’ونڈر بوائے‘ اور گرینڈ پلان کی کہانی سچی ہے یا جھوٹی ہے؟

شہر اقتدار اسلام اّباد میں ایک قومی حکومت تشکیل دینے کے گرینڈ پلان بارے قیاس آرائیوں میں شدت آ گئی ہے، لیکن باخبر حکومتی اور عسکری حلقے اس طرح کے کسی پلان کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان افواہوں کا آغاز معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے ایک حالیہ سیاسی تجزیے سے ہوا جس میں ایک روشن مستقبل والے ’ونڈر بوائے‘ کا ذکر بھی کیا گیا۔ قومی حکومت کے گرینڈ پلان کا ذکر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت کے تعلقات کو بظاہر مستحکم اور خوشگوار قرار دیا جا رہا ہے۔
سہیل وڑائچ کے مطابق موجودہ صورتحال میں شہباز شریف اور فوجی قیادت کے درمیان ورکنگ ریلیشن مثالی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ وزیراعظم کی کارکردگی سے مطمئن بھی دکھائی دیتی ہے۔ ان کے بقول عمران خان کے ساتھ جاری سیاسی کشمکش کے تناظر میں فوج کے پاس شہباز شریف سے بہتر کوئی آپشن موجود نہیں، اسی لیے فوری سیاسی تبدیلی کی کوئی منطقی وجہ نظر نہیں آتی۔
تاہم سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اصل حقیقت اس سے کچھ زیادہ پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق اگر شہباز شریف موجودہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں ’سونا‘ ہیں تو موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں ایک ایسا ’ونڈر بوائے‘ بھی موجود ہے جسے فوجی قیادت ’ہیرے‘ کے مترادف سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ونڈر بوائے کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔انکے مطابق ایک گرینڈ پلان کے تحت قومی حکومت کی تشکیل کی افواہیں گردش میں ہیں جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں بشمول تحریک انصاف کی شمولیت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ تاثر ہے کہ اصل فیصلہ ساز حلقے موجودہ حکومت سے مکمل طور پر مطمئن نہیں، اگرچہ اس عدم اطمینان کا کوئی واضح اور ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت پر یہ اعتراض وزن رکھتا ہے کہ وہ کوئی مضبوط سیاسی بیانیہ تشکیل دینے اور اسے عوام میں مقبول بنانے میں ناکام رہی ہے۔ حتیٰ کہ حکومت کے حامی حلقے بھی اس کی مجموعی ڈیلیوری سے پوری طرح مطمئن نہیں۔ سہیل وڑائچ کے مطابق یہی خلا ہے جس سے گرینڈ پلان اور ونڈر بوائے جیسی کہانیوں نے جنم لیا ہے۔ ان کے مطابق شہباز شریف سونا ہیں، مگر برسوں کے تساہل کو ختم کرنے کے لیے اب ہیرے جیسا ونڈر بوائے درکار ہے۔
ان قیاس آرائیوں کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا واقعی کسی گرینڈ پلان کے تحت قومی حکومت کی تیاری ہو رہی ہے یا یہ سب محض افواہوں کا بازار ہے، اور یہ کہ وہ ’ونڈر بوائے‘ آخر کون ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی اور حکومتی ذرائع نے ان تمام دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ محض بے بنیاد کہانیاں ہیں اور کسی قسم کی کوئی سیاسی تبدیلی زیر غور نہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو تبدیل کرنے کے لیے کسی ونڈر بوائے کی تلاش نہیں کی جا رہی۔
ذرائع نے واضح کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل، کے درمیان تعلقات، باہمی احترام اور کام کرنے کا طریقہ کار پہلے کی طرح ’پرفیکٹ‘ ہے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کے تعلقات بہت ہی شاندار ہیں۔ ان کے مطابق نہ تو وزیراعظم کے عہدے کو کمزور کرنے کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی فوجی قیادت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن میں کسی تبدیلی کا۔
فوج اور تحریک انصاف کے تصادم کا کیا نتیجہ نکلے گا؟
اسی تناظر میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی ’ونڈر بوائے‘ کے تصور کو زیادہ تر خیالی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی سیاست میں ونڈر بوائے کون ہے، اس بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔ خواجہ آصف کے مطابق ونڈر بوائے عام طور پر کہانیوں کا ایسا کردار ہوتا ہے جو غیر معمولی یا کرشماتی صلاحیتوں کا حامل ہو اور آؤٹ اسٹینڈنگ کارکردگی دکھائے۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر آؤٹ اسٹینڈنگ پرفارمنس کو معیار بنایا جائے تو موجودہ حکومت میں بھی کچھ لوگ بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں، کچھ کی کارکردگی درمیانی درجے کی ہے، مگر وہ خود اس بحث میں پڑنے یا کسی کو ونڈر بوائے قرار دینے کی کوشش نہیں کریں گے۔ ان کے بقول، میں نے یہ پنگا لے کر عوام سے گالیاں نہیں کھانی۔
حکومتی اور عسکری حلقے ایک قومی حکومت کی تشکیل کی کہانیوں کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ونڈر بوائے اور گرینڈ پلان کی بحث دراصل موجودہ حکومت کی سیاسی کمزوریوں، بیانیے کے فقدان اور عوامی سطح پر عدم اطمینان کی عکاس ہے، جس نے ایک بار پھر اسلام آباد میں افواہوں کا بازار گرم کر دیا ہے۔
