کیاواقعی اسٹیبلشمنٹ پراجیکٹ عمران کودفن کرنے والی ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار وجاہت مسعود نے کہا ہے کہ پراجیکٹ عمران خان کا صحیح معنوں میں آغاز 2008 میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہوا تھا جو بظاہر اب اپنے انجام کی طرف گامزن ہے۔ انکا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ دار تو صاف بچ نکلے لیکن آج تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سانحہ 9 مئی 2023 کے مجرموں کو سزائیں مل رہی ہیں۔ اس واقعاتی خلیج ہی میں پاکستان کی تمثیل کا المیہ چھپا ہوا ہے۔ اس کھیل کے کردار ابھی اپنے مصنف کی تلاش میں ہیں۔ جج نے ابھی اپنا فیصلہ نہیں لکھا لیکن حقیقی مجرم اپنا جرم جانتے ہیں۔ تاریخ کی عدالت میں سماعت جاری ہے اور قوم کے لیے خاموش رہنے کا تادم توسیع حکم نافذ ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ 27 دسمبر کے سانحہ عظیم 2007 کو 17 برس گزر گئے۔ اس شام جی ایچ کیو سے کچھ ہی دور راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ 27 دسمبر کو بے نظیر بھٹو کے یوم شہادت پر اخبارات میں ان 60 افراد کو فوجی عدالتوں سے قید کی سزائوں کی خبر شائع ہوئی ہے جنہیں 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کا مجرم پایا گیا۔ وقت کا جبر ہے کہ 2015 میں 21ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ہونیوالی فوجی عدالتیں 6 جنوری 2017 کو ختم ہونا تھیں۔ 23ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان عدالتوں کو 6 جنوری 2019ءتک توسیع دی گئی تھی۔ مقررہ مدت پوری ہونے کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت میں انہی عدالتوں کے ذریعے متعدد افراد کو سزائے موت اور طویل مدتی سزائیں سنائی گئیں۔ تب تحریک انصاف خاموش رہی۔ اب اس جماعت کا مؤقف ہے کہ عام شہریوں پر فوجی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔
وجاہت مسعود کے مطابق یہ سزائیں براہ راست پیغام ہیں کہ حکومت اور تحریک انصاف میں شروع ہونے والے مذاکرات میں ’جوڈیشل کمیشن‘ کا مطالبہ بے معنی ہو گیا ہے۔ بیرسٹر گوہر خان کا فوجی حکام سے اپیل کا اعلان دراصل فوجی عدالتوں میں کیسز تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ ہمارے دیس کی روایت ہے کہ ملکی مفاد کے خودساختہ ٹھیکیدار عسکری ہوائوں کا رخ دیکھ کر اپنی سیاسی لغت مرتب کرتے ہیں۔ ہجوم کے اس منافقانہ رویے کو ’گرینڈ مارچ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارا گرینڈ مارچ ہی تھا کہ ہم نے مسلم اقلیت کے لیے آئینی تحفظات کی سیاسی جدوجہد کو ’دو قومی نظریے‘ کا نام دے کر اعلان کیا کہ ہندو اور مسلم اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ پھر ہم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو جمہوری وفاق کی بجائے مضبوط مرکز کی ضرورت ہے۔ مشرقی پاکستان کے مسلمانوں کے ’اسلام‘ پر سوالیہ نشان اٹھائے۔ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کی غرض سے بلائی گئی اسلامی کانفرنس کو مسلم امہ کا بلاک قرار دیا۔ شیر علی پٹودی کی بخشی ہوئی ترکیب ’نظریہ پاکستان‘ ضیاالحق کے لیے سائبان بن گئی۔ انتخابی دھاندلی کے خلاف مزاحمت ’اسلامی نظام کی تحریک‘ بن گئی۔ افغان جنگ میں ہم نے مجاہدین کو طالبان اور طالبان کو خوارج میں تبدیل ہوتے دیکھا۔ لہازا گرینڈ مارچ کسی قوم کے سیاسی شعور کا ابتذال ہے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ جنوری 2009 میں اقوام متحدہ کی طرف سے بینظیر بھٹو شہید کے قتل کے محرکات جاننے کے لیے پاکستان آنے والے چلی کے ماہر قانون ہریالی مونوز HERALDO MUÑOZ نے اپنی کتاب Getting Away With Murder میں لکھا کہ ’بینظیر کے قتل میں سارا گائوں ملوث تھا‘۔ انہوں نے لکھا کہ ’القاعدہ نے حکم دیا، پاکستانی طالبان نے اد پر عمل درآمد کیا۔ مشرف جنتا نے اسکی حوصلہ افزائی کی، حملے کے وقت بے نظیر کا سیکورٹی حصار توڑ دیا گیا، پولیس حکام نے جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی، اور پاکستان کے بیشتر سیاست دانوں نے قتل کی مکمل تحقیقات کرنے کا مطالبہ ہی نہیں کیا‘۔ بینظیر کی شہادت سے ’پراجیکٹ عمران‘ صحیح معنوں میں شروع ہوا۔ بینظیر کے قتل کے ذمہ دار بچ نکلے۔ 9 مئی 2023 کے مجرموں کو سزائیں مل رہی ہیں۔ اس واقعاتی خلیج ہی میں پاکستان کی تمثیل کا المیہ چھپا ہوا ہے۔ اس کھیل کے کردار ابھی اپنے مصنف کی تلاش میں ہیں۔ جج نے ابھی اپنا فیصلہ نہیں لکھا لیکن حقیقی مجرم اپنا جرم جانتے ہیں۔ تاریخ کی عدالت میں سماعت جاری ہے اور قوم کے لیے خاموش رہنے کا تادم توسیع حکم نافذ ہے۔
