کیا با اثر قاتلوں کو خون کی قیمت دے کر رہائی لینے کا قانون جائز ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ کراچی میں گل احمد ٹیکسٹائل ملز کے مالک کی اہلیہ کے ہاتھوں کچلے جانے والے باپ اور بیٹی عمران اور آمنہ کے خون کا سودا کرنے پر انکے اہلخانہ کو تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے اس قانون کو ختم کیا جانا چاہیے جس نے امیروں کے لیے غریبوں کے خون کی قیمت مقرر کر رکھی ہے۔
بلال غوری بتاتے ہیں کہ موجودہ قوانین کے تحت قتل خطا اور قتل بالسبب کا ارتکاب کرنیوالوں کیلئے ہرممکن سہولت کا بندوبست کیا گیا ہے اور نہایت شاندار پیشکش موجود ہے ۔وہ چاہیں تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 331 کے تحت قتل کے بعد دیت کی رقم تین سال کی آسان اقساط کی شکل میں بھی ادا کر سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ نشے میں دھت تیز رفتار کار چلانے والی کے ہاتھوں مرنے والا عمران اور اس کی بیٹی زندگی بھر کی محنت مزدوری کے باوجود اتنی بڑی رقم جمع نہیں کر سکتے تھے جو انکے خون کے بدلے ادا کی گئی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر بالفرض محال انکے گھر والے خون بہا کہ پیشکش مسترد بھی کر دیتے تو کیا ہمارا نظام عدل طاقتور اور بااثر شخصیات کو سزا دینے کی جسارت کرسکتا ہے؟ چلیں انہوں نے معاف کردیا تو قتل خطا اور قتل بالسبب کا معاملہ ختم ہوا مگر فساد فی الارض کی بنیاد پر عدالت اب بھی تعزیر کے تحت 14 سال تک قید کی سزا دے سکتی ہے۔ نشہ کی حالت میں گاڑی چلانے پر سزا ہوسکتی ہے، اگر ایسا ہوجائے تو پھر معاف کرنے والوں کو برا بھلا کہہ لیجئے گا۔ لیکن دوسرے کیس میں بھی خاتون کی ضمانت ہو گئی ہے۔

اپنی تازہ تحریر میں بلال غوری کہتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی بڑی اور مہنگی گاڑی ہے تو اس کے ڈیش بورڈ میں دوچارکروڑ لیکر جیسے چاہیں ڈرائیونگ کریں ،راہ گیروں کو کچل کر مار ڈالیں ،آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی،قتل خطا کی اس واردات میں دیت ادا کرکے آپ آزاد ہو جائینگے۔یقین نہیں آتا تو ضابطہ فوجداری قوانین یعنی پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 299 سے لیکر 338 تک کا مطالعہ کرلیں یا پھر شاہ رخ جتوئی کیس سے نتاشا اقبال کیس کو دیکھ لیں ۔اگرچہ اسلامی قوانین کے نام پر پاکستان کی معکوس ترقی کا سہرا جنرل ضیاالحق کے سر جاتا ہے مگر دولت مندوں کی سہولت کاری کیلئے بنایا گیا دیت کا یہ قانون جس کے تحت قاتل چھوٹ جاتے ہیں ،اس کے ذمہ دار دو افراد ہیں ،سابق چیف جسٹس افضل ظلہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف۔ دیت ،قصاص ،عفو اور تعزیر جیسی عرب اصطلاحات کی آڑ میں نئے قوانین بنانے کا تصور تو جنر ل ضیاالحق کے دور میں ہی سامنے آیا مگر اس پر عملدرآمد کی نوبت بعد میں آئی۔جماعت اسلامی کے رہنما محمد اسماعیل قریشی نے وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا تو ان کی درخواست پر ضابطہ فوجدار ی کی 300دفعات کو غیر اسلامی قرار دیدیا گیااور حکومت کو ہدایت کی گئی کہ ان کی جگہ دیت اور قصاص کے اسلامی قوانین کا نفاذ کیا جائے۔

بلال غوری کے مطابق چیف جسٹس محمد حلیم کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس افضل ظلہ چیف جسٹس بن چکے تھے جو ضیاالحق کی طرح قدامت پسندانہ خیالات اور سوچ کے حامل تھے ۔انہوں نے وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کو ٹھیک گردانتے ہوئے بینظیر بھٹو کی حکومت پر دبائو ڈالا کہ فیصلے پر عملدرآمد کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ڈکٹیشن لینے سے انکار کردیا مگر جب ان کی حکومت برطرف ہونے کے بعد غلام مصطفی جتوئی کی سربراہی میں نگران حکومت بنی تو یہ دبائو برداشت کرنا دشوار ہوگیا یوں 5ستمبر 1990ء کو قصاص اور دیت کے حوالے سے آرڈیننس جاری کردیا گیا۔اسکے بعد مسلسل سات سال تک حکومتیں یکے بعد دیگرے آرڈیننس جاری کرتی رہیں مگر پارلیمنٹ سے توثیق نہ ہونے کے سبب قوانین میں تبدیلی نہ کی جاسکی۔آخر کار یہ قانون سازی میاں نوازشریف کے حصے میں آئی۔فروری 1997ء میں انہوں نے دوسری بار بطور وزیراعظم حلف اُٹھایا اور اپریل 1997ء میںکریمنل لا امینڈمینٹ ایکٹ 1997ء پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد قانون بن گیا۔اس ترمیمی بل کے تحت ضابطہ فوجداری میں 299 سے 338 تک نئی دفعات شامل کرکے ضابطہ فوجداری کو مشرف بہ اسلام کرنے کی کوشش کی گئی ۔کسی انسان کو قتل کردینے کے جرم کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ قتل عمد ،قتل خطا اور قتل بالسبب۔ کوئی شخص جان بوجھ کر ،دانستہ طور پر ،بقائمی ہوش و حواس کسی دوسرے شخص کو مار ڈالے تو اسے قتل عمد کہا جاتا ہے۔اگر کوئی شخص کسی کے ہاتھوں قتل ہوجائے مگر اس کی نیت شامل نہ ہو ،توپی پی سی کی دفعہ 318 کے تحت اسے قتل خطا قرار دیا گیا ہے۔باقاعدہ مثال دیکر بتایا گیا ہے کہ ایک شخص ہرن کا نشانہ لیتا ہے لیکن گولی پاس کھڑے شخص کو لگ جاتی ہے تو یہ قتل خطا ہوگا۔اسی طرح تیسری صورت قتل بالسبب کی ہے۔ مثلاً جھگڑا ہونے پر کسی شخص کو مکا مارا، جان سے مارنے کی نیت نہیں تھی مگر وہ شخص مرگیا۔ یا کہیں کھدائی ہوئی ،گڑھا کھودا گیا،کوئی شخص اس میں گر کر مرگیا تو ایسی صورت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ321 کے تحت قتل بالسبب کا اطلاق ہوگا۔ اگر غیر محتاط ،غیر ذمہ دارانہ اور تیز ڈرائیونگ کے باعث کوئی شخص آپ کی گاڑی سے ٹکرا کر مر جائے تو ایسی صورت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 320کے تحت قتل بالسبب کا مقدمہ درج ہوگا۔

بلال غوری بتاتے ہیں کہ نوازشریف کے دوسرے دورِ حکومت میں بنائے گئے ان قوانین کے تحت قاتلوں کیلئے دو طرح کی گنجائش نکالی گئی ہے۔اگر قاتل کم عمر ہے یا پھر اس کا ذہنی توازن درست نہیں ہے تو ایسی صورت میں اس پر قصاص کا اطلاق نہیں ہوگا ۔یہی وجہ ہے کہ ہر قاتل سزا سے بچنے کیلئے خود کو کم سن ظاہر کرتا ہے یا پھر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ نفسیاتی مریض ہے ۔اسی طرح مذکورہ بالا قوانین میں مقتولین کو صلہ رحمی سے کام لینے اور معاف کردینے کا حق دیا گیا ہے۔مثلاً دفعہ 309 جو عفو سے متعلق ہے اس میں کہا گیا ہے کہ مقتول کا ولی جو عاقل و بالغ ہو ،وہ بغیر کسی وجہ سے ،دیت وصول کئے بغیر محض یہ کہہ دے کہ اس نے معاف کیا تو مقدمہ کی کارروائی ختم کردی جائے گی۔لیکن اگر وہ چاہے تو زرِتلافی بھی وصول کرسکتا ہے۔ضابطہ فوجداری کی دفعہ 323کے تحت انسانی جان کی قیمت کا تعین کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ دیت 30630 گرام چاندی ہوگی ۔ہر سال یکم جولائی کو حکومت پاکستان چاندی کے نرخ کے مطابق دیت کی رقم طے کرتی ہے ۔گزشتہ برس نگران حکومت نے دیت کی رقم 67 لاکھ 57 ہزار 902 روپے مقرر کی تھی ۔اس سال اگرچہ حکومت کی طرف سے باضابطہ اعلان نہیں کیا گیاتاہم بتایا جاتا ہے کہ یہ رقم بڑھ کر 80 لاکھ 48 ہزار 564 روپے ہوچکی ہے۔

Back to top button