کیا مریم نواز بارے پیپلز پارٹی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والاہے؟

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری مسلم لیگ نون کے ساتھ اظہار ناراضی کے باوجود کبھی اس حد تک نہیں جائیں گے کہ شہباز شریف کی حکومت گر جائے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ کے سب سے بڑے ضامن خود بلاول بھٹو کے والد صدر اصف علی زرداری ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی پنجاب کے سینیئر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ 10 ماہ گزرنے کے باوجود وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے ان کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے لہٰذا اگر انہوں نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو پیپلز پارٹی کے صبر کا پیمانہ کسی بھی وقت لبریز ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد میں باخبر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے تمام اہم رہنما جانتے ہیں کہ نون لیگ کے خلاف مسلسل شکایات کے باوجود، ان کی جماعت شہباز حکومت کی حمایت کبھی واپس نہیں لے گی، حالانکہ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر وفاق میں نون لیگی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ موجودہ نظام کے تمام اہم ترین کرداروں کو اس بات کا ادارک ہے کہ پاکستان کے سیاسی و معاشی استحکام کیلئے صدر زرداری کی سوچ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی سوچ کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی بتاتے ہیں کہ حال ہی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں بتایا تھا کہ وہ، صدر آصف زرداری اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام کیلئے ایک ہی پیج پر ہیں اور ان شاءاللہ موجودہ سسٹم ایسے ہی چلتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاسی نظام کے استحکام اور پاکستان کی معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے کیے گئے تمام اقدامات کیلئے یہ تینوں کھلاڑی متحد ہو کر کام کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی حکومت کی قانون سازی سمیت تمام اہم پالیسیوں کی حامی رہی ہے، اور اس کے علاوہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے متعین کردہ اقتصادی ایجنڈے کی بھی حامی ہے۔ انصار عباسی کے مطابق سرمایہ کاری کونسل کے کچھ فیصلوں پر سندھ سے پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماؤں کو تحفظات تھے لیکن صدر زرداری نے اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا کہ کہیں کچھ غلط نہ ہو۔
یاد ریے چند روز قبل بلاول بھٹو نے حکمران مسلم لیگ (ن) پر پیپلز پارٹی کیساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔ کراچی میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران بلاول کا کہنا تھا کہ حقیقی سیاست احترام پر مبنی ہوتی ہے اور حکمران اتحاد کو اپنے معاہدوں کی پاسداری کرنا چاہئے۔ مرکز اور پنجاب میں نون لیگ کی حکومتوں کے رویے پر پیپلز پارٹی اپنی ناراضی کا اظہار کرتی رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے متعدد مرتبہ کہا ہے کہ نون لیگ بالخصوص پنجاب میں مریم نواز کی حکومت اُس معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہی جو حکومت سازی کے وقت دونوں جماعتوں کے درمیان طے پایا تھا۔
عمران خان بار بار خود کو ایک ہی سوراخ سے کیوں ڈسوا رہے ہیں ؟
نون لیگ کے کچھ سینئر رہنما تسلیم کرتے ہیں کہ مرکز میں حکومت سازی کے وقت پنجاب میں پیپلز پارٹی سے جو وعدے کیے گے تھے وہ مریم نواز کی پنجاب حکومت کی جانب سے ابھی تک پورے نہیں کیے گے۔ پیپلز پارٹی سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اسے پنجاب میں سیاسی سپیس دی جائے گی اور پارٹی کو ان اضلاع اور تحصیلوں میں اپنی پسند کے بیوروکریٹس اور پولیس اہلکار تعینات کرنے دیے جائیں گے جہاں پیپلز پارٹی نے 8 فروری کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا اصرار ہے کہ وہ سول بیوروکریسی کی تقرریوں میں اپنی پارٹی سمیت کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت قبول نہیں کریں گی۔ پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ دس ماہ گزرنے کے باوجود ان سے کیے گئے وعدے پورے نہیں ہو پائے لہذا اگر مریم نواز نے اپنا رویہ نہ بدلا تو پارٹی کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو سکتا ہے۔
