کیا ریاست کا فوجی ستون مضبوط کرنے کی پالیسی ٹھیک ہے؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ ریاست کی صرف دفاعی ستون کو مضبوط تر کرتے چلے جانے کی پالیسی درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا دفاع ایک آہنی ستون کی صورت اختیار کر چکا ہے اور ماضی کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ ریاست کے باقی ستون یعنی پارلیمنٹ، سیاست اور جمہوریت اگر مٹی اور ریت کی طرح کمزور رہے تو ملکی عمارت مضبوط نہیں ہو سکے گی۔ ان کے مطابق ایک ستون تو لوہے کا بن گیا، لیکن اگر باقی تین ستون مضبوط نہ ہوئے تو گھر کی چھت گرنے کا خطرہ موجود رہے گا۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس وقت معیشت یا سیاست نہیں بلکہ جھوٹے بیانیے، جعلی خبروں اور یکطرفہ پروپیگنڈے کا ہے، جس نے ملکی فضا کو دھندلا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں ففتھ جنریشن وارفیئر کے نام پر معاشرے میں ایسی تقسیم پیدا کی گئی کہ ہر سچے کو جھوٹا، ہر ایماندار کو لفافی اور ہر غیر جانبدار کو متعصب ثابت کر دیا گیا۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تحریر میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ جیسے تاریخ میں بلھے شاہ کو مطعون کیا جاتا رہا، آج اسی طرز پر سچ لکھنے اور بولنے والے صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ شاہ زیب خانزادہ ہوں یا حامد میر، کبھی جھوٹے عوامیوں اور کبھی نام نہاد خداؤں کا ہدف بنتے ہیں، جبکہ کئی گم نام کردار روز کسی نہ کسی جانب سے گالیاں کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئے دور میں سچ اور جھوٹ کے درمیان واضح حد فاصل قائم ہوگی؟

 

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ملک میں بیانیہ سازی کا بڑا حصہ اب ایسے افراد کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے جو کہ ڈالر کمانے والے یوٹیوبرز ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ گروہ کبھی ففتھ جنریشن اور کبھی فورتھ جنریشن وار کے نام پر تربیت یافتہ دکھائی دیتا ہے اور اب جمہوریت کے چیمپئن بننے کی کوشش میں ہے، حالانکہ ماضی میں یہی لوگ جمہوریت پر ضرب لگاتے رہے ہیں۔

 

اسکے بعد سہیل وڑائچ نے محمد علی جناح کا وہ قول یاد دلایا کہ پریس اور قوم عروج بھی اکٹھے پاتے ہیں اور انہیں زوال بھی ایک ساتھ ہی آتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آزادی اظہار کو دبایا گیا تو پاکستانی میڈیا ہاتھ بندھے مغوی کی طرح ہو جائے گا، جسے باہر بیٹھے ڈالر کمانے والے یوٹیوبرز دور سے نشانہ بناتے رہیں گے۔ سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت بھی نئے دور میں داخل تو ہو گئی ہے، مگر یہ دیکھنا باقی ہے کہ وراثتی سیاست، مفاداتی تضادات اور کمزور حکمرانی کے لیے اس دور میں کوئی گنجائش باقی رہتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی اب وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ میں عالمی معیار کے ماہرین شامل ہوں گے اور کیا سیاسی جماعتیں پالیسی سازی کے لیے باقاعدہ ہوم ورک کریں گی؟

 

انہوں نے سعادت حسن منٹو کے افسانے ’’نیا قانون‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ 1935ء کے ایکٹ کی طرح آج بھی ملک ایک نئے دور میں داخل ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے، مگر اس دور کا جائزہ بھی انہی ’لفافہ‘ قرار دیے جانے والے صحافیوں اور ’چمچہ تانگے بان‘ سمجھے جانے والے عوامی طبقات کی نظر سے لیا جانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں طبقے ملک میں پیدا ہونے والا استحکام یا نئی سمت ابھی تک محسوس نہیں کر پا رہے اور جذباتیت، تعصب اور یکطرفہ سوچ کا شکار ہیں۔

تحریک انصاف پر پابندی اور KPK میں گورنر راج کا امکان؍

سہیل وڑائچ کے مطابق ’’دھند چھٹ چکی ہے، نیلا آسمان اور روشن سورج نظر آ رہا ہے‘‘ اور یہی وقت ہے کہ میڈیا ماضی کی خرابیوں کو بے نقاب کرے۔

ان کے مطابق ماضی میں ’جمہوریت کے جرثومے‘ نے فیصلہ سازی کو مفلوج کیا، جبکہ نیا دور اس جرثومے کو صاف کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر دعوے سچے ثابت ہوئے تو پاکستان اگلے دس برس میں دنیا کی چند بڑی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ملک کی معدنیات، دفاعی صنعت اور مہارت اب عالمی سطح پر پذیرائی پا رہی ہیں، اور ملک ایسا دور دیکھنے جا رہا ہے جہاں ایکسپورٹ کے آرڈرز اتنے ہوں گے کہ ہمارے لیے سپلائی پوری کرنا مشکل ہو جائے گی۔

لیکن سہیل وڑائچ زور دیتے ہیں کہ نئے دور کے اثرات سب پر یکساں پڑنے چاہئیں۔ ان کے مطابق ’لفافہ‘ کہلائے جانے والے صحافی اور ’چمچہ‘ کہلائے جانے والے عام لوگ بھی اسی وقت حوصلہ پکڑیں گے جب تبدیلی فیک نہیں بلکہ حقیقی ہو گی اور مخصوص لوگوں کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے ہو گی۔

Back to top button