کیا عمران کی عوامی مقبولیت کی بڑی وجہ مظلومیت کا تاثر ہے؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی عوامی مقبولیت کی بنیادی وجہ مظلومیت کا تاثر ہے، کیونکہ پاکستانی عوام ہر اسیر سیاست دان کو فطری طور پر مظلوم سمجھ کر اس کے لیے ہمدردی کے جذبات پال لیتے ہیں، چاہے اس نے اپنے اقتدار کے دوران عوام کے لیے کچھ بھی نہ کیا ہو۔ ان کے خیال میں ہمارے سیاسی رہنماؤں کی مقبولیت اکثر ان کی پرفارمنس کی بنیاد پر جنم نہیں لیتی بلکہ ان کے گرد بننے والے جذباتی ماحول سے پروان چڑھتی ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے "عقل نوں ہتھ مار” میں حماد غزنوی کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں سیاستدانوں کے بارے میں رائے بنانے کا عمل عقل کے بجائے جذبات کے تابع ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عوام عمران خان کو مسیحا، نواز شریف کو تجربہ کار لیڈر، اور بھٹو خاندان کو قربانی کی علامت سمجھ کر ان سے جذباتی وابستگی جوڑ لیتے ہیں، جبکہ ان رہنماؤں کی عملی کارکردگی کو کم ہی پرکھتے ہیں۔ ان کے بقول لوگ جب اپنے پسندیدہ رہنما کی حمایت کرتے ہوئے ان کے حق میں دلائل دیتے ہیں تو اکثر دلیل کم اور جذبات زیادہ حاوی ہوتے ہیں۔

 

حماد غزنوی کے مطابق پاکستان میں بہت سے لوگ اپنے انتخاب کو خاندانی وابستگی، برادری، شخصیت کی دلکشی، شائستگی کے تاثر یا ’’مظلومیت‘‘ جیسے جذباتی عوامل سے جوڑتے ہیں۔ لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ ان کے محبوب رہنما نے اقتدار میں رہ کر کون سا ایسا کارنامہ انجام دیا جس کے باعث وہ آج بھی اس کے حمایتی ہیں، تو اکثر جواب مبہم ملتا ہے یا جذباتی جواز پیش کیے جاتے ہیں۔ غزنوی کے مطابق عوام ووٹ ڈالنے کے لیے گھر سے نکلتے ہیں تو کسی معاشی سوجھ بوجھ یا نظام کی بہتری کے منصوبوں کے لیے نہیں نکلتے، بلکہ غصے، محبت، امید، خوف یا ترس جیسے جذبات انہیں متحرک کرتے ہیں اور وہ انہی جذبات کے تحت اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔

 

حماد غزنوی نے وضاحت کی کہ سیاسی جماعتوں کے بیانیے، رنگارنگ ترانے، جلسوں کے ماحول، پارٹی جھنڈوں اور سوشل میڈیا مہمات کا پورا نظام جذبات کو انگیخت کرنے کی کوشش پر قائم کیا جاتا ہے۔ سیاسی مباحثے اور میڈیا ٹاک شوز بھی لوگوں کے جذبات کو تقویت دینے کا ذریعہ بنتے ہیں، تاکہ وہ اپنے جذباتی فیصلوں کے لیے ’’عقلی‘‘ دلیلیں ڈھونڈ سکیں۔ انکے مطابق انسان کا دماغ پہلے جذبات میں ردِعمل پیدا کرتا ہے، جبکہ عقل بعد میں بیدار ہوتی ہے، اسی لیے سیاسی چالیں ہمیشہ جذبات کی بنیاد پر کھیلی جاتی ہیں اور بیانیے بھی اسی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں تاکہ عوام کے جذبات سے کھیل کر اپنے لیے ہمدردی حاصل کی جا سکے۔

 

حماد کہتے ہیں کہ مارکیٹنگ کمپنیاں جس طرح مصنوعات بیچنے کے لیے خوشیوں، محبت، کامیابی اور خوبصورتی جیسے جذباتی سلوگن استعمال کرتی ہیں، اسی طرح سیاسی مہمات کے دوران بھی سیاست دانوں کی جانب سے جذبات ہی بیچے جاتے ہیں، پروگرام نہیں۔ ووٹر جذبات کی بنیاد پر کسی کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرتے ہیں، اور پھر بعد میں اپنی پسند کے لیے عقلی جواز تراشتے ہیں۔

سہیل آفریدی کا انجام گنڈاپور سے مختلف کیوں نہیں ہو گا؟

حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کسی رہنما کا جیل جانا یا اس کے ساتھ ہونے والا سخت برتاؤ اسے فوری طور پر عوامی ہمدردی دلا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عمران خان کی مقبولیت کا بڑا سبب ان کی عملی کارکردگی نہیں بلکہ وہ تصور ہے جو ان کے حامیوں کے ذہنوں میں ایک ’’مظلوم اور ڈٹ جانے والے‘‘ لیڈر کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے، بے شک حقیقت میں ایسا نہ ہو۔ انکا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست میں دلیل کم اور جذبات زیادہ کارفرما ہوتے ہیں، جب کوئی شخص اپنے پسندیدہ رہنما کے حق میں ’’عقلی‘‘ دلیل دینے لگتا ہے، تو پسِ پردہ فیصلہ وہ پھر بھی دل ہی کی بنیاد پر کر رہا ہوتا ہے۔ اسی کیفیت کو وہ ایک پنجابی محاورے میں سمیٹتے ہیں کہ: عقل نوں ہتھ مار، یار” یعنی، سیاست میں سب کچھ دل سے ہوتا ہے، اور دماغ بہت بعد میں آتا ہے۔

 

Back to top button