استعفیٰ قبول ہونے کے بعد سردار اختر مینگل کی سیاست فارغ ؟

 

 

 

 

تقریباً 17 ماہ بعد بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کے استعفے کی منظوری نے بلوچستان کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ سردار اختر مینگل کے استعفے نے صوبے کی سیاسی صورتحال اور پارٹی کی آئندہ حکمت عملی پر نئے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ جہاں بعض سیاسی مبصرین اس اقدام کو جمہوری احتجاج قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین کا مؤقف ہے کہ پارلیمان سے باہر رہ کر عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پارلیمان سے علیحدگی حلقے کے عوام کی نمائندگی کو کمزور کر سکتی ہے۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سردار اختر مینگل کے مستعفی ہونے کا اصل مقصد کیا تھا؟ استعفیٰ منظور ہونے کے بعد بی این پی آگے کیا کرنے والی ہے؟ کیا بلوچستان نیشنل پارٹی ضمنی انتخاب میں حصہ لے گی یا یہ استعفیٰ بلوچستان کی سیاست میں نئی صف بندی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اب سب کی نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟

 

 

خیال رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل فروری 2024 کے عام انتخابات میں این اے 256 خضدار ون سے رکن منتخب ہوئے تھے تاہم مختلف تحفظات کی وجہ سے انھوں نے 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے فوری طور پر ان کا استعفیٰ مظور نہیں کیا گیا تھا۔ طویل عرصے تک استعفیٰ منظور نہ ہونے کی وجہ سے وہ عملی طور پر ایوان کی کارروائیوں سے دور رہے۔ تاہم اب سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تقریباً 17 ماہ بعد ان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے جس کے بعد این اے 256 خضدار ون کی نشست خالی ہو گئی ہے، جس سے صوبے کی سیاسی صورتحال اور پارٹی کی آئندہ حکمت عملی پر نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

 

تاہم بی این پی (مینگل) کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر ثنا اللہ بلوچ کے مطابق سردار اختر مینگل نے استعفیٰ صوبے کی مجموعی صورتحال اور 2024 کے انتخابات پر تحفظات کے پیش نظر دیا تھا۔ ان کے بقول پارٹی کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوئے ہیں اور سیاسی مسائل کا حل مکالمے اور قانونی فورمز کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ ثنا اللہ بلوچ نے مزید کہا کہ اگر حکومت ضمنی انتخاب کا اعلان کرتی ہے تو بی این پی (مینگل) اس بارے میں فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کرے گی۔

سہیل وڑائچ نے دوبارہ قومی حکومت کا چورن کیوں پیش کر دیا؟

دوسری جانب سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سردار اختر مینگل کا استعفیٰ جمہوری احتجاج کی شکل میں سامنے آیا، لیکن اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق پارلیمانی نظام میں مسائل کو ایوان کے اندر اجاگر کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہو سکتی تھی، جبکہ استعفیٰ دینے سے عملی سیاست سے کنارہ کشی اور حلقے کے عوام کی نمائندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ این اے 256 کے ووٹرز نے سردار اختر مینگل کو اپنے مسائل کے حل کے لیے منتخب کیا تھا، لہٰذا اسمبلی کی کارروائی میں ان کی غیر موجودگی طویل عرصے تک عوامی آواز کو کمزور کرتی رہی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ بی این پی (مینگل) طویل عرصے سے پارلیمانی سیاست کا حصہ رہی ہے اور ماضی میں وفاقی حکومتوں کے ساتھ اتحاد بھی کرتی رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سردار اختر مینگل کا استعفیٰ واقعی اصولی مؤقف تھا یا یہ سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی تھی؟ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ حساس صوبے میں منتخب نمائندوں کی ایوان سے علیحدگی سیاسی خلا کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ مبصرین کے مطابق اب جبکہ سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور ہو چکا ہے اور این اے 256 کی نشست خالی ہو گئی ہے، سب کی نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ بی این پی (مینگل) ضمنی انتخاب میں حصہ لے گی یا نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلچستان نیشنل پارٹی کا یہ فیصلہ نہ صرف پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا تعین کرے گا بلکہ بلوچستان کی سیاسی سمت پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

Back to top button