کیا پنجاب میں نئی پولیس فورسز بنانے کا مقصد PTI کو قابو کرنا ہے؟

مریم نواز کی زیر قیادت پنجاب حکومت کی جانب سے ایک کے بعد ایک نئی فورس کے قیام کا فیصلہ تنقید کی زد میں ہے۔ پنجاب میں ’رائٹس مینجمنٹ پولیس‘ اور ’پیرا‘ جیسے اداروں کی برق رفتاری سے تشکیل، اور وفاق میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کو فیڈرل کانسٹیبلری میں بدلنے کے اقدامات ایک ایسے وقت میں کئے جا رہے ہیں جب ملک میں سیاسی احتجاج کی نئی لہر اٹھنے کو تیار ہے۔ جس کے بعد جہاں حکومت پر سیاسی مخالفین کو دبانے، اختلاف رائے کو کچلنے اور جمہوری آوازوں کو خاموش کروانے کے الزامات عائد کئے جا رہے ہیں وہیں ان فورسز کی تشکیل کے پیچھے چھپی نیت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق پنجاب میں مہنگائی کنٹرول کرنے سے لے کر احتجاج روکنے اور ماحولیاتی نگرانی تک، ہر مسئلے کا جواب ایک نئی فورس کی شکل میں دیا جا رہا ہے، جبکہ وفاق میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کو فیڈرل کانسٹیبلری میں بدل کر اسے پورے ملک میں فعال کر دیا گیا ہے۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ وفاق اور پنجاب میں نئی فورسز کے قیام کا مقصد سکیورٹی بہتری کی کوشش نہیں بلکہ اس کو مخالف سیاسی آوازوں کو دبانے کیلئے بطور ایک ریاستی ہتھکنڈے کے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بظاہر تو یہ فورسز مہنگائی پر قابو پانے، ہجوم کو کنٹرول کرنے، ماحولیات اور جرائم سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی ہیں، تاہم لگتا یہی ہے کہ ان فورسز کے ذریعے سیاسی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کا پورا بندوبست کیا جا رہا ہے تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی فورسز وقتی ریلیف دیتی ہیں، مگر دیرپا مسائل کو مزید سنگین بناتی ہیں۔
مبصرین کے مطابق پنجاب اور وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ایک کے بعد دوسری وردی میں ملبوس فورس متعارف کرا رہی ہے، جہاں ان فورسز کا دائرہ اختیار بڑھتا جا رہا ہے وہیں ان کی تشکیل پر تنقید بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ سارے اقدامات عوام کے مفاد میں نہیں، بلکہ سیاسی مظلومیت کو دبانے، مخالف آوازوں کو خاموش کروانے اور جمہوری آوازوں پر بند باندھنے کیلئے کئے جا رہے ہیں تاہم حکومت ان الزمات کی نفی کرتی نظر آتی ہے۔ تاہم مبصرین کے بقول ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہر وہ فورس جسے عوام کی سیکیورٹی کے نام پر کھڑا کیا گیا، وہی بعد میں سیاسی ہتھیار بن جاتی ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب میں مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت نے حالیہ مہینوں میں کئی نئی سیکیورٹی و انتظامی فورسز متعارف کرائی ہیں۔ جن میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی سر فہرست ہے۔ یہ فورس
تجاوزات، مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔ یہ فورس نہ صرف پرائس کنٹرول پر کام کرے گی بلکہ اسے طاقت کے استعمال کے وسیع اختیارات بھی تفویض کئے گئے ہیں۔
اسی طرح بظاہر ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے نوتشکیل کردہ رائٹس مینجمنٹ پولیس فورس 5،000 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ ڈرونز، جدید ہتھیار، اور بین الاقوامی تربیت کے ساتھ یہ فورس نہ صرف حساس مقامات کی حفاظت کرے گی بلکہ احتجاجی مظاہروں کو بھی سنبھالے گی۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ "سیاسی مظاہروں کو روکنے کے لیے تیار کردہ ایک عسکری جواب” ہے۔
اسی طرح پنجاب میں نئی بنائی گئی کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ فورس پولیس کے ایک ذیلی ونگ کے طور پر کام کر رہی ہے جو اغوا، بھتہ خوری، قتل اور قبضہ گروپوں کے خلاف سرگرم ہے۔ فروری 2025 میں بننے والی یہ فورس تاحال کئی مبینہ ماورائے عدالت مقابلوں کے حوالے سے خبروں میں ہے۔صنعتی آلودگی، درختوں کی غیر قانونی کٹائی اور دیگر ماحولیاتی جرائم کے خلاف بننے والی ماحولیاتی فورس قابلِ تحسین ضرور ہے، مگر اس کی کارروائیوں پر سیاسی یا صنعتی دباؤ کے اثرات اب بھی ایک سوالیہ نشان ہیں۔
جہاں پنجاب میں ایک کے بعد ایک نئی فورس بنائی جا رہی ہے وہیں دوسری جانب مرکزی حکومت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کو ایک نئے آرڈیننس کے ذریعے "فیڈرل کانسٹیبلری” میں بدل دیا ہے، جو اب پورے ملک میں کام کرے گی۔ اس میں 41 ونگز ہیں، جن میں پانچ ہجوم کنٹرول اور باقی سکیورٹی کے لیے مختص ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام 18ویں ترمیم کے خلاف ہے کیونکہ یہ صوبوں کی خودمختاری پر شبہات پیدا کرتا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن خاص طور پر پی ٹی آئی نے پنجاب میں بنائی گئی نئی فورسز کو موجودہ حکومت کی جانب سے سیاسی مخالفین کو دبانے کی کوشش قرار دے دیا ہے۔پی ٹی آئی کی رہنما عالیہ حمزہ کے مطابق ’رائٹس مینجمنٹ فورس اور فیڈرل کانسٹیبلری سیاسی احتجاج، خاص طور پر پی ٹی آئی کے پانچ اگست کے مظاہروں کو کچلنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ نئی فورسز کی تشکیل نون لیگ کی جانب سے اپنے اقتدار کو طول دینے کی ایک اور کوشش ہے لیکن پاکستان کے عوام اب ان ہتھکنڈوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ یہ جتنی مرضی فورسز بنا لیں جیت آخر میں عوام کی ہو گی۔‘
مریم نواز کے بعد حنا پرویز بٹ بھی سستی شہرت کی بھوک کا شکار
تاہم وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ’عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان کو مروڑ اس لیے اٹھ رہے ہیں کہ انہوں نے کبھی خود کام کیا ہے نہ یہ دوسروں کو کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ یہ فورسز کسی کے حق یا مخالفت میں نہیں بلکہ صرف عوامی تحفظ کیلئے بنائی جا رہی ہیں۔ اگر پی ٹی آئی والے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے تو انھیں ان فورسز سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں تاہم اگر پی ٹی آئی والوں نے کوئی گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کے مطابق ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق فیڈرل فورس یا رائٹس مینجمنٹ فورس کی تشکیل بظاہر تو سکیورٹی کے تناظر میں کی جاتی ہیں لیکن عام طور پر اس کا استعمال سیاسی ہی ہوتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کے ادارے ایک مرتبہ بن جاتے ہیں تو پھر ان کا استعمال انہی کے خلاف بھی ہوتا ہے جو انہیں بناتے ہیں۔‘ انسداد دہشتگردی کے قانون اور نیب کے ادارے کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ان فورسز کی تشکیل سے سکیورٹی ڈھانچہ مضبوط ہو سکتا ہے تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب پاکستان میں پولیس، رینجرز، ایف سی، لیویز، اے ایس ایف، نیب، ایف آئی اے، سی ٹی ڈی جیسے ادارے پہلے ہی موجود ہیں۔ ان کی موجودگی میں مزید فورسز کیوں بنائی جا رہی ہیں؟
