حکومت سے مذاکرات بارے PTI کنفیوزڈ ہے یا ڈبل گیم چل رہی ہے؟

 

 

 

ایک جانب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کے بعد پی ٹی آئی کی زیر قیادت اپوزیشن اتحاد نے حکومت کے ساتھ بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے تو دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حکومت مخالف سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علیمہ خان نے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی گئی تو اس کی ڈٹ کر مخالفت کی جائے گی۔

 

ایسے میں سیاسی تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت اور عمران خان کے قریبی لوگ متضاد سمتوں میں کیوں چل رہے ہیں، بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان ہمیشہ کی طرح دوہری حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں تاکہ ایک طرف مذاکرات کا راستہ کھلا رہے اور دوسری جانب فیصلہ سازوں پر دباؤ بھی برقرار رہے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف سمیت اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد تحریک تحفظ آئین وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش قبول کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عمران خان کے مجوزہ نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی اٹھائیں گے۔ وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی بات کی تھی جس کے بعد اپوزیشن اتحاد نے ایک باضابطہ بیان کے ذریعے اس پیشکش کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔

 

یاد رہے کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اس وقت پی ٹی آئی کی نامزد کردہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بھی ہیں۔اپوزیشن اتحاد کے بیان میں کہا گیا کہ ملک اس وقت سنگین سیاسی، معاشی اور انتظامی بحران سے دوچار ہے اور ان مسائل سے نکلنے کے لیے ایک نئے قومی میثاق کی اشد ضرورت ہے۔ بیان کے مطابق اپوزیشن مستقبل میں شفاف انتخابات، متفقہ نئے الیکشن کمشنر کی تقرری، پارلیمانی بالادستی، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کے تحفظ اور آئینی و جمہوری اقدار کے استحکام کے لیے مذاکرات پر تیار ہے۔ اسی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں 1973 کے آئین کی بحالی، پارلیمانی اور سویلین بالادستی اور ریاستی اداروں کے آئینی حدود میں رہنے پر متفق ہو جائیں تو عمران خان کے نئے میثاق پر دستخط کرانے کی ذمہ داری محمود خان اچکزئی لیں گے۔

 

اگرچہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی گئی ہے، تاہم تحریک انصاف کے اندر سے آنے والے بیانات اس معاملے میں تضاد کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایک طرف پارٹی رہنما یہ مؤقف دہرا رہے ہیں کہ مذاکرات ہوں یا مزاحمت، دونوں کا اختیار عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو دے رکھا ہے، تو دوسری جانب علیمہ خان کھل کر مذاکرات کی مخالفت کر رہی ہیں۔ خیبر پختون خواہ کے وزیراعلی سہیل آفریدی نے بھی لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت مخالف سٹریٹ موومنٹ چلانے کا اعلان کیا ہے۔  لیکن پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات یا اس کے خلاف تحریک چلانے کے حوالے سے جو بھی فیصلہ محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کریں گے، پی ٹی آئی اسے من و عن قبول کرے گی۔

 

اسی مؤقف کی تائید پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بھی کی، جنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت حکومت سے براہ راست مذاکرات نہیں کر رہی بلکہ یہ اختیار تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پاس ہے۔ ان کے مطابق چونکہ اس اتحاد میں پی ٹی آئی کی نمائندگی موجود ہے، اس لیے اتحاد کا کوئی بھی فیصلہ پارٹی کے لیے قابل قبول ہو گا۔ تاہم اس کے برعکس علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مذاکرات کے حامیوں کو عمران خان سے لاتعلق قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان سٹریٹ موومنٹ کی بات کر رہے ہیں تو پھر مذاکرات کی بات کرنے والے ان کے ساتھی نہیں ہو سکتے۔ ان بیانات کے بعد پی ٹی آئی اور اپوزیشن اتحاد کے اندر پائی جانے والی ابہام اور تضاد مزید نمایاں ہو گیا ہے۔

 

سیاسی مبصرین اس صورتحال کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پشاور کے صحافی طارق وحید کا کہنا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی شدید سیاسی کشمکش کا شکار ہے اور عملی طور پر ایک بند گلی میں کھڑی دکھائی دیتی ہے، جبکہ محمود خان اچکزئی ایک زیرک سیاست دان ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات سنبھالنے اور سیاست کے نشیب و فراز سے نمٹنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق محمود خان اچکزئی نے مصلحت کا راستہ نکالنے کی کوشش ضرور کی ہے، تاہم اس کے نتیجہ خیز ہونے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

 

طارق وحید کا کہنا ہے کہ ایک طرف پارٹی قیادت مذاکرات کے حوالے سے نرم مؤقف اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے تو دوسری جانب علیمہ خان کا سخت ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ان کے مطابق علیمہ خان باقاعدہ سیاست دان نہیں ہیں لیکن عمران خان کی بہن ہونے کے ناطے ان کے پاس ایک مضبوط اخلاقی اور سیاسی اثر و رسوخ موجود ہے، اور پارٹی کے اندر کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو ان کے مؤقف کے خلاف کھل کر کھڑا ہو سکے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں علی امین گنڈاپور نے اختلاف کی کوشش کی تھی جس کا انجام سب کے سامنے ہے۔

 

دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخوندزادہ حسین یوسفزئی کا کہنا ہے کہ علیمہ خان کے مؤقف کو یکسر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مذاکرات پر حکومت کو جواب دینے سے قبل ان سے تفصیلی مشاورت کی گئی تھی اور وہ ان معاملات پر آن بورڈ ہیں۔ ان کے مطابق بظاہر بیانات میں تضاد ضرور ہے لیکن اندرونی طور پر معاملات طے شدہ ہیں۔

آفریدی کا لاہور میں جلسہ اور جلوس کا مشن کیوں پورا نہ ہوا ؟

پشاور کے سینیئر صحافی محمود جان بابر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں اس وقت کوئی ایسا واضح چہرہ نظر نہیں آ رہا جو فیصلہ کرے اور پھر اسے پوری جماعت میں نافذ بھی کرا سکے۔ ان کے مطابق اسی خلا کی وجہ سے محمود خان اچکزئی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کیونکہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر قابل قبول سمجھے جاتے ہیں۔ محمود جان بابر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات واضح ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی بیرونی یا اتحادی شخصیت کوئی فیصلہ کرے تو بعد میں پارٹی یہ مؤقف بھی اختیار کر سکتی ہے کہ وہ فیصلہ پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ کسی اور کا تھا۔

 

یوں حکومت سے مذاکرات کی پیشکش کی قبولیت اور سٹریٹ موومنٹ کے اعلانات کے درمیان پیدا ہونے والا تضاد نہ صرف اپوزیشن اتحاد بلکہ تحریک انصاف کی حکمت عملی پر بھی کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے، جن کے جوابات آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کا رخ متعین کریں گے۔

Back to top button