کیا واقعی بلوچستان عوامی پارٹی اپنا "باپ” بدلنے والی ہے؟

بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھی جانے والی باپ یعنی بلوچستان عوامی پارٹی کے مسلم لیگ (ن) میں ممکنہ انضمام کی افواہوں نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔ انضمام کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کے بعد بلوچستان کی سیاست ایک بار پھر غیر یقینی اور قیاس آرائیوں کے بھنور میں گھری نظر آ رہی ہے، جہاں اتحادی سیاست، طاقت کے توازن اور مستقبل کی صف بندیوں سے متعلق سوالات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق بظاہر ایک افواہ سمجھی جانے والی یہ خبر درحقیقت ان اندرونی کشمکشوں اور سیاسی مفادات کی عکاسی کرتی ہے جو بلوچستان کی سیاست کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے ایک سینیئر رہنما نے غیر رسمی گفتگو میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ایک اہم رکن صوبائی اسمبلی نے اسلام آباد میں ن لیگی قیادت سے ملاقات کر کے اپنی جماعت کو ن لیگ میں ضم کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اگرچہ اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس نے یہ سوال ضرور اٹھا دیا ہے کہ آیا بلوچستان عوامی پارٹی اپنی موجودہ سیاسی حیثیت برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہے یا پھر یہ محض چند افراد اپنی ذاتی خواہش پرباپ پارٹی کو لپیٹنے کے درپے ہیں؟
دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کی قیادت نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی کے کسی بھی فورم پر نون لیگ میں انضمام کے حوالے سے کوئی بات زیر غور نہیں آئی۔ پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر کسی فرد نے اس حوالے سے کوئی رائے دی بھی ہے تو وہ اس کی ذاتی سوچ ہو سکتی ہے، کیونکہ کسی سیاسی جماعت کا انضمام ایک بڑا فیصلہ ہوتا ہے جو اجتماعی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔ صوبائی وزیر داخلہ اور پارٹی کے مرکزی ترجمان میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی ایک منظم اور فعال جماعت ہے جس کا اپنا الگ تشخص اور سیاسی وجود ہے، اور اسے ختم کرنے یا کسی دوسری جماعت میں ضم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اس وقت مسلم لیگ (ن) کی اتحادی ہے اور صوبے میں حکومتی سیٹ اپ کا حصہ بھی ہے۔ ایسے میں انضمام کی افواہیں نہ صرف سیاسی طور پر غیر معمولی محسوس ہوتی ہیں بلکہ یہ اس سوال کو بھی جنم دیتی ہیں کہ آیا اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی کمی پیدا ہو رہی ہے یا پسِ پردہ کوئی نئی سیاسی صف بندی ترتیب دی جا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے اس طرح کی خبریں سامنے آ رہی ہیں؟ سیاسی مبصرین اس صورتحال کو محض افواہ قرار دینے کے بجائے ایک بڑے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کی خبریں عموماً اس وقت سامنے آتی ہیں جب کسی جماعت کے اندرونی اختلافات، مستقبل کے خدشات یا طاقت کے مراکز تک رسائی کے لیے نئی راہیں تلاش کی جا رہی ہوں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگرچہ فی الحال باپ پارٹی کا نون لیگ میں انضمام کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، تاہم اس قسم کی قیاس آرائیاں اس بات کی نشاندہی ضرور کرتی ہیں کہ بلوچستان کی سیاست میں استحکام تاحال ایک سوالیہ نشان ہے۔
کیا 9 اپریل کو بھی PTI کے جلسے کا برا انجام ہونے والا ہے؟
کچھ تجزیہ کار اس پہلو کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اگر بلوچستان عوامی پارٹی واقعی کسی بڑی جماعت میں ضم ہوتی ہے تو اس سے صوبے میں مقامی سیاست کی نمائندگی کمزور پڑ سکتی ہے، کیونکہ اس جماعت کا قیام ہی مقامی مسائل کو اجاگر کرنے اور صوبے کی مخصوص ضروریات کو قومی سطح پر پیش کرنے کے لیے عمل میں آیا تھا۔ اس کے برعکس دیگر مبصرین کے نزدیک بڑی جماعت میں شمولیت سے وسائل اور اختیارات تک بہتر رسائی ممکن ہو سکتی ہے، جو صوبے کی ترقی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ مجموعی طور پر بلوچستان عوامی پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ممکنہ انضمام سے متعلق افواہیں وقتی طور پر دم توڑتی نظر آتی ہیں، مگر انہوں نے صوبے کی سیاست میں جاری غیر یقینی، طاقت کی کشمکش اور مستقبل کی ممکنہ صف بندیوں کو ضرور بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ سیاسی جماعتیں نہ صرف اپنے اندرونی معاملات کو شفاف بنائیں بلکہ عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے واضح اور مستقل مؤقف بھی اپنائیں، ورنہ اس طرح کی افواہیں سیاسی عدم استحکام کو مزید ہوا دیتی رہیں گی۔
