پاکستانی سیاسی جماعتیں اپنے اختتام کی جانب کیسے گامزن ہیں ؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عامر خاکوانی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پاکستان میں سیاست اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے، کیونکہ ہماری سیاسی جماعتیں اب نظریاتی، بیانیاتی یا قیادتی بنیادوں پر قائم نہیں رہیں۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں سیاست کا وہ بنیادی ڈھانچہ جس پر پاکستان کا جمہوری نظام کھڑا تھا، اب تیزی سے کمزور پڑتا دکھائی دیتا ہے۔

 

عامر خاکوانی اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ عمومی تائثر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن جیسی جماعتیں اپنا وجود کھو رہی ہیں، بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں پارٹیز موجودہ ہائبرڈ نظام کا حصہ بن چکی ہیں۔ یہ دونوں جماعتیں جو کبھی وفاقی سطح پر بڑی سیاسی قوت سمجھی جاتی تھیں، اب ریاست کے تشکیل کردہ نئے انتظامی ڈھانچوں کے اندر سمٹ کر رہ گئی ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں کی حالت بھی کوئی مختلف نہیں۔ تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کے بجائے ’’کلٹ‘‘ قرار دیا جاتا ہے، جماعت اسلامی کی قیادت بھی کنفیوزڈ ہے، جبکہ جے یو آئی (ف) اپنی مسلکی بنیادوں کے باعث سیاست کا بھاری بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی۔

 

عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد مستقبل میں ملک میں صرف ایک ’’ریاست موافق‘‘ یا پرو سٹیٹ جماعت باقی رہے گی جبکہ پارلیمان، عدلیہ اور انتظامیہ کا کردار صرف ریاستی حکمت عملی نافذ کرنے تک محدود ہو جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ فیصلہ سازوں سے اختلاف کرنے والوں کے لیے کوئی موجودہ نظام میں کوئی جگہ نہیں رہے گی۔

 

تاہم عامر خاکوانی کے مطابق پاکستانی سیاسی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہمارے سیاسی کلچر میں سیاسی خلا زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سیاسی بندوبست آخرکار چیلنج ہوتا ہے اور چند برسوں کے بعد حالات ریورس ہو جاتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ آیا اس بار بھی ایسا ہوگا یا کچھ مختلف ہونے جا رہا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ صورت حال دائمی نہیں، اور سیاسی حرکیات کے مطابق طاقت کا ارتکا دیرپا ثابت نہیں ہو گا۔

 

تحریک انصاف کے حوالے سے عامر خاکوانی نے یہ عمومی رائے مسترد کی کہ یہ صرف نوجوانوں یا ’’جنریشن زی‘‘ کی جماعت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ عام انتخابات کے اعداد و شمار کے مطابق بڑی تعداد میں بزرگ شہریوں اور خواتین نے بھی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا۔ تحریک انصاف نے ان لوگوں کو بھی سوشل میڈیا پر انگیج کر کے ڈیجیٹل سیاسی سرگرمیوں کی طرف راغب کیا۔ خاکوانی کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاست کو اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو یہ محض عمران کی شخصیت پرستی نہیں بلکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ناکامی کے باعث پیدا ہونے والے خلا کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق یہ جماعت دراصل مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کی معاشی اور سماجی فرسٹریشن کا ردعمل ہے، لہٰذا اسے کلٹ قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔

شہباز حکومت کا وزن بھی عاصم منیر کے پلڑے میں کیسے چلا گیا؟

عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاست ختم نہیں ہو سکتی۔ ملکی سیاسی منظر نامہ دائرے کی شکل میں گھومتا ہے اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سیاست سماج کی اصل ضرورت ہے۔ یہاں سیاست صرف ووٹ یا انتخابی مہم کا نام نہیں بلکہ شناخت، طبقاتی احساس، محرومی اور طاقت کے توازن سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان جیسے متنوع سماج سے سیاست کا خاتمہ ممکن نہیں۔

 

عام خاکوانی نے تجویز پیش کی کہ ملک کے طاقتور فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ وہ نئے سرے سے ایک سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں اور سیاسی عمل کو ادارہ جاتی سطح پر واضح انداز میں چینلائز کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’مشاورتی گورننس‘‘ کے ماڈل کو اپناتے ہوئے نوجوانوں، لوئر مڈل کلاس، شہری مڈل کلاس اور رائے ساز طبقات کے ساتھ باقاعدہ، بامقصد اور کھلے مکالمے کا آغاز کیا جائے۔ ایسی اصلاحات اور مکالمے کے ذریعے ایک متوازن، جدید اور جوابدہ سیاسی ماڈل جنم لے سکتا ہے، جو ملک کو زیادہ دیرپا سیاسی استحکام دے گا۔

 

Back to top button