کیا 9 اپریل کو بھی PTI کے جلسے کا برا انجام ہونے والا ہے؟

 

 

 

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی مؤثر عملی کردار ادا نہ کرنے پر تنقید کی زد میں آنے کے بعد راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان تو کر دیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اندرونی اختلافات اور حکومتی پابندیوں کے پیش نظر ایک کامیاب جلسے کا انعقاد ممکن ہو سکے گا؟

 

یہ سوال اس لیے اٹھایا جا رہا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران اسلام آباد میں تحریک انصاف نہ تو کوئی بڑا جلسہ کامیاب بنا سکی ہے اور نہ ہی لانگ مارچ، ایسے میں ایک اور ناکام کال پارٹی کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے ایک ایسے وقت میں 9 اپریل کو لیاقت باغ میں جلسے کا اعلان کیا ہے جب ان کی حکومت پر کرپشن اور سیاسی بے عملی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ اعلان محض ایک سیاسی حکمت عملی بھی ہو سکتا ہے جس کا مقصد اندرونی دباؤ کو کم کرنا ہے۔

 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف 9 اپریل کو راولپنڈی میں ایک بڑا جلسہ کرے گی جس میں ملک بھر سے کارکنان شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کیے جا چکے ہیں اور اب احتجاج ہی واحد راستہ بچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلسے کے لیے باقاعدہ این او سی حاصل کیا جائے گا، تاہم اگر اجازت نہ ملی تو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو حکومت کے لیے ایک واضح پیغام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

 

یاد رہے کہ راولپنڈی مری روڈ پر واقع لیاقت باغ سیاسی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951 کو شہید کیا گیا تھا جب وہ ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ بعد ازاں 27 دسمبر 2007 کو سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو بھی اسی مقام پر ایک جلسے کے بعد قاتلانہ حملے میں شہید کر دیا گئیں۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ لیاقت باغ کا انتخاب محض ایک جلسہ گاہ نہیں بلکہ ایک علامتی فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق یہ مقام سیاسی جدوجہد کی تاریخ کا امین ہے اور اسی جگہ سے تحریک انصاف اپنی نئی تحریک کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔

 

سینیئر صحافی مظہر عباس کے مطابق سہیل آفریدی نے دانستہ طور پر لیاقت باغ کا انتخاب کیا ہے تاکہ ریاستی اداروں اور حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنی سیاسی بے عملی کی وجہ سے تنقید کی زد میں آنے کے بعد سہیل آفریدی خود کو ایک مزاحمتی سیاستدان کے طور پر دکھانا چاہتے ہیں اور یہ فیصلہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ دوسری جانب پشاور سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے کہ یہ اعلان دراصل کارکنوں کی توجہ ڈی چوک سے ہٹانے کی کوشش ہے، کیونکہ کارکنان مسلسل ڈی چوک کی جانب مارچ کا مطالبہ کر رہے تھے۔

لحاظ علی کے مطابق سہیل آفریدی کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ صوبے سے باہر نکلنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، اور لیاقت باغ کا انتخاب اسی تاثر کو زائل کرنے کی ایک کوشش بھی ہو سکتا ہے۔

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان ماضی کا قصہ کیوں بن گئے؟

لیکن جلسے کی کامیابی کے حوالے سے پارٹی کے اندر اور باہر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ پارٹی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ پر امید ہیں کہ جلسے میں لاکھوں کارکنان شریک ہوں گے اور یہ ایک تاریخی اجتماع ہوگا، تاہم سیاسی مبصرین اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔ سینیئر صحافی بلال غوری کے مطابق تحریک انصاف اب وہ عوامی طاقت یا سٹریٹ پاور نہیں رکھتی جو دو سال قبل اس کے پاس موجود تھی۔ ان کے بقول کارکنوں کا قیادت پر اعتماد کم ہوا ہے اور ماضی کے مقابلے میں متحرک ہونے کی صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت ملنا ہی ایک بڑا سوال ہے، اور اگر اجازت مل بھی گئی تو سیکیورٹی اور نقل و حرکت کی پابندیاں جلسے کی کامیابی کو متاثر کر سکتی ہیں۔

 

ادھر پارٹی کے اندرونی حالات بھی زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق حالیہ اجلاسوں میں رہنماؤں نے اپنی ہی حکومت پر کرپشن کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم پر بھی شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ایک پارٹی رہنما کے مطابق کارکنان میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور گروپ بندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بہت سے کارکن جلسے میں شرکت کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جلسے کے اعلان سے قبل نہ تو مرکزی قیادت سے مشاورت کی گئی اور نہ ہی تنظیمی سطح پر کوئی تیاری نظر آتی ہے۔ ایسے میں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ 9 اپریل کا جلسہ تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے، جہاں ایک طرف حکومتی پابندیاں ہیں تو دوسری جانب پارٹی کے اندرونی اختلافات۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سہیل آفریدی اس چیلنج کو کس حد تک عبور کر پاتے ہیں اور آیا یہ جلسہ واقعی ایک نئی سیاسی تحریک کا آغاز ثابت ہوتا ہے یا ناکامی کا شکار ہو کر پارٹی کی ساگ کو مزید مجروح کرتا ہے۔

Back to top button