 280 سے 300 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 300 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ سکتی ہے۔ تاہم اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے اور تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوتی ہے تو پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 350 روپے فی لیٹر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، صنعت اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب کئی آئل ٹینکرز کھڑے ہیں اور یہاں تجارتی سرگرمیاں تقریباً معطل ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 100ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کے خدشات بھی سر اٹھانے لگے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر ایران اسرائیل امریکہ جنگ طویل ہو جاتی ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت متاثر رہتی ہے تو پاکستان کے لیے اپریل کے بعد توانائی کی سپلائی میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے حاصل کرتا ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستان کے درآمدی خام تیل کا تقریباً 70 فیصد سعودی عرب سے آتا ہے جبکہ باقی حصہ کویت اور متحدہ عرب امارات سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ان تمام سپلائی لائنز کا زیادہ تر انحصار آبنائے ہرمز پر ہے۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنی توانائی کی درآمدات کے ذرائع کو متنوع بنانے کی کوشش کی ہے اور کچھ تیل سنگاپور، نائجیریا اور امریکا سے بھی منگوایا جاتا رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان متبادل ذرائع سے پاکستان اپنی مجموعی ضرورت کا صرف 20 سے 25 فیصد ہی پورا کر سکتا ہے کیونکہ ملکی ریفائنریز کی استعداد محدود ہے۔اس کے علاوہ امریکا سے پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنا بھی ممکن ہے مگر اس کے لیے پاکستان کو اضافی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں ایسے تیل پر سات سے آٹھ ڈالر فی بیرل تک اضافی پریمیئم دینا پڑ سکتا ہے جس کا براہ راست اثر مقامی قیمتوں پر پڑے گا۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا
ماہرین معاشیات کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر پاکستان کی معیشت پر پڑے گا کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے زیادہ تر درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔پاکستان میں استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً 80 فیصد حصہ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں خرچ ہوتا ہے۔ اس لیے اگر تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، خوراک کی ترسیل اور دیگر پیداواری شعبوں پر بھی پڑتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے بقول مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی توانائی کی منڈی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کے پاس اس وقت مناسب ایندھن کے ذخائر موجود ہیں، تاہم اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے تو آنے والے مہینوں میں توانائی کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
