کیا گنڈاپور کی وزارت اعلیٰ کا سورج غروب ہونے والاہے؟

عوام میں دھمکیاں دے کر تنہائی میں معافیاں مانگنے والے منہ پھٹ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا اقتدار ہاتھ سے جاتا دکھائی دیتا ہے۔ کے پی اسمبلی کے تین درجن سے زائد پی ٹی آئی اراکین نے گنڈاپور کیخلاف باقاعدہ فارورڈ بلاک بنا لیا ہے جس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو عوام کے سامنے آنکھیں دکھانے والے گنڈاپور کی اپنی آنکھیں باہر نکلنا یقینی ہو گیا ہے۔ بڑھتے ہوئے پارٹی اختلافات کے بعد علی امین گنڈاپور کو فوری پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم حالات میں سدھار نہ آنے پر انھیں مستقل طور پر گھر بھی بھجوایا جا سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق علی امین گنڈاپور اسلام آباد جلسے میں اسٹیبلشمنٹ مخالف جذباتی تقریر اور بیان بازی جیسے اقدامات سے اپنا اقتدار بچانے کیلئے ہاتھ پاوں مار رہے ہیں تاکہ کارکنان کو رام کر سکیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان کے اقتدار کی کشتی بھنور میں پھنس چکی ہے اور کسی بھی وقت حادثے کا شکار ہو کر ڈوب سکتی ہے۔
نیا دور کی ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں واضح اکثریت ہونے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کو صوبے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پارٹی میں موجود گروپ بندی نے صوبے میں حکومتی سطح پر بدانتظامی کی ایسی فضا کو جنم دیا ہے جس سے معاملات میں سدھار آنے کے بجائے بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے خلاف موجود فارورڈ بلاک یا ناراض ممبران کا گروپ دن بہ دن مضبوط ہو رہا ہے۔ باوثوق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا میں ناراض ممبران اسمبلی کی تعداد 37 ہو گئی ہے۔ سب ممبران کو ایک ہی شخص کے ساتھ مسئلہ ہے جس کا نام علی امین گنڈاپور ہے۔ زیادہ تر ناراض ممبران کا گلہ ہے کہ ہماری بات نہیں سنی جا رہی، صوبے میں کرپشن ہو رہی ہے اور عمران خان کی رہائی کے لئے وہ مؤقف نہیں اپنایا جا رہا جس کی بنیاد اینٹی اسٹبلشمنٹ ہے اور جس بنیاد پر تحریک انصاف کو لوگوں نے ووٹ دئیے ہیں۔
علی امین گنڈاپور کا رویہ بطور وزیر اعلیٰ اور بطور صوبائی صدر پی ٹی آئی ناقابل قبول ہو چکا ہے۔ علی امین گنڈاپور کا اس بابت میں چند دن پہلے دیا ہوا بیان بہت اہمیت کا حامل ہے جس میں انہوں نے واضح طور پر پارٹی کے اندر اختلافات کو تسلیم کیا ہے اور اختلاف رکھنے والوں کو سازشی کہا ہے۔ علی امین گنڈاپور کا یہ جملہ کہ ‘سازشیوں کو سبق سکھاؤں گا’، اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ سمجھ چکے ہیں کہ مخالفین کا گروپ بڑا ہے۔اس کے علاوہ خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس کو چار مرتبہ ملتوی کیا گیا ہے۔ اسمبلی اجلاس کا بار بار ملتوی ہونا بھی اختلافات کی افواہوں کو مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے کہ اسمبلی ممبران میں بے چینی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا رویہ اور اس کے بھائی کی صوبائی معاملات میں مداخلت کی خبریں بے بنیاد نہیں ہیں۔ پشاور میں موجود سیاسی پنڈتوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ پارٹی میں موجود مخالفت ہے جس کو حل کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں مگر علی امین کے اس رویے کے ساتھ معاملات کو سدھارنا مشکل بن گیا ہے۔
حکومتی امور کو سدھارنے کے لیے تحریک انصاف سے متعلق ایک خبر بھی گردش میں ہے کہ ممکنہ طور پر بہت جلد علی امین گنڈاپور کو صوبائی صدارت سے ہٹا دیا جائے گا۔ علی امین گنڈاپور کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کی وجہ ظاہری طور پر مصروفیات اور حکومتی امور کی بہتری ہو گی مگر اصل میں علی امین گنڈاپور کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ حکومتی سطح پر موجود بے چینی کو کم کیا جا سکے۔
خیبر پختونخوا میں گنڈاپور سرکار کی بد انتظامی اور اختلافات بارے سینیئر صحافی عرفان خان کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں جہاں تک معاملات سدھارنے کی بات ہے تو اختلافات بہت زیادہ ہیں، علی امین گنڈاپور سے لوگ ناراض ہیں، اس کی بنیادی وجہ ان کا طریقہ اور رویہ ہے جس سے بہت سارے لوگ نالاں ہیں۔ اس کی ایک اور بنیادی وجہ ناصرف علی امین گنڈاپور بلکہ ان کے بھائی فیصل امین بھی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ صوبائی معاملات، بیوروکریسی کی پوسٹنگ ٹرانسفر میں براہ راست مداخلت کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے پارٹی کے لوگ ناراض ہیں۔ دوسرا اب پارٹی کے کارکنان کو یہ بھی یقین ہو چلا ہے کہ علی امین گنڈاپور ایک ڈیل کے تحت وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔عرفان خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ پارٹی چیئرمین کی جانب سے بنایا گیا تھا، پارٹی ورکرز کا اس سے زیادہ سروکار نہیں۔ یہ بھی ایک طریقہ ہے یہاں جو بھی حکومتیں بنی ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد کے بغیر نہیں بنتیں۔ میرا نہیں خیال کہ علی امین گنداپور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے پر وزیر اعلیٰ بنے ہیں۔ اندرونی معاملات کچھ اس طرح ہیں کہ وہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کو پارلیمانی سیاست سے نکال بھی نہیں سکتے تھے ان کو یہ صوبہ اس لیے دیا گیا ہے تاکہ یہ تاثر ملے کہ انتخابات شفاف تھے۔ اگر دیکھا جائے تو جو گیم کھیلی جا رہی ہے وہ فکس ہے۔ علی امین گنڈاپور کا بطور وزیر اعلیٰ انتخاب اگر دیکھا جائے تو یہ دو ماہ پہلے ہوا تھا تبھی تو عاطف خان، شہرام ترکئی اور اسد قیصر جیسے لوگوں کو راستے سے ہٹا کر قومی اسمبلی بھیجا گیا اور جو باقی تھے یعنی تیمور سلیم جھگڑا، شوکت یوسفزئی اور کامران بنگش ان کو ہروایا گیا تاکہ علی امین گنڈاپور کے لیے راستہ صاف ہو۔
صوبے میں جاری سیاسی رسہ کشی اور انتظامی بے چینی کے حوالے سے سینیئر صحافی لحاظ علی کہتے ہیں کہ علی امین گنڈاپور سےاسمبلی ممبران اور وزرا کا یہ گلہ ہے کہ پرویز خٹک اور محمود خان دور میں ہم سے مشاورت ہوتی تھی مگر علی امین گنڈاپور مشاورت نہیں کرتے۔ ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ پالیسی کیا ہے، پالیسی بنا لیتے ہیں اور نافذ بھی کر دیتے ہیں مگر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں پالیسی کا فقدان ہے مگر یہاں تحریک انصاف کو بیانیے پر ووٹ ملا تھا اور ملے گا۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ پارٹی کے اندر اختلافات نہیں ہیں، اگر ہیں بھی تو سب علی امین گنڈاپور سے اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ کوئی جرات ہی نہیں کر سکتا کہ وہ ان کے خلاف جائے۔ اسمبلی اجلاس کا بار بار ملتوی ہونا شکیل خان کو کارنر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
