کیا بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی پھر چھٹی ہونے والی ہے؟

وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کئے جانے کے بعد بلوچستان میں تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ سابق وزیر اعلی جام کمال کے بعد موجودہ وزیر اعلیٰ عبد القدوس بزنجو کے خلاف بھی پارٹی میں بغاوت پھوٹ پڑی ہے۔ مرکز میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد صوبائی حکومتیں بھی لرزنا شروع ہو گئی ہیں۔ پنجاب میں عثمان بزدار کے خلاف پارٹی کے اندر سے بغاوت کی بازگشت کے بعد بلوچستان میں میر عبد القدوس بزنجو کی سرکار بھی ڈانواں ڈول دکھائی دیتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اگر تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں کپتان کی چھٹی ہو گئی تو پنجاب بلوچستان اور کے پی میں بھی وزرائے اعلیٰ کی تبدیلی لازمی ہو گی۔ بلوچستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ میر ظہور بلیدی اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی ملی بھگت سے باپ پارٹی کے جام کمال خان کو استعفی دینے پر مجبور کر دینے والے عبد القدوس بزنجو اب مکافات عمل کا شکار ہونے جا رہے ہیں۔

اب بزنجو کو اپنی ہی جماعت کے ظہور بلیدی اور حال ہی میں پی ٹی آئی چھوڑنے والے سردار یار محمد رند کے اشتراک سے وزیراعلیٰ بلوچستان کی کرسی سے گرانے کی مہم شروع کردی گئی ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان کے سابق وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ظہور بلیدی نے چھ ماہ قبل سیاسی بحران کے دوران عبدالقدوس بزنجو کا ساتھ دے کر وزیراعلیٰ جام کمال کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا تھا، اب ظیور بلیدی نے وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ظہور بلیدی نے کہا ہے کہ ’بلوچستان میں تباہ کن طرز حکومت کے پیش نظر بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی اور صوبائی قائدین، اراکین سینٹ، صوبائی و قومی اسمبلی اور اتحادیوں کی مشاورت سے قدوس بزنجو کی بدعنوانی اور نااہل حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔

دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نہ صرف متحرک ہوگئے ہیں بلکہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد اسلام آباد میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ جام کمال نے اپنی حالیہ پریس کانفرنسوں کے دوران مطالبہ کر چکے ہیں کہ وفاق میں بلوچستان کے ارکان اسمبلی کو بھی اتحادی کی نظر سے دیکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’چیئرمین سیںیٹ صادق سنجرانی کے انتخاب اور اعتماد کے ووٹ میں ہم نے حکومت کا ساتھ دیا۔ لیکن اب ہم فی سبیل اللہ سیاست نہیں کریں گے۔ بقول جام کمال، بعض لوگ بلوچستان عوامی پارٹی کو نہیں چلنے دینا چاہتے۔ ہمارے لوگوں کے مطالبات بغیر احتجاج کے پورے کیے جانے چاہیے تھے۔ یاد رہے کہ جام کمال سے ہاتگ ملانے اور قدوس بزنجو کے خلاف کھڑے ہونے کے بعد ظہور بلیدی سے وزارت پلاننگ اینڈ ڈویلمپنٹ کا قلمدان بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

عمران مجبور کررہے ہیں کہ ہم ووٹنگ کیلئے اپنے لوگوں کیساتھ آئیں

اسلام آباد میں سیاسی ہلچل اور بلوچستان کے سیاسی امور پر نظر رکھنے والے صحافی سمجھتے ہیں کہ ’بلوچستان عوامی پارٹی ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہ رہی ہے۔ چونکہ اسوقت وزیراعظم عمران کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوچکی ہے لہذا جام کمال اور ان کا گروپ موقعے کا فائدہ اٹھا کر اپنی حمایت کے عوض وزیراعظم سے مطالبات منواسکتے ہیں۔ ممکنہ طور پر وفاق میں جام کمال کے گروپ کو وزیر مملکت کا عہدہ مل سکتا ہے اور وہ تحریک عدم اعتماد کے خلاف ہی ووٹ کریں گے، تاہم وہ سیاسی دباؤ بلوچستان کے حوالے سے ڈال رہے ہیں۔ خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ ارکان ہیں، جو اس وقت دونوں طرف سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور وفاق میں کوئی حصہ لینے کے علاوہ صوبے میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی بھی ان کے منصوبے کا حصہ ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں صورت حال اس وقت کچھ واضح ہوجائے گی، جب ان کے گروپ کی وزیراعظم سے ملاقات ہوگی اور اس میں جو کچھ سامنے آئے گا وہ اہمیت کا حامل ہوگا۔

دوسری جانب بلوچستان کے سیاسی معاملات اور تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ بلوچستان عوامی پارٹی، جو دو دھڑوں میں بٹ چکی ہے، کا ایک حصہ وزیراعظم کے حق میں اور دوسرا مخالفت میں جاسکتا ہے۔ ان کے خیال میں اگر مرکز میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو دوسری تبدیلی بلوچستان میں آسکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں ویسے تو تبدیلی پورے ملک میں آتی ہوئی نظر آرہی ہے، تاہم مرکز کے بعد پنجاب، چیئرمین سینیٹ اور بلوچستان میں تبدیلی کے امکانات موجود ہیں جبکہ پنجاب میں بزدار سرکار پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے اپنے لوگ عثمان بزدار کو بطور وزیراعلی مزید برداشت کرنے سے انکار کر چکے ہیں۔ تاہم عمران خان مرکز میں اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ نکلنے تک پنجاب کے وزیر اعلی کو تبدیل نہیں کرنا چاہتے جس کا خمیازہ انہیں قاف لیگ کی علیحدگی کی صورت میں بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

Is the CM of Balochistan going on leave again? Urdu News

Back to top button