تیراہ وادی سے 70 ہزار افراد کی ہجرت کا ذمہ دار وفاق یا PTI

 

 

 

سخت برف باری اور یخ بستہ موسم میں خیبر پختونخوا میں افغان سرحد کے قریب واقع وادی تیراہ سے 70 ہزار مقامی افراد کی جبری نقل مکانی ایک سنگین انسانی المیے کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے لیکن وفاق اور خیبر پختون خواہ کی حکومتیں اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں اور اسکا الزام ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وادی میں کوئی فوجی کارروائی جاری نہیں اور نہ ہی اس کی منصوبہ بندی کی گئی ہے لیکن سہیل آفریدی کی حکومت نے جان بوجھ کر تیراہ وادی کے مکینوں کو ایک ممکنہ فوجی آپریشن سے ڈرا کر نقل مکانی پر مجبور کیا تاکہ وہ وفاقی حکومت کو بدنام کیا جا سکے۔

 

یاد رہے کہ افغان سرحد کے قریب واقع وادی تیراہ سے پچھلے چھ ہفتوں کے دوران اب تک تقریباً 70 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ شدید ٹھنڈ اور برف باری کے دوران نقل مکانی سے زیادہ تر خواتین اور بچے متاثر ہوئے ہیں جو باڑہ اور قریبی علاقوں میں پہنچ رہے ہیں۔ تاہم وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ تیراہ میں لوگوں کی نقل مکانی کوئی فوجی کارروائی کی وجہ سے نہیں بلکہ موسم کی شدت اور برف باری کے باعث معمول کی سردیوں کی ہجرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری ہیں، لیکن کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا، تاکہ غیر ضروری جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

 

خواجہ آصف نے کہا کہ اس مسئلے کو سیاست زدہ بنایا جا رہا ہے اور تاثر دیا جا رہا ہے کہ وادی کے لوگ جبراً بے گھر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر نقل مکانی ہو رہی ہے تو یہ صوبائی حکومت اور مقامی افراد کے درمیان ہے، اور فوج یا وفاقی حکومت کا اس سے تعلق نہیں ہے۔ ادھر خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے وفاقی حکومت کو بے گھر ہونے والے افراد کی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ وفاقی حکومت نے فوجی کارروائی سے متعلق اپنے سابقہ مؤقف سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ صوبائی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی فوج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت تیراہ میں مکمل فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دے گی۔

 

مقامی انتظامیہ کے مطابق تیراہ کی تقریباً ڈیڑھ لاکھ آبادی میں سے اب تک تقریباً 10 ہزار خاندانوں، یعنی 70 ہزار افراد کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے۔ امدادی سرگرمیوں کے نگران افسر طلحہ رفیق عالم نے بتایا کہ رجسٹریشن کی آخری تاریخ 23 جنوری سے بڑھا کر 5 فروری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کی بنیادی وجہ امن و امان کی بگڑتی صورتحال ہے اور حالات بہتر ہونے پر بے گھر افراد کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی۔ زر بادشاہ، جو اپنی اہلیہ اور چار بچوں کے ساتھ نقل مکانی کر رہے تھے، نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں مارٹر گولے گرنے سے ایک خاتون جاں بحق اور چار بچے زخمی ہوئے۔ نریندر سنگھ نے کہا کہ اقلیتی سکھ برادری کے افراد بھی شدید برف باری اور خوراک کی کمی کے باعث تیراہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

 

ادھر پاکستانی فوج کے مطابق وادی میں تقریباً 400 سے 500 شدت پسند موجود ہیں جو تحریک طالبان سے تعلق رکھتے ہیں۔ حکام کے مطابق کئی رہنما اور جنگجو افغانستان سے وارد ہو کر مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ فوج نے کہا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری ہیں تاکہ دہشت گردی کے خطرات کو کم کیا جا سکے، لیکن وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن نہیں ہو رہا۔

کیا جیل میں عمران کی بینائی متاثر ہونے کا دعوی ایک شوشہ ہے؟

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر عام شہریوں کے مسائل فوج کے کاندھوں پر ڈالنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تیراہ میں بنیادی سہولیات، جیسے سکول، ہسپتال اور پولیس اسٹیشن کی کمی ہے، اور صوبائی حکومت مقامی حکمرانی کی ناکامیوں کا الزام فوج پر ڈال رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ تیراہ میں غیر قانونی بھنگ کی کاشت شدت پسندی اور مقامی کشیدگی کا بڑا سبب ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی دہشت گردوں اور سیاسی مفادات میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ لیکن صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنما وفاقی موقف کو سختی سے جھٹلاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس معاملے پر ایک عوامی جرگہ بلانے کا اعلان کیا تاکہ تیراہ کے قبائل سے معلوم کیا جا سکے کہ کیا وہ رضاکارانہ طور پر گھر چھوڑ کر گئے یا جبراً بے گھر کیے گئے۔ یاد رہے کہ تیراہ وادی ستمبر 2025 میں بھی قومی توجہ کا مرکز بنی تھی، جب پراسرار دھماکوں میں کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

Back to top button