5 ہزار کا کرنسی نوٹ بند ہونے کی خبر میں کتنی حقیقت ہے؟

 

 

 

 

پاکستان میں پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کیے جانے سے متعلق افواہیں ایک بار پھر زیر گردش ہیں۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نئے کرنسی نوٹ متعارف ہوتے ہی پانچ ہزار روپے کا نوٹ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے گا۔ اگرچہ اس نوعیت کی افواہیں ماضی میں بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اس بار معاملہ محض سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا بلکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس تک جا پہنچا، جہاں سٹیٹ بینک آف پاکستان کو باضابطہ طور پر وضاحت دینا پڑی۔ اجلاس میں گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ملک میں نہ تو پانچ ہزار روپے کا نوٹ بند کیا جا رہا ہے اور نہ ہی اسے متروک قرار دینے کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر پانچ ہزار کا نوٹ ختم کرنے بارے وائرل خبریں من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ تاہم ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر پانچ ہزار کا نوٹ ختم کرنے کے بارے میں ایسی افواہیں بار بار کیوں جنم لیتی ہیں اور ان کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں پانچ ہزار روپے کے نوٹ سے متعلق افواہوں کا بار بار سامنے آنا کوئی نیا رجحان نہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ملک میں غیر دستاویزی معیشت، نقد لین دین پر انحصار اور ماضی میں کیے گئے بعض پالیسی فیصلے ہیں۔2016 میں انڈیا کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹ اچانک بند کیے جانے کے فیصلے کے بعد خطے کے دیگر ممالک میں بھی اس نوعیت کی قیاس آرائیاں جنم لینے لگیں، جن کا اثر پاکستان میں بھی دیکھا گیا۔ تاہم  ’ایسی افواہیں نہ صرف عوام میں غیر ضروری خوف پیدا کرتی ہیں بلکہ مالی نظام پر اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ’ہر بار جب حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے، کالے دھن کے خاتمے یا ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کی بات کرتی ہے تو سوشل میڈیا پر یہ تاثر تیزی سے پھیل جاتا ہے کہ بڑے کرنسی نوٹ، خصوصا پانچ ہزار کا نوٹ، ختم کیا جا رہا ہے۔حالانکہ ابھی تک حکومت یا سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔‘

سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ

دوسری جانب سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق پانچ ہزار روپے کے نوٹ سے متعلق افواہیں اکثر بغیر کسی مستند سرکاری حوالے یا تصدیق کے سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں عوام میں بے چینی پھیلتی ہے اور لوگ غیر ضروری مالی فیصلے کرنے لگتے ہیں، جو مجموعی طور پر معیشت کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ 5ہزار کے نوٹ کی بندش بارے سٹیٹ بنک کی سامنے آنے والی وضاحت نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر خبر حقیقت پر مبنی نہیں ہوتی۔ عوام کو چاہیے کہ مالی معاملات سے متعلق خبروں میں صرف مستند، سرکاری اور ذمہ دار ذرائع پر ہی انحصار کریں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی افواہیں نہ صرف عوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہیں بلکہ مالی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام افواہوں کے بجائے حقائق پر توجہ دیں اور ذمہ دار ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ہی اپنے مالی فیصلے کریں۔

ایسے میں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ اگر حکومت پرانے کرنسی نوٹ ختم نہیں کر رہی تو پھر نئے کرنسی نوٹ لانے کی بات کیوں کی جا رہی ہے؟  گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمدکے مطابق حکومت پاکستان نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن پر کام کر رہی ہے، تاہم اس عمل کا کسی مخصوص نوٹ کو ختم کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک معمول کا  تکنیکی عمل ہے جو دنیا کے بیشتر ممالک وقتاً فوقتاً انجام دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کی بنیادی وجوہات میں کرنسی کے سکیورٹی فیچرز کو بہتر بنانا، جعلی نوٹوں کی روک تھام، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور نوٹوں کی پائیداری میں اضافہ شامل ہے کیونکہ وقت کے ساتھ پرانے نوٹ خستہ حال ہو جاتے ہیں، جنہیں مرحلہ وار تبدیل کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ اس عمل میں عموماً پرانے اور نئے نوٹ ایک طویل عرصے تک ساتھ ساتھ گردش میں رہتے ہیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ اس لئے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کے عمل کو پرانے نوٹوں کے خاتمے سے جوڑنا سراسر بے بنیاد اور لغو تصور ہے۔

Back to top button