کیا پیپلز پارٹی شہباز حکومت کی حمایت ختم کرنے جا رہی ہے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اسوقت ایک مخمصے میں پھنسے ہوئے ہیں جس کا نام پیپلزپارٹی ہے۔ وزیراعظم کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی تو انہیں چھوڑ سکتی ہے لیکن وہ پیپلزپارٹی کو نہیں چھوڑ سکتے۔ اگر وفاقی حکومت دریائے سندھ سے چولستان کے لیے نہریں نکالنے کے فیصلے سے پیچھے نہ ہٹی تو پیپلزپارٹی کے پاس صرف ایک ہی راستہ باقی بچے گا کہ وہ تمام آئینی عہدے چھوڑ کر شہباز شریف حکومت کی حمایت سے دستبردار ہو جائے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی نے ایسا نہ کیا تو اسکی سندھ حکومت کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج ایک ملک گیر تحریک کی صورت اختیار کر جائے گا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ ایسے میں یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان پیپلزپارٹی بھی ایک عجب مخمصے میں پھنس چکی ہے جسکا نام وفاقی حکومت ہے۔ یہ وفاقی حکومت پیپلزپارٹی کے ووٹوں پر کھڑی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بہت کوشش کی کہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بن جائے لیکن آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کابینہ کا حصہ بننے پر راضی نہیں ہوئے۔ بھٹو خاندان کو شروع سے ہی یہ خدشہ یہ تھا کہ شہباز شریف بطور وزیر اعظم کوئی نہ کوئی ایسا کام ضرور کریں گے جس کا سیاسی نقصان صرف مسلم لیگ (ن) کو ہی نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کو بھی ہو گا۔ 8 فروری 2024 کے الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی نئے سیاسی بندوبست میں شامل تو ہوگئی لیکن شہباز شریف حکومت کے کئی فیصلوں پر تنقید بھی کرتی رہی۔ پیپلز پارٹی نے صدر پاکستان، دو صوبوں کی گورنر شپ اور چیئرمین سینٹ کا عہدہ تو لے لیا لیکن یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی کہ حکومت کے کئی اہم سیاسی فیصلوں سے پیپلز پارٹی کا کوئی تعلق نہیں۔
حامد میر کے بقول اگر پیپلزپارٹی چاہتی تو اینٹی میڈیا پیکا ترمیمی ایکٹ 2025ء جیسا متنازعہ قانون کبھی پارلیمینٹ سے منظور نہ ہوتا لیکن پیپلزپارٹی نے اس قانون کے حق میں ووٹ بھی دیا اور بعد میں اس قانون سے اعلان لاتعلقی بھی کر دیا۔ اب آپ اسے مخمصہ کہیں، جھنجٹ کہیں، جھمیلا کہیں یا بکھیڑا کہیں، لیکن پیپلز پارٹی اس بھنور میں بری طرح پھنس چکی ہے۔ ایک طرف پیپلزپارٹی پارٹی ریاست کے اہم آئینی عہدوں پر براجمان ہے اور دوسری جانب وفاقی حکومت کے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے منصوبے کے خلاف احتجاج بھی کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نئی نہروں کے اعلان کے خلاف سندھ اسمبلی سے قرار داد بھی منظور کروا چکی ہے۔ اس کی جانب سے 25 مارچ کو نئی نہروں کے منصوبے کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا۔ 2 اپریل کو پیپلز پارٹی نے ایک بار پھر نہری منصوبے کیخلاف احتجاج کیا۔ مختصر یہ کہ دریائے سندھ کے پانی کا مسئلہ پیپلز پارٹی کیلئے وبال جان بن گیا ہے۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کو طویل عرصے کے بعد سندھ میں اپنی سیاسی بقاء خطرے میں نظر آرہی ہے۔ 1979 میں جنرل ضیاء الحق کے ہاتھوں پھانسی دیے جانے کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو زندہ رہے۔ "آج بھی بھٹو زندہ ہے” کے نعرے پر محترمہ بے نظیر بھٹو 1988 اور 1993 میں وزیر اعظم بنیں۔ 2007 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 2008 میں پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر وفاق اور سندھ میں حکومت ملی۔2008 کے الیکشن بعد سے پیپلز پارٹی سندھ میں مسلسل برسر اقتدار ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے 46 برس بعد پیپلز پارٹی نے ان کیلئے نشان ِپاکستان کا ا علان کرکے ا ہل سندھ کو یاد دلایا کہ آج آپ جس پارٹی کے خلاف جگہ جگہ ریلیاں نکال رہے ہیں اس کے بانی چیئرمین نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی بجائے پھانسی کا پھندا قبول کر لیا تھا۔1981ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے خان عبدالولی خان، مولانا فضل الرحمان، رسول بخش پلیجو، جام ساقی، فاضل راہو، نوابزادہ نصراللہ خان اور دیگر رہنمائوں کے ساتھ مل کر تحریک بحالی جمہوریت شروع کی جو ایم آر ڈی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس تحریک نے 1983ء میں سندھ میں زور پکڑا تو جنرل ضیاء الحق مدد کیلئے سندھی قوم پرست لیڈر نجی ایم سید کے پاس جا پہنچے۔ ایم آر ڈی کی تحریک میں سینکڑوں نہیں ہزاروں سیاسی کارکن گرفتار ہوئے اور دراصل اسی تحریک نے بھٹو کو بھی زندہ رکھا کیونکہ اسکا اصل محرک بھٹو کی پھانسی پر سندھ والوں کا غصہ تھا۔
حامد میر کے مطابق تقریباً بیالیس برس بعد سندھ میں دوبارہ ایک تحریک جنم لے رہی ہے۔ یہ تحریک دریائے سندھ کے پانی کو بچانے کی تحریک ہے اور پیپلز پارٹی پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے اپنے سیاسی مفادات کیلئے سندھ کے پانی کا سودا کر دیا ہے۔ پیپلز پارٹی پر دبائو اس وقت بڑھا جب ایک طرف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے الزام لگایا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے سندھ کا پانی پنجاب کو بیچ دیا ہے۔دوسری طرف سندھی قوم پرست رہنمائوں ڈاکٹر قادر مگسی، ایاز لطیف پلیجو اور زین شاہ کے ساتھ میر مرتضیٰ بھٹو کے صاحبزادے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر بھی میدان میں آ گئے اور چھ نئی نہروں کے منصوبے کو 1991ء میں پانی کی تقسیم کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے دیا ۔جب پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا کہ وہ چھ نئی نہروں کے منصوبے کے مخالف ہے تو وفاقی حکومت نے دعویٰ کر دیا کہ چھ نئی نہروں کا منصوبہ صدر آصف زرداری کی منظوری سے شروع کیا گیا۔جب صدر نے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس منصوبے پر تنقید کی تو پھر وہ ہوا جس کا زرداری صاحب کو اندازہ ہی نہیں تھا۔
حکومتی ذرائع نے میڈیا کو ایگزیکٹو کمیٹی آف دی نیشنل اکنامک کونسل کی ایک میٹنگ کے منٹس لیک کر دیئے۔ اس میٹنگ کی صدارت آصف زرداری نے کی تھی جس میں چولستان کینال سمیت دیگر نہروں کے منصوبے کو منظور کیا گیا۔ جولائی 2024ء میں ایکنک کی اس میٹنگ کے منٹس پیپلز پارٹی کیلئے کسی بم شیل سے کم نہ تھے۔ وفاقی حکومت کی اس واردات کے بعد وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے ایک پریس کانفرنس میں ایکنک کی میٹنگ کے منٹس کو جھوٹا قرار دے دیا اور دعویٰ کیا کہ صدر آصف زرداری کو آبپاشی کے منصوبوں پر بریفنگ کیلئے ایکنک کے اجلاس میں بلایاگیا حالانکہ صدر کا ایکنک سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور نہ ہی صدر ایکنک کے منصوبے کی منظوری دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر نے ایسے کسی فیصلے کی منظوری پر کوئی دستخط بھی نہیں کئے۔
حامد میر بتاتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے 8 جولائی 2024ء کو ایکنک کی میٹنگ کے منٹس کو مسترد کرتے ہوئے دھمکی دی یے کہ ہم چاہیں تو وفاقی حکومت گرا بھی سکتے ہیں۔ یہ دھمکی مسلم لیگ (ن) کیلئے غیر متوقع تھی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے 15 فروری 2025 کو چولستان کینال پراجیکٹ کا افتتاح کیا تو وہاں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بھی مدعو کیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کا خیال تھا کہ پیپلز پارٹی اس منصوبے کی مخالفت نہیں کرے گی۔ لیکن جب پیپلز پارٹی نے مخالفت شروع کی تو وفاقی حکومت نے چپکے سے ایکنک کی میٹنگ کے منٹس میں غلطی کو تسلیم کر لیا اور کہا کہ ایکنک کے اجلاس میں گریٹر تھل پر بات ہوئی تھی اور چولستان کینال پر بات نہیں ہوئی تھی ۔چھ نئی نہروں کا منصوبہ دراصل گرین پاکستان انیشی ایٹو Initiative کا حصہ ہے جس کا اعلان وزیر اعظم شہباز شریف نے 10جولائی 2023 کو کیا تھا۔
عمران کی جانشینی کی دوڑ میں علیمہ کے ہاتھوں بشری کو شکست
ارسا نے 17 جنوری 2024 کو چھ نئی نہروں کے منصوبے کی منظوری دی تو سندھ کے نگران وزیراعلیٰ مقبول باقر نے نگران وزیر اعظم کے نام خط میں اس کی مخالفت کی تھی۔ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ اگر دریائوں میں پانی پہلے ہی کم ہے لہٰذا اگر غیر آباد بنجر زمینوں کو آباد کرنے کیلئے دریائے سندھ سے نئی نہر نکالی گئی تو سندھ کی آباد زمینیں بنجر ہو جائیں گی۔ لیکن پنجاب کا موقف ہے کہ چولستان کینال کیلئے دریائے سندھ کی بجائے دریائے ستلج سے سیلابی پانی لیا جائے گا۔ ارسا کا کہنا ہے کہ چولستان کینال کو دریائے چناب یا دریائے جہلم سے پانی دیا جائے گا۔
حامد میر کہتے ہیں کہ ارسا اور پنجاب حکومت کے موقف میں تضاد سے مزید سازشی مفروضوں نے جنم لیا ہے اور اب وزیراعظم شہباز شریف خود ایک مخمصے میں پھنس چکے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی تو ان کو چھوڑ سکتی ہے لیکن وہ پیپلزپارٹی کو نہیں چھوڑ سکتے۔ لہٰذا بہتر ہوگا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلا کر اس معاملے کو طے کیا جائے۔ معاملہ طے نہ ہوا تو پیپلزپارٹی کے پاس صرف ایک راستہ ہے کہ تمام آئینی عہدے چھوڑ کر شہباز شریف کی حمایت سے دستبردار ہوجائے۔ ایسا نہ ہوا تو پیپلز پارٹی کے خلاف ایک نئی ایم آر ڈی کی تحریک تیار کھڑی ہے۔
