کیا تیل کے ذخائر پر امریکی قبضہ عالمی جنگ چھیڑنے والا ہے؟

معروف بزنس مین اور لکھاری مرزا اشتیاق بیگ کا کہنا ہے کہ امریکی طاقت کے بے لگام گھوڑے نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دنیا آج تیل کی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ ماضی میں کہا جاتا تھا کہ آنے والی جنگیں پانی پر ہوں گی مگر موجودہ عالمی حالات اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کر رہے ہیں مستقبل کی جنگیں پانی کی بجائے تیل اور توانائی کے وسائل کے حصول کیلئے لڑی جائیں گی، مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق تیل کے ذخائر پر قبضے کیلئے وینزویلا کے بعد ایران پر امریکی حملے اور حکومتی تبدیلی کی بازگشت عروج پر ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکی ایماء پر ایران میں ہونے والا رجیم چینج آپریشن نہ صرف پورے خطے بلکہ پاکستان کیلئے بھی ایک بھیانک خواب ثابت ہوگا کیونکہ شاہِ ایران کے بیٹے رضا شاہ کی ممکنہ حکومت اسرائیل اور بھارت نواز ہوگی جو نہ صرف ایران کی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی لائے گی بلکہ پاکستان کی سلامتی، سفارتی مفادات اور خطے میں اس کے سٹریٹجک مقام کے لیے بھی سنگین خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مرزا اشتیاق بیگ کا کہنا ہے کہ تیل کے بے پناہ ذخائر سے مالا مال ملک وینزویلا پر امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو اغواء کرکے امریکہ لے جانے کے واقعہ کے بعد اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ وینزویلا میں امریکی مداخلت کا اصل مقصد منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام اور جمہوریت کا قیام نہیں بلکہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اب وینزویلا کا انتظام وہ خود چلائیں گے، وینزویلا کا تیل اور اس سے حاصل آمدنی کا فیصلہ امریکہ کرے گا اس بیان سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ ٹرمپ وینزویلا کے قائم مقام صدر ہوں گے۔ مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق صدر ٹرمپ سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا یہ بیان قابل غور ہے کہ امریکہ کو وینزویلا کے تیل کی ضرورت نہیں لیکن ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہمارے مخالفین اس تیل سے فائدہ اٹھائیں۔ امریکی قیادت کے ان بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کا اصل ہدف تیل کے ذخائر پر قابض ہونا اور اس کا کنٹرول حاصل کرنا تھا۔
واضح رہے کہ وینزویلا دنیا میں تیل کے ذخائر رکھنے والا سب سے بڑا ملک ہے جس کے تیل کے ذخائر 303 ارب بیرل ہیں اور اِن کی مالیت 22 کھرب ڈالر سے زائد ہے۔ اوپیک کے اعداد و شمار کے مطابق وینزویلا کے بعد دوسرے نمبر پر سعودی عرب کے پاس 2 ارب 67 کروڑ بیرل اور تیسرے نمبر پر ایران کے پاس 2 ارب 8 کروڑ بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ امریکی حملے سے قبل وینزویلا یومیہ ایک ملین بیرل تیل پیدا کررہا تھا جس میں سے 8 لاکھ بیرل تیل چین امپورٹ کرتا تھا جو وینزویلا کی تیل ایکسپورٹ کا 85 فیصد ہے، اس طرح وینزویلا کی تیل سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدنی 18 ارب ڈالر سے زائد تھی۔
مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق وینزویلا کے بعد تیل کی سیاست کا رخ دنیا میں تیل کے ذخائر رکھنے والے تیسرے بڑے ملک ایران کی جانب مڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پرکہ ’’ایرانی عوام آزادی کیلئے امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں‘‘ ایران میں جاری مظاہروں نے شدت اختیار کرلی ہے اور یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ امریکہ مظاہرین کی اموات کو بہانہ بناکر کسی بھی وقت ایران پر حملہ آور ہوکر رجیم چینج کا دیرینہ خواب پورا کرسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو امریکہ نہ صرف ایران میں اپنی من پسند حکومت قائم کرتے ہوئے سابق شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کو لابٹھائے گا بلکہ ایران کے تیل کے ذخائر پر بھی کنٹرول حاصل کرلے گا۔ اس طرح دنیا میں تیل کے ذخائر رکھنے والے دو بڑے ممالک وینزویلا اور ایران کے تیل کے ذخائر پر امریکہ قابض ہوجائے گا۔
مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق تیل کی سیاست میں ایک اور حکمت عملی کے تحت سعودی عرب کے اطراف ،یمن اور صومالی لینڈ میں بھی گھیرا تنگ کیا جارہا ہے تاکہ وہاں سے گزرنے والے سعودی تیل بردار بحری جہازوں کی وقت آنے پر ناکہ بندی کرکے چین کو تیل کی سپلائی میں رکاوٹیں پیدا کی جاسکیں۔
مرزا اشتیاق بیگ کا مزید کہنا ہے کہ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ برسراقتدار آنے کے بعد چین کی معیشت کو کمزور کرنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ تجارتی ٹیرف کے ذریعے چین کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد امریکہ اب دنیا کی تیل سپلائی پر کنٹرول حاصل کرکے چین کی معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ مرزا اشتیاق بیگ کے بقول اگر امریکہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوگیا تو وہ آدھی سے زیادہ دنیا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرلے گا اور یہ فیصلہ کرے گا کہ کس ملک کو تیل فراہم کرے اور کس ملک پر پابندی عائد کی جائے۔ چین کی ترقی کا انحصار چونکہ تیل پر ہے چنانچہ تیل کی سپلائی لائن پر امریکی کنٹرول سے خطے پر جو اثرات مرتب ہوں گے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
صدر ٹرمپ ایران پر فیصلہ کن حملہ کرنا چاہتے ہیں: امریکی ذرائع ابلاغ
مرزا اشتیاق بیگ کے مطابق امریکہ بغیر ایک بھی گولی چلائے یا براہِ راست جنگ مسلط کیے چین کی معیشت اور سلامتی کو کمزور کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں بین الاقوامی سیاست ایک نہایت خطرناک موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے، جہاں کسی طاقتور ریاست کے لیے کسی کمزور ملک اور اس کے وسائل پر قبضہ کرنا اب کوئی غیر معمولی بات نہیں رہا۔ طاقت کے اس بے لگام گھوڑے نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جس کے بعد دنیا آج تیل کی جنگ کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
