کیا جیل میں عمران کی بینائی متاثر ہونے کا دعوی ایک شوشہ ہے؟

تحریک انصاف نے 8 فروری کو اپوزیشن کی احتجاج کی کال کو مؤثر بنانے کے لیے اب یہ شوشہ چھوڑ دیا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو آنکھوں کا ایک سنگین مرض لاحق ہو گیا ہے، جس میں پردۂ بصارت یعنی ریٹینا کی مرکزی رگ بند ہونے سے انسان کی بینائی متاثر ہو جاتی ہے۔ ایسے میں عمران خان کے ملکیتی شوکت خانم ہسپتال نے ان کے طبی معائنے کے لیے جیل میں ان تک رسائی کی درخواست دائر کر دی ہے، تاہم حکومت اور جیل حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے عمران خان کی بینائی متاثر ہونے کا شوشہ اس لیے چھوڑا ہے کہ 8 فروری کو مبینہ الیکشن دھاندلی کے خلاف دی گئی احتجاجی کال سے قبل پارٹی رہنماؤں کی جیل میں ملاقات ممکن ہو سکے اور احتجاج کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان جیل میں خیریت سے ہیں اور ان کی بینائی متاثر ہونے کی افواہ صرف اٹھ فروری کے احتجاج سے پہلے بانی پی ٹی آئی کے لیے ہمدردی کے جذبات حاصل کرنے کے لیے پھیلائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی قیادت عمران اور ان کی اہلیہ کو صحت کی مناسب سہولیات فراہم نہ کرنے کی مسلسل شکایت کرتی رہتی ہے۔ شوکت خانم ہسپتال لاہور کے ڈائریکٹر کمیونیکیشن خواجہ نذیر کے مطابق انہیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے ہسپتال کے بانی چیئرمین عمران خان اڈیالہ جیل میں آنکھوں کی سنگین بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ خواجہ نذیر نے کہا کہ اگرچہ اس خبر کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ہمیں عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش ہے۔ ہمیں ان کی دیکھ بھال کرنے والے معالجین پر اعتماد ہے، اس لیے درخواست ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم کو خان صاحب تک رسائی دی جائے تاکہ ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کو دور کیا جا سکے۔
ادھر اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی رہنماؤں اور عمران خان کی بہنوں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے پارٹی رہنماؤں اور اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جیل حکام اور حکومت ایک سنگین مرض کے علاج میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں اور پچھلے کئی ہفتوں سے انہیں کسی سے بھی جیل میں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
یاد رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید میں ہیں۔ وہ دراصل 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں دی جانے والی سزا کاٹ رہے ہیں۔ خواجہ نذیر کے مطابق عمران خان کو آخری بار اکتوبر 2024 میں اپنے ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی، جس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود ان کے ذاتی ڈاکٹر کو معائنہ کی اجازت نہیں دی گئی، جو ایک زیرِ حراست قیدی کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق عمران کے باقاعدہ طبی معائنوں سے متعلق درخواست اگست 2025 سے عدالت میں زیر التوا ہے۔ اگلے روز میڈیا کے لیے جاری بیان میں پی ٹی آئی نے عدلیہ سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی اور کہا کہ یہ خالصتاً صحت کا معاملہ ہے، سیاست کا نہیں، اور کسی بھی قسم کی غفلت ناقابل قبول ہوگی۔
ادھر لاہور کے معروف ماہر امراض چشم سلمان احمد کا کہنا ہے کہ پردۂ بصارت یعنی ریٹینا کی مرکزی رگ بند ہونا ایک خطرناک بیماری ہے، جو کسی انسان کے بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں مستقل بینائی سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ بیماری عموماً ایک آنکھ کی اچانک یا بتدریج نظر کم ہونے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، جب آنکھ کے پردہ بصارت کی مرکزی رگ بند ہو جاتی ہے اور خون اور مائع جمع ہو جاتا ہے، جس سے بینائی شدید نقصان پہنچتا ہے۔
حکومتی مدت مکمل ہونے سے قبل عمران کی رہائی نا ممکن
ڈاکٹر سلمان احمد نے بتایا کہ اکثر مریض ابتدائی مرحلے میں درد محسوس نہیں کرتے، جس کی وجہ سے تشخیص میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول میں اضافہ، دل کے امراض اور سگریٹ نوشی اس بیماری کے ممکنہ عوامل ہیں، اور 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ علاج کے لیے جدید انجیکشنز اور لیزر تھراپی کا استعمال کیا جا سکتا ہے، اور بعض مریضوں میں بینائی کو محفوظ یا بہتر بنایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ شوگر اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کیا جائے۔
