کیا وزیراعظم شہباز کیلئے وقت سے پہلے قیامت آنے والی ہے؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستانی سیاست میں چوہے بلی کا کھیل جاری ہے، میری دعا ہے کہ شہباز شریف تا قیامت وزیر اعظم رہیں لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں انکے لیے وقت سے بہت پہلے قیامت نہ آجائے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پیر صاحب پگاڑا شریف بڑے ہی جہاندیدہ اور باغ و بہار شخصیت تھے۔ اللّٰہ بخشے انکی حسِ مزاح بہت تیز تھی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ٹام اینڈ جیری نامی کارٹون سیریز بہت شوق سے دیکھتے ہیں۔ یہ کارٹون 1940 میں شروع ہوئے۔ ولیم حنا نامی مصنف نے اس میں ٹام نامی بلّی اور جیری نامی چوہے کے درمیان نہ ختم ہونے والی رسہ کشی دکھائی تھی۔ ٹام نامی بلّی ضد اور طاقت کا استعارہ تھی تو جیری نامی چوہا ذہانت، شرارت اور ہوشیاری کی علامت تھا۔ پیر پگاڑا شاید ٹام اینڈ جیری کے مقابلے کو پاکستان کی سیاست میں سیاست اور طاقت کے مقابلے سے تعبیر کرتے تھے۔ بلّی طاقت کے نشے میں چوہے کو پکڑنے کیلئے پلان بناتی ہے اور چوہا اپنی ذہانت سے بلی سے بچتا رہتا ہے۔

 

سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست میں پچھلے 70 سال سے بلّی چوہے کا کھیل ہی تو جاری ہے۔ اہل سیاست اور اہل طاقت کی زور آزمائی میں کمزور سیاسی چوہے ہمیشہ سے بلّی کا نشانہ بنتے رہے۔ دیکھنا یہ ہے کیا بلّی چوہے کا یہ کھیل اب بھی جاری ہے یا پھر بلّی اور چوہے کی ایسی دوستی ہوگئی ہے جسے محاورتاً کہا جاتا ہے کہ اب شیر اور بکری ایک ہی جگہ سے پانی پینےلگے ہیں۔ پیر پگاڑا مہنگے سگار، قیمتی گھڑیوں، شاندار گھوڑوں اور منفرد لباس کے علاوہ علم نجوم کا بھی شوق رکھتے تھے۔ وہ دوستوں، دشمنوں حتیٰ کہ اپنے گھوڑوں کی بھی کنڈلی یا جنم پتری نکلوایا کرتے تھے اور پھر کسی کی جیت یا ہار یا حکومت کے رہنے یا جانے کی پیش گوئی کیا کرتے تھے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ حکمرانوں میں ٹام اور جیری کی مقابلہ بازی اس لیے نظر نہیں آتی کہ اس وقت ایک ہائبرڈ حکومت موجود ہے جو بقول وزیر دفاع خواجہ آصف فوج کے اشتراک و تعاون سے چل رہی ہے۔ اسلئے نہ کبھی اس حکومت نے ختم ہونا ہےاور نہ کبھی جانا ہے، جب تک دنیا قائم ہے، یہ حکومت قائم رہے گی۔ فی الحال علم نجوم کی کتابیں بند ہیں۔ ستارہ شناس ملک چھوڑ گئے۔ افسانوں اور کہانیوں کی تردید ہو چکی ہے۔ انصار عباسی جیسے تحقیقی صحافی اگر ’ذرائع‘ سے خبر دے رہے ہیں کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ میں سب بہترین چل رہا ہے تو میرے جیسے سند یافتہ جھوٹے صحافی کی کیا مجال کہ ذرا برابر بھی ان پر شک کروں۔ لیکن اصل مسئلہ حکومت کے جانے یا ونڈر بوائے کے آنے کا نہیں، مسئلہ شہباز شریف کی سونے جیسی حکومت کو ہیرے جیسی حکومت سے تبدیل کرنے کا بھی ہرگز نہیں، مسئلہ بیانیے اور ڈیلیوری کا بھی نہیں۔ اصل مسئلہ بلّی اور چوہے کے چلتے کھیل کا ہے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ ٹام اینڈ جیری نامی کارٹون بنا تو امریکہ میں تھا مگر اس کا عملی اطلاق پاکستان میں ہی ہوتا آیا ہے۔ بلّی اور چوہے کا ہائبرڈ سسٹم کہنے کو تو بڑا مضبوط ہے مگر ماضی کی مثالوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ ذیادہ عرصہ چلتا نہیں ہے۔ اس لیے مجھ جیسے گنہگاروں کی جانب سے اس نظام کی پائیداری پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔ دوسری طرف پارسا دعویٰ کرتے ہیں کہ اس بار نظام بہت پائیدار ہے لہذا اس کو جھٹلانے کی جرات کس میں ہے؟ سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ انصار عباسی سے میرا برسوں پرانا تعلق ہے۔ وُہ متقی اور پرہیزگار ہیں اور اصولی اختلافات کے باوجود ان سےباہمی احترام کا رشتہ ہے۔ وُہ صحافت کے مفتی اعظم ہیں لہٰذا ہر معاملے کو مذہب کی عینک سے دیکھتے ہیں، ان کے ذرائع معتبر اور مصدقہ جبکہ اس فقیر کے ذرائع غیر معتبر اور غیر مصدقہ ہیں۔

 

سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ انصار عباسی اسلام آباد جیسے طاقتوروں کے شہر کے رہائشی ہیں انکی ہر بات اور دلیل میں طاقت ہوتی ہے جبکہ میں لاہور جیسے مضافاتی شہر کا ایک کمزور جس کی ہر بات میں افسانہ فسوں اور جھوٹ ہوتا ہے۔ انصار عباسی کے اس اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز ہونے کے باوجود میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ بلّی چوہے کا کھیل مکمل بند ہو چکا ہے۔ پیر پگاڑا کے دور میں یہ کھلے عام ہوتا تھا لیکن اب یہ بند دروازوں کے پیچھے جاری ہے۔ کارٹون کی دنیا میں تو چوہا جیری کبھی بلّی ٹام کے ہاتھ نہیں آتا ہمیشہ طرح دے جاتا ہے لیکن حقیقت کی دنیا میں اکثر بلّی چوہے کا شکار کر کے اسے کھا لیتی ہے۔

میرے دوست انصار عباسی ہوں یا معتبر اور طاقتور حلقے، سب سرکاری دعوی کرتے ہیں کہ یہ نظام بہترین طریقے سے چل رہا ہے۔ نہ کوئی اس نظام کا ظاہری مخالف ہے اور نہ اندر سے اسے کوئی مسئلہ درپیش ہے۔ افواہوں اور سازشوں کو چھوڑیں کہ وہ تو کہیں نہ کہیں سے ہاتھ آہی جاتی ہیں لیکن بیانیے کی غیر موجودگی، سلو ڈلیوری اور معیشت کی کمزوری کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔

 

ہائبرڈ نظام میں فوج اور سول دونوں شریک کار ہیں۔ اگر موجودہ ہائبرڈ نظام کی جانب سے کوئی موثر بیانیہ نہیں بن پا رہا، ڈیلیوری نہیں ہو رہی یا معیشت کمزور ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آ رہی تو سوال یہ ہے کہ اس کی ذمہ دار سیاسی حکومت ٹھہرے گی یا کوئی اور؟ میرا صحافتی تجربہ تو یہی بتاتا ہے کہ اگر نون لیگ پیپلز پارٹی اور فوج کی مشترکہ عمارت میں سے ایک اینٹ بھی نکلی تو نظام کی عمارت دھڑام سے نیچے آ گرے گی۔ماضی میں جونیجو کی فراغت اور ق لیگ کی چھٹی سے سارا نظام گر گیا تھا۔ اگر اس تکونی عمارت نے محفوظ رہنا ہے تو تینوں کو مل جل کر گزارا کرنا ہوگا۔ پاکستانی تاریخ بتاتی ہے کہ طاقتور اور کمزور کے اتحاد میں غلطی،خامی اور ہر برائی کمزور فریو کے کھاتے میں پڑ جاتی ہے اور ہر فتح اور کامیابی کا کریڈٹ طاقتور کو ملتا ہے۔طاقت ہمیشہ غالب رہنے کی کوشش کرتی ہے۔ اب بھی بلّی طاقتور ہے اور چوہا اِدھر ادھر بھاگا پھر رہا ہے تا کہ اس کی جان بچ جائے۔

پُر امن احتجاج اور پی ٹی آئی دو الگ الگ چیزیں ہیں: وزیر مملکت

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پیر پگاڑا اور جنرل ضیاء الحق حلیف بھی تھے اور کئی حوالوں سے حریف بھی۔ پیر صاحب فوج کی طاقت کو تسلیم کرتے تھے اسلئے وہ ہمیشہ فوج کے اتحادی رہے۔ انہیں جنرل صاحب کی طاقت اور ذہانت دونوں کا اندازہ تھا اسلئے وہ ہنسی مذاق میں بلّی چوہے کا کھیل جاری رکھتے تھے۔ آج کل بھی ہمارے دوست بلّی اور چوہے کے نہایت دوستانہ تعلقات کا احوال سناتے نہیں تھکتے۔ مگر سیانوں کی کہاوت ہے کہ پرانی عادتیں بہت مشکل سے چھوٹتی ہیں۔ بلّی اور چوہا لاکھ چاہیں کہ ان کی مخاصمت ختم ہو جائے لیکن ایک ان دونوں کی جبلّت اور دونوں اطراف کے خوشامدی اور وفادار انہیں لڑا کر چھوڑتے ہیں۔

 

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ پیرپگاڑا کی آخری خواہش صدر پاکستان بن کر برطانیہ کا سرکاری دورہ کرنا تھی تا کہ ملکہ برطانیہ ان کا استقبال کرے۔ وہ شاید اسطرح برطانیہ میں اپنے زمانہ طالب علمی میں یرغمال رہنے کا نفسیاتی مداوا کرنا چاہتے تھے۔ تاہم وہ صدر پاکستان بن کر تو برطانیہ نہ جا سکے لیکن انکی بیماری انہیں ایئر ایمبولینس میں لندن لے گئی۔ ہو سکتا ہے اس دنیا سے جاتے جاتے انہوں نے برطانیہ کی فضا میں ہی اپنانفسیاتی مداوا کر لیا ہو اور اسی آزاد لمحےمیں انکی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ہو۔ پیر پگاڑا تو چلے گئے مگر بلّی چوہے کا کارٹون ابھی جاری ہے۔ ونڈر بوائے کو 78سال سے تلاش کیا جارہا ہے اور اب بھی اسکی تلاش جاری ہے ۔ میری دعا ہے کہ شہباز شریف تاقیامت وزیر اعظم رہیں مگر مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وقت سے بہت پہلے ان کے لیے قیامت نہ آجائے۔

Back to top button