کیا اسلام آباد والوں کو یرغمالی بننے سے بچانے کا قانون جائز ہے ؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ پرامن اجتماع اور امنِ عامہ بل کا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری اور صدر کی توثیق کے بعد باضابطہ طورپر قانون بن چکا ہے جس کا دائرۂِ اطلاق صرف اسلام آباد تک محدود ہے اور اس کا بنیادی مقصد وفاقی دارالحکومت کے رہائشیوں کو بار بار یرغمالی بننے سے بچانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے ایوان کے اندر اور قائمہ کمیٹی میں بل کی بھرپور مخالفت کی لیکن کوئی ایک بھی ترمیم تجویز یا پیش نہیں کی۔ نئے قانون کی خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ تین برس کی سزا ہے جس کا دارومدار، عدالت کی صوابدید پر ہے۔ یہ سزا تین ماہ یا اُس سے کم بھی ہو سکتی ہے۔ اس جرم کا مرتکب شخص اگر ایک سزا پانے کے بعد بھی یہی عمل دہراتا ہے تو زیادہ سے زیادہ سزا دس برس ہے جس کا فیصلہ بھی بہرحال عدالت کو کرنا ہوگا۔ عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ نے پوری نیک نیتی کے ساتھ آئینی تقاضوں کے مطابق قانون سازی کر دی ہے۔ اب انتظامیہ اور عدلیہ کو اس قانون کی حقیقی روح کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کوئی جماعت یا گروہ اسلام اباد کے پچیس لاکھ شہریوں کو یرغمالی نہ بنا پائے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ نیا قانون پانچ جماعتوں کا تیار کردہ پرائیویٹ بل تھا جس پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا، بلوچستان عوامی پارٹی کی سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری، عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر عمر فاروق، ایم۔کیو۔ایم کے سینیٹر فیصل سبزواری اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے میں نے دستخط کیے۔ یہ بل، کسی اجتماع کو نہیں روکتا، یہ کسی سیاسی سرگرمی پر قدغن بھی نہیں لگاتا، اور آزادیِٔ اظہار کی راہ میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں ڈالتا۔ اس کا مقصد ہر مہذب جمہوری ملک کی طرح، اجتماع واحتجاج کے بنیادی حق کو عام شہریوں کے بنیادی حقوق سے ہم آہنگ کرتے ہوئے نظم وضبط کے قرینوں میں لاتا یعنی ریگولیٹ کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 16 قرار دیتا ہے کہ __ ’’امنِ عامہ کے مفادمیں، قانون کے ذریعے عائد کردہ پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو پُرامن طورپر اور اسلحہ کے بغیر، جمع ہونے کا حق ہوگا۔‘‘ یہ آئینی آرٹیکل واضح طورپر ایک قانون کا تقاضا کرتا تھا۔ تاخیر سے ہی سہی حالیہ قانون کے ذریعے آئین کا یہ تقاضا، پارلیمنٹ نے پورا کردیا ہے۔ اسلام آباد شہر ایک عرصے سے ایسے قانون کی ضرورت محسوس کررہا تھا جس کی صرف دو بڑی سڑکیں بند کردی جائیں تو وہ پنجرہ بن کے رہ جاتا ہے۔ شاہراہ دستور کے پہلو میں ایک سو کے لگ بھگ ممالک کے سفارت خانے قائم ہیں۔ اسی پر ایوانِ صدر، وزیراعظم آفس، پارلیمنٹ ہائوس، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، پی۔ٹی۔وی ہیڈکوارٹرز، ریڈیو پاکستان، دفتر خارجہ، وفاقی محتسب، ایف۔بی۔آر، ارکانِ پارلیمنٹ کی لاجز اور تمام وفاقی وزارتوں کے دفاتر ہیں۔ اس شاہراہ کو دبوچ لینے کے معنی حکومت کی پوری انتظامی مشینری کومفلوج کر دینا ہے۔ اس کا ایک بڑا ہی ہولناک تجربہ، 2014 میں ہوا جب عمران اور طاہر القادری اسلام آباد پر حملہ آور ہوئے اور تمام تحریری ضمانتوں کو پامال کرتے ہوئے اسلام آباد کی شہ رگ، شاہراہِ دستور پر خیمہ زَن ہوگئے۔ طاہرالقادری تو 70 دِن بعد کھُدی قبروں کے دہانے کھلے چھوڑ کر، کفن پوش فدائین کے ہمراہ واپس چلے گئے لیکن خان صاحب 126 دِن تک ڈی چوک پر قابض رہے۔

شیخ رشید احمد نے اپنی جان لینے کی کوشش کیوں کی؟

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اس دھرنے نے کیا کیا کچھ کیا اور کیسی کیسی ناروا روایات قائم ہوئیں، یہ طویل داستان ہے۔ بی۔بی۔سی کے مطابق پاکستانی ریاست کو اس دھرنے سے 547 ارب روپے کا نقصان ہوا جس کے عوض 2018 میں عمران خان کو اقتدار سونپ دیا گیا۔ صرف دس ارب روپے سے زائد کا نقصان تو اسلام آباد کے تاجروں کا ہوا۔ سب سے بڑا زیاں یہ ہوا کہ ’ریڈ زون‘ اور شاہراہ دستور کی حرمت پامال کردی گئی۔ شہر کے کمزور دفاع، قانون شکنوں کی دیدہ دلیری اور شہریوں کی بے بسی آشکارا ہوگئی۔ وہ دِن اور آج کا دِن شاہراہِ دستور چین کی نیند سوسکی نہ ڈی۔چوک کو قرار ملا۔ دس برس سے یہ چلن جاری ہے۔ اس وقت بھی چارسو کے لگ بھگ کنٹینر مختلف ناکوں پر کھڑے ہیں جن کا کرایہ کروڑوں روپے میں ہے۔ ’پُرامن اجتماعات اور امن عامہ‘ کے حوالے سے تمام مہذب جمہوری ممالک نے کڑے قوانین بنا رکھے ہیں لیکن پاکستان میں ایسا نہیں تھا لہذا یہ قانون سازی ضروری تھی۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ احتجاج اور اجتماع کو بنیادی حق قرار دینے والے ہمارے 1973 کے دستور نے عام شہریوں کے بنیادی حقوق کا بڑی صراحت سے ذکر کیا ہے جن کی اڑ میں اسلام آباد کو یرغمال بنایا جاتا ہے۔ لیکن ان آئینی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اجتماع اور احتجاج کے حق کو معقول پابندیوں کے تابع رکھنے کا آئینی تقاضا، لازم قرار دیتا ہے کہ اس حق کو لامحدود اور بے مہار نہ ہونے دیا جائے۔ اس ’’حق‘‘ کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ عام شہریوں کے حقوق سلب کرکے ان کی زندگیاں اجیرن بنا دی جائیں۔ وہ اپنے گھروں سے نہ نکل پائیں۔ بچے درس گاہوں کو نہ پہنچ پائیں۔ امتحانات نہ دے سکیں۔ مریض ہسپتالوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیں۔ حاملہ خواتین، گاڑیوں میں بچے جنم دیتی رہیں۔ مزدور خالی ہاتھ فاقہ کش بچوں کے پاس لوٹتے رہیں۔ 25 لاکھ شہری عذاب پیہم کی صلیب پر جھُولتے رہیں اور دنیا بھر کے سفیر، پاکستان کے دارالحکومت کی تصویر کشی کرتی رپورٹس اپنے اپنے ممالک کو بھیجتے رہیں۔ کوئی سیاح کیوں ادھر کا رُخ کرے گا؟ کوئی سرمایہ کار کیوں یہاں آئے گا؟ سیاست بازی کرنے والے اتنا تو بتا دیں کہ کون سے ملک میں ایسے بے ہنگم اور قاعدے قانون سے ماوریٰ اجتماع کا حق حاصل ہے؟

Back to top button