کیا سمی بلوچ دہشت گرد ہے یا ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے ؟

سینیئر اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے بلوچستان میں ہونے والی گرفتاریوں کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ سے پکڑی جانے والی سمی دین بلوچ کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرور کرے لیکن یہ بھی تو سوچے کہ 2009ء سے آج تک جو کچھ سمی بلوچ اور اسکے خاندان کے ساتھ ہوا، کیا وہ دہشت گردی ہے یا نہیں؟ انکا کہنا ہے کہ سمی کی روداد صرف ایک فرد یا ایک خاندان کی نہیں بلکہ پاکستان میں آئین و قانون کی رودادِ ستم بن چکی ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ میرے سامنے ایک نہتی لڑکی کی تصویر ہے جسے پولیس والوں نے گھیر رکھا ہے۔ پولیس اسے اپنی طرف گھسیٹ رہی ہے اور چند خواتین اس لڑکی کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔اس نہتی لڑکی کا نام سمی دین بلوچ ہے جسے 25 مارچ 2025 کو سندھ ہائیکورٹ سے کراچی پولیس نے گرفتار کیا۔ ایک دن قبل اسی سمی بلوچ کو کراچی پریس کلب کے باہر سے بلوچستان میں گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا۔ اگلے دن سندھ ہائیکورٹ نے سمی بلوچ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تو پولیس نے اسے ایم پی او کے تحت گرفتار کرلیا۔ یہ وہ قانون ہے جو پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کے دور میں، 1960ء میں آرڈیننس کے ذریعہ نافذ کیا گیا۔ اس قانون کے ذریعہ کسی بھی پاکستانی شہری کو محض امن وامان کیلئے خطرہ قرار دیکر مخصوص مدت کیلئے حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ جنرل ایوب خان کے نافذ کردہ اس قانون کو زیادہ تر سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔
حامد میر کے مطابق ایم پی او نے وقتی طور پر جنرل ایوب خان کی حکومت کو تو مضبوط کیا لیکن ریاست کمزور ہوتی گئی جس کا نتیجہ 1971ء میں سانحہ مشرقی پاکستان کی صورت میں نکلا۔ اس کے بعد پاکستان میں کئی سیاسی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں لیکن جنرل ایوب خان کا نافذ کردہ ایم پی او اپنی جگہ پر قائم ہے۔ ایم پی او کے تحت گرفتاری کے بعد سمی دین بلوچ کے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑی لگائی گئی اور پولیس وین میں بیٹھا کر جیل روانہ کر دیا گیا۔
حکومت سندھ کے محکمہ داخلہ نے سمی دین بلوچ اور عبدالوہاب بلوچ سمیت پانچ دیگر افراد کو امن وامان کیلئے خطرہ قرار دیکر ایک ماہ کیلئے جیل بھیج دیا ہے۔ بلوچستان حکومت سمی دین بلوچ کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیتی ہے جبکہ سمی نے 25 مارچ کو گرفتاری سے قبل واضح الفاظ میں کہا کہ وہ پرامن جدوجہد اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ 28 جون 2009ء کو سمی کے والد ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو خضدار کے علاقے اور ناچ کے ایک سرکاری ہسپتال سے گرفتار کیا گیا۔ ڈاکٹر دین محمد بلوچ ایک سرکاری ملازم تھے اور ان پر کوئی مقدمہ نہیں تھا۔ انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی انکے خلاف چارج شیٹ سامنے آئی۔ والد کے لاپتہ ہونے پر سمی اور اسکی بہن مہلب نے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بازیابی کیلئے آواز اٹھانی شروع کی۔انہی دنوں یہ بہنیں خاندان کے کچھ افراد کے ساتھ اسلام آباد آئیں اور نیشنل پریس کلب کے باہر اپنے والد کی تصویریں اٹھا کر بیٹھ گئیں ان بہنوں کا مطالبہ تھا کہ اگر ان کے والد پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کرکے مقدمہ چلایا جائے۔اس زمانے میں مرکز اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی۔مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں تھی میں نے کئی دفعہ جیو نیوز پر کیپٹل ٹاک میں ڈاکٹر دین محمد بلوچ سمیت دیگر کئی لاپتہ افراد کا ذکر کیا۔حکومت ڈاکٹر دین محمد بلوچ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتی تھی اور مسلم لیگ (ن) انکی بازیابی کا مطالبہ کرتی تھی۔
2014ء میں سمی دین بلوچ کی عمر 15 سال تھی اس نے ماما قدیر بلوچ اور لاپتہ افراد کے دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ پہلے کوئٹہ سے کراچی اور پھر کراچی سے اسلام آباد تک پیدل لانگ مارچ کیا۔جب یہ عورتیں اور بچے اسلام آباد پہنچے تو ان کے پیروں میں چھالے پڑچکے تھے ماما قدیر اور سمی دین بلوچ نے کیپٹل ٹاک میں بتایا کہ کس طرح پنجاب میں جگہ جگہ انہیں ہراساں کیا گیا اور ڈرا دھمکا کر واپس بھیجنے کی کوشش ہوئی۔انکی روداد ستم اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے سن لی جب پروگرام کا پہلا وقفہ آیا تو مجھے وزیر اعظم کے پولیٹکل سیکرٹری ڈاکٹر آصف کرمانی کا فون آیا انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ان مظلوموں کو کل ملنا چاہتے ہیں اگلے دن صبح گیارہ بجے ماما قدیر اور سمی دین بلوچ کی وزیراعظم سے ملاقات طے ہوگئی لیکن راتوں رات ان سب کو قابو کر کے ایئر پورٹ لیجایا گیا اور کراچی بھیج دیا گیا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ سمی دین بلوچ وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز کے پلیٹ فارم سے کبھی کراچی اور کبھی کوئٹہ میں مسلسل اپنے والد کی بازیابی کا مطالبہ کرتی رہی۔ 2021ء میں سمی دین بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کے ہمراہ ایک دفعہ پھر اسلام آباد آئی اس مرتبہ ان کے احتجاج میں آمنہ مسعود جنجوعہ سمیت لاہور کے صحافی مدثر نارو کی والدہ بھی شامل ہوگئیں۔ سمی دین بلوچ ڈی چوک پر دھرنا دیکر بیٹھ گئی کچھ دن گزر گئے تو اس نے مجھے کہا کہ آپ وزیر اعظم عمران خان سے ہماری ملاقات کروا دیں کیونکہ وہ مجھے میرے والد سے ضرور ملوا دیں گے۔ میں نے سمی سے کہا کہ عمران خان کچھ نہیں کر سکتے۔ سمی نے اصرار کیا تو میں نے انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری سے اسکی بات کرائی۔ انہوں نے سمی اور دیگر مظاہرین کی وزیراعظم عمران سے ملاقات کرا دی کچھ دن اور گزر گئے میڈیا پر سمی دین بلوچ اور انکی ساتھی خواتین کو دہشت گردوں کا ساتھی قرار دیا جانے لگا۔ اب سمی نے فرمائش کی کہ انکی مریم نواز سے ملاقات کرائی جائے۔ ہم نے ان کا پیغام مریم نواز تک پہنچایا تو وہ خود چل کر ڈی چوک پہنچیں اور انہوں نےسمی کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔ لیکن ڈی چوک پر یہ دھرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ سمی کو تسلیاں دیکر واپس بھیج دیا گیا۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ 2023ء میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے انوارالحق کاکڑ نگران وزیر اعظم بن گئے۔ ایک مرتبہ پھر تربت سے بلوچ خواتین اور بچوں کا ایک قافلہ ماہ رنگ بلوچ کی قیادت میں اسلام آباد روانہ ہوا جس میں سمی بھی شامل تھی۔ یہ قافلہ اسلام آباد پہنچاتو پولیس نے عورتوں اور بچوں سمیت سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ اگلے دن ہائیکورٹ نے انکی رہائی کا حکم دیا تو پولیس نے ویمن پولیس سٹیشن میں ان عورتوں اور بچوں کو مارپیٹ کر زبردستی واپس کوئٹہ بھیجنے کی کوشش کی۔ لیکن یہ ایک ٹرننگ پوائنٹ تھا کیونکہ اس واقعے نے پورے بلوچستان میں اضطراب پھیلایا اور پہلی دفعہ مجھے بھی یہ محسوس ہوا کہ سمی بلوچ اسلام آباد سے مایوس ہو گئی ہے۔ جولائی 2024ء میں سمی بلوچ کو گوادر میں گرفتار کیا گیا لیکن صدر آصف زرداری کی مداخلت پر رہا کر دیا گیا۔ لیکن اب 25 مارچ 2025ء کو اسے کراچی سے گرفتار کیا گیا تو پیپلز پارٹی کی قیادت خاموش رہی۔
مریم نواز نے اپنی حکومتی کارکردگی کا بھانڈا خود کیسے پھوڑا ؟
حامد میر کہتے ہیں کو میں نے سمی بلوچ کی رودادِ ستم آپ کے سامنے رکھ دی ہے۔ اگر آپ کے خیال میں سمی دہشت گردوں کی ساتھی ہے تو اسکے خلاف عدالت میں کیس چلائیں کیونکہ اب تو عدالت سے سزا دلوانا کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن اگر آپ کے پاس سمی کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تو اسے یہ تو بتا دیں کہ اس کا باپ کہاں ہے؟ زندہ ہے یا مار دیا گیا؟ سمی کی والدہ کو یہ بتا دیں کہ وہ بیوہ ہو چکی ہے یا نہیں؟ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرور کریں لیکن یہ بھی تو سوچیں کہ 2009ء سے آج تک جو سمی کے ساتھ ہوا وہ دہشت گردی ہے یا نہیں؟ دراصل یہ ایک سمی بلوچ کی روداد نہیں بلکہ پاکستان میں آئین و قانون کی رودادِ ستم ہے۔
