سونا ساڑھے پانچ لاکھ روپے فی تولہ تک جانے کا امکان

سونے کی طلب میں اضافے، عالمی معاشی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کی جانب بڑھتے رجحان کی وجہ سے پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمت ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ملکی تاریخ میں پہلی بار سونے کی قیمت5 لاکھ روپے فی تولہ سے جبکہ چاندی کی قیمت 10ہزار روپے فی تولہ سے تجاوز کر گئی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آنے والے دنوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور سونے کی قیمت ساڑھے 5 لاکھ روہے جبکہ چاندی کی قیمت 12ہزار روپے تولہ سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان میں فی تولہ سونا 12ہزار7سو روپے اضافے کے بعد 5 لاکھ 06 ہزار 362 روپے کا ہوگیا جبکہ 10 گرام سونا 10ہزار8سو88 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 34 ہزار 123 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ 10 گرام 22 قیراط سونے کی قیمت 3لاکھ 98ہزارروپے سے تجاوز کر گئی ہے، دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ایک سو ستائیس ڈالر اضافے کے بعد چار ہزار آٹھ سو چالیس ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں ڈالر کی قدر میں کمی اور سونے اور چاندی کی طلب میں اضافے اور معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے کی قیمت میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آسکتا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کی کیا وجوہات ہیں اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

معاشی ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر یقینی سیاسی و معاشی حالات میں محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش نے سونے اور چاندی کو ایک بار پھر سب سے پرکشش اثاثہ بنا دیا ہے،  جس کے نتیجے میں سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی عالمی اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوتی دکھائی دے رہی ہے جبکہ عالمی مالیاتی بحران کے بعد آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمت میں مزید اضافہ متوقع ہے سونے اور چاندی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ بظاہر عالمی مالیاتی رجحان ہے، مگر اس کی گونج پاکستانی معیشت اور عوام کی زندگی میں صاف سنائی دے رہی ہے۔ نتیجتاً، اس کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور جا چکی ہے۔

ماہرین کے بقول ’سونے اور چاندی کی قیمت بڑھنے کی وجہ عالمی سطح پر جاری جنگی صورت حال بھی ہے۔ پہلے یوکرین اور روس جنگ کی وجہ سے سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافی ریکارڈ کیا گیا تھا، پھر پاکستان انڈیا جنگ نے ملک میں سونے کی قیمت بڑھائی، اس کے بعد ایران اسرائیل جنگ سونے اور چاندی کی قیمت میں اضافے کی وجہ بنی اور پھر امریکہ اور چائنا ٹیرف وار نے سونے کی قیمت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ اب امریکہ اور یورپ کے درمیان گرین لینڈ تنازعے کی وجہ سے عالمی مارکیٹوں میں اس وقت گھبراہٹ پائی جاتی ہے اور سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے دھڑا دھڑ سونا خرید رہے ہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر امریکہ یورپی یونین سے جاری محاذ آرائی سے باز نہ آیا تو چند ماہ میں سونے کی قیمت پانچ ہزار فی اونس تک بڑھ سکتی ہے۔‘ معاشی ماہرین کے بقول بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ پاکستانی مارکیٹ پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔ عالمی منڈی میں سونا اس وقت ریکارڈ سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے، جس کے باعث سونے کی درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ پاکستان میں سونے کی قیمتیں عموماً عالمی نرخوں کے مقابلے میں اضافی پریمیم کے ساتھ طے کی جاتی ہیں، جو زرِمبادلہ کی صورتحال، درآمدی اخراجات اور مقامی مارکیٹ کے دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی لئے آج پاکستان میں سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیو پولیٹیکل کشیدگی نے بھی سونے کی قیمتوں میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالمی سطح پر سیاسی عدم استحکام، تجارتی تنازعات اور علاقائی کشیدگی کے باعث سرمایہ کار غیر محفوظ اثاثوں سے نکل کر سونے جیسی محفوظ سرمایہ کاری کی جانب بڑھ رہے ہیں، جس سے عالمی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور سونے اور چاندی کی قیمتیں آسمان کی بلندی کو چھوتی دکھائی دیتی ہیں۔

روپے کی گرتی قدر پاکستانی معیشت کے لیے بری خبر کیوں؟

ماہرین کے مطابق مستقبل قریب میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کا امکان ہے، کیونکہ عالمی سطح پر معاشی اور سیاسی بے یقینی تاحال موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی حالات برقرار رہے تو آنے والے مہینوں میں قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا جا سکتا ہے، تاہم قلیل مدتی اتار چڑھاؤ بھی ممکن ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق عالمی معاشی منظر نامے میں کم از کم اگلے پانچ سال تک کے لیے سونے کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کی امید ہے۔‘ طویل مدتی تناظر میں کچھ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ سونا بدستور ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھے گا۔ اگر عالمی شرحِ سود میں نمایاں کمی، ڈالر کی قدر میں کمزوری یا جیو پولیٹیکل تنازعات میں شدت آتی ہے تو سونے کی قیمتیں مزید بلند سطح تک جا سکتی ہیں، البتہ حالات میں بہتری آنے کی صورت میں قیمتوں میں وقتی استحکام یا معمولی کمی بھی دیکھی جا سکتی ہے۔

Back to top button