جنگ کے بعد امریکی ڈالر کی معاشی اجارہ داری ختم ہونے کا امکان

 

 

 

حالیہ ایران امریکہ جنگ کے بعد عالمی سیاست اور معیشت ایک نئے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں برسوں سے قائم امریکی ڈالر کی بالادستی کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ چینی کرنسی یوآن ایک مضبوط متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر چین تیزی سے اپنی کرنسی کو عالمی تجارت میں متعارف کروا رہا ہے جبکہ بعض ممالک میں تو تیل کی تجارت یوآن میں ہونے لگی ہے،جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے نکلنے والے جہاز اب ڈالر کی بجائے چینی کرنسی میں ڈیل کررہے ہیں جسے ڈالر کے لیے ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔

 

مبصرین کے مطابق پاکستان بھی اس بدلتے ہوئے عالمی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی معاشی حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں لا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی تجارت میں امریکی ڈالر پر انحصار کم کرے اور متبادل کرنسیوں کو فروغ دے۔ اس سلسلے میں پاکستان چینی کرنسی یوآن، روسی کرنسی روبل اور سعودی کرنسی ریال میں تجارت کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی یہ حکمت عملی کئی حوالوں سے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اس سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو سکتا ہے اور روپے کی قدر کو استحکام مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ درآمدی اخراجات میں بھی کمی ممکن ہے، جو کہ موجودہ معاشی حالات میں انتہائی اہم ہے۔ تاہم ماہرین کے بقول ڈالر سے دیگر عالمی کرنسیوں پر شفٹ میں چیلنجز بھی کم نہیں ہیں کیونکہ ڈالر کی متبادل کرنسیاں، خصوصاً یوآن اور روبل، ابھی تک مکمل طور پر مستحکم نہیں سمجھی جاتیں اور ان میں اتار چڑھاؤ پایا جاتا ہے،

ماہرین کے بقول دنیا تیزی سے "ڈی ڈالرائزیشن” کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں ممالک اپنی تجارت کے لیے مقامی یا متبادل کرنسیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ڈالر کی مکمل اجارہ داری کا خاتمہ فوری طور پر ممکن نہیں، لیکن عالمی معاشی و سیاسی حالات کی وجہ سےاس کی گرفت کمزور ضرور پڑ رہی ہے۔ مستقبل میں عالمی مالیاتی نظام زیادہ متنوع ہو سکتا ہے، جہاں ایک کے بجائے کئی کرنسیاں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور پاکستان نے اس تبدیلی کا حصہ بننے کی ابھی سے تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ بروقت فیصلے کرکے عالمی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا جا سکے،

 

معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی تجارت کے لیے امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور متبادل کرنسیوں کو اپنانے کی حکمت عملی ایک اہم معاشی موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے جہاں پاکستان کے ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم ہو گا وہیں روپے کی قدر کو استحکام  دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کا عالمی جیو پولیٹیکل منظرنامے میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق خود کو ڈھالنا بھی آسان ہو جائے گا، یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف چین کے ساتھ یوآن میں تجارت کو فروغ دے رہا ہے بلکہ روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بارٹر ٹریڈ اور مقامی کرنسیوں میں لین دین کے نئے میکانزم پر بھی سنجیدگی سے غور کررہا ہے۔ یہ کثیر جہتی حکمت عملی جہاں ایک طرف ملکی معیشت کو ڈالر کے اتار چڑھاؤ سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے، وہاں دوسری طرف اسے تجارتی خسارے کے توازن اور عالمی مالیاتی نظام میں موجود پیچیدگیوں جیسے بڑے چیلنجز سے بھی بچا سکتی ہے۔

اسلام آباد مذاکرات کےلیے مضبوط اور بہترین ٹیم بھیجی ہے :  ٹرمپ

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان ڈالر کی اجارہ داری ختم ہونے والی ہے اور حالیہ کشیدگی نے امریکا کا خوف ختم کردیا ہے، مشرق وسطیٰ میں بہت تبدیلی آنے والی ہے لگتا ہے عالمی معیشت جلد وسطی ایشیاء میں منتقل ہونے والی ہے ۔ملک بوستان کے مطابق اس وقت مستقبل یوآن کا نظر آتا ہے، جہاں دنیا بھر میں 95 فیصد ایل سیز ڈالر میں ہوتی تھیں اب کم ہو کر 57 فیصد پر آگئی ہیں، اب اگر ہر ملک اپنی کرنسی یا یوآن میں تجارت شروع کردے تو یوآن میں ایل سیز بنیں گی جس سے ڈالر کی ایل سیز 50 فیصد سے بھی نیچے آجائے گی اور یوں ڈالر بہت نیچے آجائے گا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ حالیہ ایران امریکا کشیدگی کے بعد چینی یوآن ایک مضبوط کرنسی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے تاہم اب بھی اسے ڈالر کی جگہ لینے میں کافی وقت لگے گا۔

Back to top button