کیا گاڑیوں کی کم فروخت کی وجہ مہنگائی کا طوفان ہے؟

ملک میں مہنگائی کے حالیہ طوفان نے جہاں غریب، اور متوسط طبقے کی زندگی کو مشکل بنایا ہے، وہیں امیر طبقہ بھی اس سے متاثر ہوا ہے، ہر طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں، جسکا اثر گاڑیوں کی مارکیٹ پر بھی پڑا ہے۔ رواں مالی سال کے 7 ماہ کے دوران صرف 60 ہزار کاریں فروخت ہو سکیں جن کی تعداد گزشتہ سال اسی عرصے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد رہی تھی۔

پاکستان میں کاریں تیار کرنے والے اداروں کی نمائندہ تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری کے مہینے میں دسمبر کے مقابلے میں کاروں کی فروخت میں 25 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ ملک میں کئی ماہ سے شرح سود میں اضافہ ہو رہا ہے اور پچاس فیصد سے زائد کاریں بینک سے قرض لے کر خریدی جاتی ہیں، اسی طرح سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی کچھ ماہ قابل مقامی طور پر تیار ہونے والی اور درآمد شدہ گاڑیوں پر آٹو فنانسنگ کے قواعد و ضوابط میں سختی کر دی تھی۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پارلیمان سے جنوری میں پاس ہونے والے منی بجٹ میں بھی کاروں پر ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ اور اس پر دی جانے والی چھوٹ کو ختم کر دیا گیا، تاہم جنوری کے مہینے میں دسمبر کے مقابلے میں گاڑیوں کی فروخت میں 25 فیصد کمی دیکھی گئی۔

سوزوکی گاڑیوں کی فروخت میں دسمبر 2021 کے مقابلے جنوری 2022 میں 42 فیصد کمی دیکھنے میں آئی جن میں کلٹس، آلٹو اور ویگن آر کی فروخت میں بالترتیب 17 فیصد، 58 فیصد اور 46 فیصد کمی دیکھنے میں آئی، اسی طرح ہنڈا کمپنی کی کاروں کی فروخت میں بھی کمی دیکھی گئی، اس کمپنی کی تیار کردہ سٹی اور سوک ماڈل گاڑیوں کی فروخت میں دسمبر کے مقابلے جنوری کے مہینے میں 17 فیصد کمی دیکھی گئی۔ انڈس موٹرز کمپنی کی تیار کردہ کاروں کی فروخت میں کوئی خاص کمی تو نہیں دیکھی گئی تاہم ان کی جنوری کے مہینے میں ہونے والی فروخت اتنی متاثر کن نہیں کیونکہ سات ماہ میں 42 فیصد زیادہ فروخت کرنے والی کمپنی نے دسمبر کے مقابلے جنوری کے مہینے میں صرف نو فیصد کاریں زیادہ فروخت کیں۔

مرکزی بینک کے مالی سال 2021 کے اختتام پر آٹو فناننسگ کی مالیت 354 ارب روپے تھی جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ تھی، پاکستان میں جنوری کے مہینے میں پیش ہونے والے منی بجٹ میں جہاں بہت سارے دوسرے شعبوں میں ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کیا گیا تو اس کے ساتھ کاروں کی صعنت کو بھی دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کا بھی خاتمہ کر دیا گیا جن میں سیلز ٹیکس کی مد میں دی گئی چھوٹ کے لیے فیدڑل ایکسائز ڈیوٹی بھی بڑھا دی گئی۔ آٹو سیکڑ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوری میں کاروں کی فروخت میں آنے والی کمی کی وجہ کچھ اور ہے، مرکزی بینک اور حکومتی اقدامات کا اثر بھی آنے والے مہینوں میں اس شعبے پر پڑنے والا ہے تاہم جنوری 2023 میں فروخت میں کمی کی وجہ دسمبر کے مہینے میں ہونے والی فروخت میں بے پناہ اضافہ تھا اور جنوری میں اس کا بنیادی اثر دکھائی دیا۔

آٹو سیکٹر شعبے کے ماہر مشہود علی خان کا کہنا ہے کہ دسمبر میں زیادہ فروخت کاروں کی زیادہ ڈیلیوری ہونے کی وجہ سے ہوئی اور جنوری میں دوبارہ وہ اپنی نارمل سطح پر آ گئی جس کی ایک وجہ منی بجٹ سے پہلے ڈیلیوری حاصل کرنا تھا تاکہ اضافی ٹیکسوں سے بچا جا سکے۔ کاروں کی صنعت کے شعبے کے تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینوں میں کاروں کی فروخت بلند شرح سود، سٹیٹ بینک کے قواعد و ضوابط اور منی بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافے سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اب جو گاڑی بک رہی ہے اس کی ڈیلیوری اگلے چھ سے سات ماہ میں ہو گی اس لیے اس کا اثر نظر آئے گا کیونکہ پاکستان میں 50 سے 60 فیصد گاڑیاں بینک سے قرض لے کر خریدی جاتی ہیں اور بلند شرح سود کی وجہ سے انکی فروخت پر اثر پڑے گا۔اسی طرح منی بجٹ میں ٹیکسوں میں ہونے والے اضافے کو بھی ابھی ایک ماہ ہی ہوا ہے اور اس کا اثر بھی ایک دو سہ ماہی کے بعد نظر آئے گا اگر حکومت نے آئندہ وفاقی بجٹ میں اس پر نظر ثانی نہ کی۔

Is the storm of inflation the reason for low car sales? video

Back to top button