کیا چینی کرنسی یوان امریکہ کے بعد US ڈالر سے بھی ٹکرانے والی ہے ؟

چین نے امریکی ڈالر کی عالمی افق پر بادشاہت ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ چینی حکمت عملی سے ڈالر راج کے لیے ایسے خطرات پیدا ہو چکے ہیں، جو بالآخر اس کی بادشاہت کے زوال کا باعث بن سکتے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق دہائیوں سے عالمی تجارت، ریزرو کرنسی اور توانائی کی خرید و فروخت کا بادشاہ رہنے والے امریکی ڈالر کو اب چین جیسی بڑی چیلنجنگ قوت اور حریف کا سامنا ہے۔ چین نے گزشتہ کچھ عرصے سے نہ صرف یوآن کو عالمی تجارت میں متعارف کروایا، بلکہ سوئفٹ نظام کا متبادل نظام بھی دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا، سونے کے ذخائر کو ڈالر کے مقابلے میں بڑھایا، اور تیل جیسی اسٹریٹیجک کموڈیٹی کو بھی یوآن میں خریدنا شروع کر دیا۔ روس کے ساتھ ڈالر کے بغیر 90 فیصد تجارت، برکس میں متبادل کرنسی پر غور، اور درجنوں ممالک کے ساتھ یوآن میں لین دین… یہ سب وہ اقدامات ہیں جنہوں نے "ڈالر کی اجارہ داری” کو صرف چیلنج ہی نہیں کیا، بلکہ اس کے زوال کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔

چینی اقدامات کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی وہ وقت آن پہنچا ہے جب عالمی معیشت میں ڈالر کا کاغذی تاج محل زمیں بوس ہو جائے گا؟ کیا دنیا "پیٹرو ڈالر” سے آگے نکل کر "پیٹرو یوآن” یا کثیر کرنسی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے؟ مبصرین کے بقول چینی اقدامات نے جو سوالات کھڑے کر دیے ہیں، ان کے جواب عالمی طاقتوں کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق صدیوں سے یہ اصول چلا آ رہا ہے کہ "دنیا کی معیشت پر راج کرنے والا ہی دنیا پر راج کرتا ہے۔” بیسویں صدی کے وسط سے لے کر آج تک، امریکی ڈالر عالمی معیشت کا بادشاہ رہا ہے۔ مگر اب اس بادشاہت کو وہ خطرات لاحق ہو چکے ہیں جو نہ صرف اس کے تاثر کو کمزور کر رہے ہیں بلکہ ایک نئے عالمی مالیاتی توازن کی راہ ہموار کر رہےہیں۔

ماہرین کے مطابق ڈالر کی بالادستی کی بنیاد ہمیشہ اس کی اصل معاشی طاقت سے زیادہ "اعتماد اور تاثر” پر رہی ہے۔ درحقیقت، ایک ملک اگر کسی دوسرے ملک سے تجارت کرے — چاہے اس میں امریکہ شامل نہ ہو — پھر بھی اس لین دین کے لیے ڈالر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ وہ عالمی اعتماد ہے جس نے ڈالر کو عالمی ریزرو کرنسی بنارکھا ہے، لیکن یہی تاثر اگر کمزور ہو جائے تو ڈالر کی حیثیت بھی غیر متوازن ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر میں اربوں ڈالر رکھنے پڑتے ہیں تاکہ عالمی نظام میں اپنی مالی ساکھ برقرار رکھ سکیں۔ یہی طلب ڈالر کو "عالمی کرنسی” کا درجہ دیتی ہے۔ تاہم اب چین کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر کے طور پر سونے کی خریداری نے اس حوالے سے بھی ڈالر کے زوال کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق 2024 میں چین نے 300 ٹن سونا خریدا، جس کے بعد اس کے پاس سونے کے ذخائر 2300 ٹن سے تجاوز کر گئے ہیں۔ یہ ایک علامتی اور عملی اقدام ہے کہ اب چین اپنے معاشی تحفظ کی بنیاد ڈالر پر نہیں بلکہ سونے اور یوآن پر رکھنا چاہتا ہے۔

معاشی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ جہاں ایک طرف زرمبادلہ کے ذخائر ڈالر سے سونے اور دیگر کرنسیوں کی طرف شفٹ ہو رہے ہیں وہیں دنیا کے مختلف ممالک نے ڈالر کو ترک کر کے اپنی باہمی تجارت مقامی کرنسیوں یا کسی متبادل کرنسی میں کرنی شروع کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تجارت میں ڈالر کی جگہ یوآن یا دیگر کرنسیاں لیں گی، تو ملکوں کو ڈالر اپنے خزانوں میں رکھنے کی ضرورت بھی کم ہو گی۔ یوں ڈالر کی طلب بھی گھٹے گی جس سے اس کی قدر و وقار میں واضح کمی آ سکتی ہے۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ چین گزشتہ ایک دہائی سے دھیرے دھیرے اسی سمت میں آ گے بڑھ رہا ہے۔ چین  نے 2009 میں یوآن کو بین الاقوامی مالیاتی لین دین کے لیے آزمانا شروع کیا۔ جس کے بعد سب سے پہلے آسیان ممالک کے ساتھ یوآن میں تجارت کا آغاز ہوا۔ آج، چین دنیا کے تین درجن سے زائد ممالک کے ساتھ یوآن میں تجارت کر رہا ہے۔ روس اور چین کی اب 90 فیصد سے زائد باہمی تجارت ڈالر کی بجائے یوآن اور روبل میں ہو رہی ہے، یہی نہیں، چین اور روس نے سوئفٹ کے متبادل ایک نیا بین الاقوامی ادائیگی کا نظام بھی کھڑا کر دیا ہے جس سے 100 سے زائد ممالک اور 1500 سے زیادہ مالیاتی ادارے جُڑ چکے ہیں۔ جس کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ ڈالر کی طلب میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

ماہرین کے بقول ایک طرف مختلف ممالک کی جانب سے تجارت ڈالر کی بجائے متبادل کرنسیوں میں کرنے کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری جانب برکس ممالک کی طرف سے مشترکہ کرنسی لانے کے فیصلے نے بھی ڈالر کی بادشاہت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ حقیقت بن جاتا ہے تو یہ عالمی مالیاتی نظام میں ایک زلزلہ لا سکتا ہے کیونکہ برکس ممالک دنیا کی 36 فیصد جی ڈی پی کے حامل ہیں۔ اتنی بڑی معیشتوں کے ڈالر کو ترک کر کے متبادل اپنانے کے فیصلے سے ڈالر کا عالمی کردار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

ماہرین کے بقول چینی اقدامات کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ ڈالر کی بادشاہت کب ختم ہو گی،تاہم  یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ ڈالر کی غیر متنازع اجارہ داری کو سنجیدہ خطرات لاحق ہو چکے ہیں کیونکہ ڈالر کے مقابلے میں دنیا نئے راستے تلاش کر رہی ہے جس کے بعد مالیاتی طاقت کا مرکز ایک نئی سمت میں حرکت کرتا نظر آ رہا ہے۔ ڈالر کی بادشاہت اب حقیقت کی بجائے تاثر اور روایت پر کھڑی ہے، جیسے ہی یہ تاثر متاثر ہو گا، ویسے ہی ڈالر کا کاغذی محل زمیں بوس ہو جائے گا۔

Back to top button