کیا کپتان کی پارٹی واقعی "اوور” ہونے جا رہی ہے؟

وزیراعظم عمران خان کی اتحادی جماعتوں کی حکومت سے دوری اور اپوزیشن سے بڑھتی ہوئی قربت کے بعد اب یہ
سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا واقعی کپتان کی پارٹی بالآخر "اوور” ہونے جا رہی ہے
اورکیا یہ کمپنی اب نہیں چل پائے گی؟
قومی اسمبلی میں پانچ نشستیں رکھنے والی حکومت کی اہم اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنما اور سپیکر پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے کھل کر اپوزیشن کے ساتھ جانے کے عندیے اور ایم کیو ایم اور بلوچستان عوامی پارٹی کی جانب سے پیپلز پارٹی کے ساتھ معاملات طے پا جانے کی اطلاعات کے بعد یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا حکومت کے لیے پارٹی اوور ہو گئی ہے اور کیا اب صرف رسمی کارروائی باقی ہے۔
اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ عمران کی تینوں بڑی اتحادی جماعتوں کے اپوزیشن سے معاملات طے پا چکے ہیں اور عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے اجلاس بلانے کے فوراً بعد بعد اس حوالے سے اعلان کر دیا جائے گا۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحادیوں کی جانب سے اپوزیشن کے ساتھ جانے کے واضح اشاروں کے باوجود ابھی باضابطہ طور پر کسی بھی اتحادی جماعت نے حکومت کا ساتھ چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا۔ پرویز الٰہی کے حالیہ انٹرویو نے حکومتی ایوانوں میں خطرے کی گھنٹیاں تو بجا دیں مگر انہوں نے بھی حکومت کا ساتھ چھوڑنے کا کھلے لفظوں میں اعلان نہیں کیا بلکہ کہا کہ سب اکٹھے فیصلے کریں گے، جس کے تقریباً قریب پہنچ چکے ہیں۔
آپ نے دھواں دھار انٹرویو کے اگلے روز پرویزالٰہی نے اپنی ہی لگائی ہوئی آگ پر پانی ڈالنے کی کوشش بھی کی اور واضح کیا کہ انہوں نے ابھی تک حکومتی اتحاد نہیں چھوڑا اور نہ ہی اپوزیشن کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کی ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں تو کہا گیا کہ ’تمام معاملات پر اتفاق ہو گیا ہے‘ مگر ایم کیو ایم کے بیان میں کہا گیا کہ مشاورت ابھی جاری ہے اور یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسی طرح بلوچستان عوامی پارٹی نے بلوچستان حکومت سے تو علیحدگی اختیار کر لی ہے لیکن ابھی مرکز کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ گویا ابھی تک رسمی طور پر اتحادیوں کا حکومت سے علیحدگی کا اعلان نہیں ہوا۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ تینوں اتحادی جماعتیں حکومت چھوڑنے پر آمادہ ہو چکی ہیں لیکن ابھی تک اس حوالے سے اعلان اسٹریٹجی کے تحت نہیں کیا جا رہا تھا کہ حکومت کاؤنٹر سٹریٹجی تیار نہ کر سکے۔
ملک میں پٹرولیم مصنوعات کا بحران پیدا ہونے کا خطرہ
یاد رہے کہ اتحادیوں کی جانب سے حکومت کا ساتھ چھوڑنے کا سب سے بڑا اشارہ تب سامنے آیا جب ایک انٹرویو میں ق لیگ کے اہم رہنما پرویز الٰہی نے کہا کہ ’وزیراعظم عمران خان 100 فیصد مشکل میں ہیں کیونکہ سارے اتحادیوں کا 100 فیصد رجحان اپوزیشن کی جانب ہے۔‘ انہوں نے عمران خان کی حکومت پر کافی تنقید بھی کی تھی اور اسے ایک بچے سے بھی تشبیہہ دی جسے چلنا نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے انہیں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی پیش کش کی ہے اور مسلم لیگ نواز کے ساتھ معاہدے کے ضامن سابق صدر آصف علی زرداری ہیں۔ اس بیان اور پھر ایم کیو ایم کے اپوزیشن کے ساتھ مسلسل رابطوں کے بعد یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت کے بڑے اتحادی اس کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں اور جلد اس حوالے سے اعلان بھی سامنے آ جائے گا۔
قومی اسمبلی میں نمبرز گیم کے مطابق 342 کے ایوان میں حکومت کے پاس اس وقت اتحادیوں سمیت 179 ارکان ہیں جبکہ اپوزیشن کے پاس 162 ارکان ہیں جبکہ ایک نشست پی ٹی آئی کے ایم این اے خیال زمان کی وفات کی وجہ سے خالی ہے۔ وزیراعظم کو اپنا اقتدار بچانے کے لیے 172 ووٹ درکار ہیں اور جس جماعت کے پاس ارکان اسمبلی کا یہ جادوئی نمبر آ جائے گا وہی حکومت بنائے گی۔ اس صورتحال میں اگر مسلم لیگ ق کے پانچ، ایم کیو ایم کے سات اور باپ کے 5 ارکان بھی حکومت سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن کے ساتھ ہو جائیں تو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے پاس صرف 162 ووٹ رہ جائیں گے اور وہ اکثریت کھو دیں گے۔ یاد رہے کہ ان تینوں اتحادیوں نے طے کر لیا ہے کہ وہ مل کر فیصلہ کریں گے۔ گویا اس وقت تین اتحادی جماعتیں تُرپ کا وہ پتہ ہے جو فیصلہ کن حثییت رکھتا ہے۔
