اسلام آباد پر دوبارہ یلغار سہیل آفریدی کا سب سے پہلا ٹاسک؟

تحریک انصاف کے اندرونی حلقے یہ دعوی کر رہے ہیں کہ عمران خان کی جانب سے علی امین گنڈا پور کی جگہ سہیل آفریدی کو نیا وزیراعلی بنانے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ تمام تر حکومتی وسائل اکٹھا کر کے ایک مرتبہ پھر سے اسلام اباد میں اپنی سیاسی قوت کا بھر پور مظاہرہ کریں تاکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ تاہم فیصلہ ساز حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر دوبارہ اسلام اباد پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی گئی تو ریاست کی جانب سے بھرپور رد عمل دیا جائے گا اور تحریک انصاف کی رہی سہی غلط فہمی بھی دور کر دی جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی سیاست میں نووارد ہیں اور انتظامی امور کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے لہذا ان کے لیے پارٹی ورکرز کو پھر سے باہر نکالنا اور اسلام آباد پر یلغار کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ویسے بھی سہیل آفریدی کے خلاف اسلام اباد کے مختلف تھانوں میں چھ مقدمات درج ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت کی پولیس کو مطلوب ہیں۔ یاد رہے کہ سہیل آفریدی بھی عمران خان کی طرح طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں لہذا ان کے دور میں بھی خیبر پختون خواہ میں طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کی مخالفت جاری رہنے کا امکان ہے۔
لہذا عمران خان کی جانب سے گنڈاپور کو ہٹا کر آفریدی کو نیا وزیراعلی نامزد کرنے کے فیصلے کو مبصرین مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ تاہم یہ طے ہے کہ سہیل آفریدی وزیراعلی بننے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے لیے کوئی بڑا چیلنج کھڑا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ آفریدی بطور وزیراعلی ناکام ہو جائیں گے اور عمران خان کا گنڈاپور کو ہٹانے کا فیصلہ ان کے گلے پڑ جائے گا۔
پشاور کے رہائشی محمود جان بابر پی ٹی آئی کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’علی امین گنڈاپور جیسی دبنگ شخصیت اور وسیع تجربہ سہیل آفریدی کے پاس نہیں لہذا اگر گنڈا پور عمران کی امیدوں پر پورے نہیں اتر پائے تو آفریدی سے بھی کوئی امید نہ رکھی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کے لیے وفاقی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیلنسڈ تعلقات رکھتے ہوئے چلنا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وزیراعلی بننے کے بعد انہیں صوبے کے معاملات بھی چلانا ہیں اور اس سلسلے میں انہیں فوج اور وفاق دونوں کے تعاون کی ضرورت پڑے گی۔ لیکن اسی تعاون نے گنڈاپور کی کپتان سے وفاداری کو مشکوک بنا دیا تھا جس کے نتیجے میں ان سے استعفی لے لیا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کے خاتمے اور بہتر گورننس کے لیے صوبے کو پرویز خٹک جیسے تجربہ کار وزیراعلی کی ضرورت ہے۔ انکے مطابق پرویز خٹک کے بعد خیبر پختون خواہ کو کوئی آزاد اور خود مختار وزیراعلیٰ میسر نہیں آیا۔ پرویز خٹک کا پلس پوائنٹ یہ تھا کہ وہ خان اس سے پوچھے بغیر بھی ایسے فیصلے کر لیتے تھے جو وہ صوبے کے بہتر مفاد میں سمجھتے تھے۔ لیکن علی امین گنڈاپور کی طرح سہیل آفریدی سے بھی آزادانہ فیصلوں کی امید نہ رکھی جائے کیونکہ وہ بھی اپنے کپتان سے ڈکٹیشن لے کر چلیں گے۔
پشاور کے سینیئر صحافی محمود جان بابر کا خیال ہے کہ پارٹی کو دوبارہ جارحانہ مؤقف اختیار کرنے اور وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے علی امین کو ہٹایا گیا کیوں کہ انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جانے لگا تھا۔ ان کے عمران خان کی رہائی کے لیے مظاہروں کے دوران کردار پر بھی سنگین اعتراضات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گنڈاپور کی وفاداری پر سوال اٹھانے والوں میں سہیل آفریدی اور ان کے ساتھی بھی شامل ہوتے تھے۔ توشہ خانہ کرپشن کیس میں اپنی گرفتاری سے پہلے پشاور میں قیام کے دوران سہیل آفریدی بشری بی بی کے کافی قریب آ گئے تھے اور ان کے رازدان بن گئے تھے، اسی وجہ سے بشری نے عمران کو آمادہ کیا کہ وہ سہیل آفریدی کو گنڈا پور کی جگہ وزیراعلی نامزد کریں۔
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق عمران خان سمجھتے ہیں کہ سہیل آفریدی پارٹی کی سٹریٹ پاور دوبارہ سے بحال کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے تاکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈال کر انہیں جیل سے رہائی دلوائی جا سکے۔ تاہم تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اب احتجاجی مظاہروں سے اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈال کر عمران کو رہا کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ممکن ہوتا تو علی امین گنڈاپور کی وزارت اعلی کے دوران عمران خان جیل سے باہر آ جاتے ہیں۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فوجی قیادت 9 مئی 2023 کو عمران خان کے ایما پر فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد سے ان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔
