کیا فوج دوبارہ غیر سیاسی ہونے کی شعوری کوشش کر رہی ہے؟

 

 

 

پاکستان کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کے بعد افواجِ پاکستان کے ممکنہ طور پر غزہ بھیجے جانے، حماس کو غیر مسلح کرنے اور پاکستان کے کردار سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر ایک اہم عسکری ادارے کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی شمولیت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پاک فوج کے دستے غزہ بھیجنے کا فیصلہ ہو چکا ہے، انکا کہنا تھا کہ ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

 

یہ وضاحت راولپنڈی میں ایک اہم عسکری ادارے کے سربراہ کی جانب سے سینئر صحافیوں کے ساتھ ایک طویل غیر رسمی نشست کے دوران سامنے آئی، جس میں تقریباً 50 صحافی شریک تھے۔ بریفنگ کا دورانیہ لگ بھگ چار گھنٹے رہا، جس کے دوران ملکی سلامتی، غزہ کی صورتحال، فوج کے آئینی کردار، دہشت گردی کے خلاف آپریشنز اور سیاسی معاملات پر تفصیلی سوال و جواب ہوئے۔ عسکری سربراہ نے گفتگو کے آغاز میں کہا کہ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کو افواجِ پاکستان کی فوری تعیناتی سے جوڑنا درست نہیں۔ ان کے مطابق اس وقت سب سے اہم مرحلہ مجوزہ عالمی امن فورس کے چارٹر کا تعین ہے، جس میں یہ طے ہونا باقی ہے کہ اس کے اختیارات کیا ہوں گے، ذمہ داریاں کس نوعیت کی ہوں گی اور کن حدود میں کام کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام شرائط، فریم ورک اور قانونی پہلو طے ہونے کے بعد ہی کسی بھی ممکنہ فوجی شمولیت پر غور کیا جا سکتا ہے۔ عسکری سربراہ کے بقول، افواجِ پاکستان کسی غیر واضح مینڈیٹ یا مبہم چارٹر کے تحت کسی بین الاقوامی مشن میں شامل نہیں ہوتیں۔

 

بریفنگ کے دوران عسکری سربراہ نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کا کسی صورت یہ کردار نہیں ہوگا کہ وہ غزہ جا کر حماس کو غیر مسلح کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان کسی مزاحمتی تنظیم کے خلاف کارروائی کے لیے نہیں جائیں گی، البتہ اگر فلسطینی عوام کی نسل کشی روکنے، انسانی جانوں کے تحفظ یا امن و استحکام میں معاونت کا کوئی واضح اور قابلِ قبول کردار سامنے آتا ہے تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔

پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے کے سوال پر عسکری سربراہ نے کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی یا عسکری فیصلے کو پارلیمنٹ میں لانا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ افواجِ پاکستان آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت کام کرتی ہیں اور فوج کا کنٹرول مکمل طور پر وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ ان کے مطابق حتیٰ کہ غزہ میں فوج بھیجنے یا نہ بھیجنے کا اختیار بھی وفاقی حکومت ہی کے پاس ہے، اور فی الحال حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

 

اس نشست کے دوران تب غیر معمولی صورتحال پیدا ہو گئی جب ایک صحافی نے دعویٰ کیا کہ تین وفاقی وزرا یہ بیان دے چکے ہیں کہ پاکستانی فوج حماس کو غیر مسلح کرنے جا رہی ہے۔ اس پر عسکری سربراہ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسے کسی بیان کا علم نہیں۔ جب صحافی نے ویڈیو فراہم کرنے کی بات کی تو دیگر صحافیوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ ایک سینئر صحافی نے کہا کہ اگر واقعی ایسا کوئی بیان سامنے آیا ہوتا تو ملک میں شدید ردعمل پیدا ہو چکا ہوتا۔ یاد رہے کہ اس صحافی کو تحریک انصاف کا ہمدرد خیال کیا جاتا ہے اور شاید وہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی کچھ ویڈیوز سے متاثر ہوا تھا۔

 

سیاسی معاملات پر بات چیت کے دوران اڈیالہ جیل میں سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے سے متعلق بھی سوال کیا گیا۔ عسکری سربراہ نے اس معاملے سے فوج کے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جیلوں میں ملاقاتوں کا معاملہ قانون اور انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اور فوج کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ خیبرپختونخوا بالخصوص ضلع تیراہ میں جاری فوجی آپریشن سے متعلق سوال پر عسکری سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت چاہے تو صوبائی حکومت کو صورتحال پر بریفنگ دی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق براہِ راست سیاسی قیادت سے رابطہ فوج کی ذمہ داری نہیں، تاہم حکومت کی ہدایت پر ہر قسم کی بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں۔

 

صحافیوں سے گفتگو کے دوران بار بار اس نکتے پر زور دیا گیا کہ فوج کا حکومت سے تعلق ذاتی یا سیاسی نہیں بلکہ مکمل طور پر آئینی اور سرکاری ہے۔ عسکری سربراہ نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس شخص نے اس اصول سے انحراف کیا، وہ آج اپنے عمل کے نتائج بھگت رہا ہے۔ ایک سوال وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان سے متعلق تھا جس میں انہوں نے نظام کو ’ہائبرڈ رجیم‘ قرار دیا تھا۔ اس پر عسکری سربراہ نے اپنے سامنے رکھے آئینِ پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عملی طور پر نظام اسی آئین کے مطابق چل رہا ہے، اور سیاسی زبان میں دیے گئے نام اپنی جگہ، فوج آئین میں متعین کردار تک ہی محدود ہے۔

KPحکومت نےتیراہ نقل مکانی پروفاق کوکیسے گنداکیا؟

اس نشست کے دوران خصوصا یہ محسوس ہوا کہ افواجِ پاکستان ایک بار پھر خود کو سیاسی معاملات سے دور رکھنے اور غیر جانبداری کی پالیسی کو عملی طور پر آگے بڑھانے کی خواہاں ہیں، جیسا کہ ماضی میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی اپنی الوداعی تقریر میں اس عزم کا اظہار کر چکے تھے۔

اس بریفنگ میں بعض ایسے صحافی اور وی لاگرز کی موجودگی بھی نمایاں رہی جو ماضی میں تحریک انصاف کے قریب سمجھے جاتے رہے ہیں۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ بدلتے ہوئے سیاسی ماحول اور ’ہوا کے رخ‘ میں تبدیلی کا اشارہ ہے، تاہم متعلقہ حکام کے مطابق ان صحافیوں کو محض انگیج کرنے کی غرض سے مدعو کیا گیا تھا۔ اگرچہ یہ نشست غیر رسمی تھی، لیکن اس کی فضا محتاط، نپی تلی اور غیر جذباتی رہی۔ ناقدین کے مطابق نہ صرف گفتگو بلکہ بریفنگ کا انداز بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فوج کا ادارہ اس وقت کسی بھی طرح کے سیاسی معاملے میں براہِ راست فریق بننے سے گریز کر رہا ہے۔

Back to top button