کیا واقعی درآمدی مہنگے موبائل فونز پر ٹیکس ختم ہونے والا ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ و سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے سید قاسم گیلانی کی جانب سے آواز بلند کرنے کے بعد درآمدی موبائل فونز پر عائد بھاری پی ٹی اے ٹیکس ایک بار پھر عوامی تنقید کی زد میں ہے جہاں ایک طرف موبائل فونز پر عائد ٹیکس کو غیر منصفانہ قرار دیا جا رہا ہے وہیں اس ٹیکس میں کمی کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ تاہم اس معاملے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شیزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِمملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی جانب سے قاسم گیلانی کے موقف کی تائید کے بعد درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کی کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ پیپلز پارٹی رہنما قاسم گیلانی کی جانب سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو موبائل فونز پر غیرمعقول پی ٹی اے اور ایف بی آر ٹیکسز پر نظرِ ثانی کی درخواست کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ درآمدی موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز کی وجہ کیا ہے؟ کیا موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس ختم کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
ماہرین کے مطابق پاکستان میں مہنگے موبائل فونز پر عائد معروف ’پی ٹی اے ٹیکس‘ دراصل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کا ٹیکس نہیں بلکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے عائد کیا گیا ایک درآمدی یا رجسٹریشن ٹیکس ہے۔ ایف بی آر یہ ٹیکس وصول کرنے کے بعد پی ٹی اے کو اس سے متعلق آگاہ کرتا ہے جس کے بعد پی ٹی اے اس موبائل ڈیوائس کو پاکستان میں فعال یعنی ایکٹیو کر دیتا ہے۔ چونکہ اس عمل میں پی ٹی اے کا کردار شامل ہوتا ہے، اس لیے صارفین میں اسے ’پی ٹی اے ٹیکس‘ کے نام سے پکارا جانے لگا ہے۔ ماہرین کے بقول موبائل فونز پر یہ ٹیکس دراصل اس لیے لگایا جاتا ہے تاکہ سمگل شدہ یا غیرقانونی موبائل فونز کا استعمال روکا جا سکے اور صرف وہی ڈیوائسز پاکستان کے نیٹ ورک پر استعمال ہو سکیں جو قانونی طور پر درآمد یا رجسٹر کی گئی ہوں۔
اگر کوئی شخص دبئی، سعودی عرب، برطانیہ یا کسی بھی ملک سے نیا یا استعمال شدہ فون لا کر پاکستان میں استعمال کرنا چاہتا ہے تو اس فون پر پی ٹی اے رجسٹریشن ٹیکس لازمی ہوتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی موبائل فون پاکستان میں غیر رجسٹرڈ ہے اور اس کا آئی ایم ای آئی پی ٹی اے سسٹم میں ’نان کمپلائنٹ‘ یا ’بلاکڈ‘ آتا ہے تو وہ فون استعمال کے قابل نہیں ہوتا جب تک اس پر ٹیکس ادا نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں جو موبائل فونز سمگل شدہ یا آن لائن غیر رجسٹرڈ حالت میں فروخت کیے جاتے ہیں، انہیں بھی فعال کرنے کے لیے پی ٹی اے ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگے موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس لازمی طور پر ادا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پی ٹی اے اور ایف بی آر موبائل فون پر ٹیکس اس کی قیمت کے لحاظ سے عائد کرتے ہیں۔ جتنا فون مہنگا ہو گا، اتنا ہی زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی موبائل فون کی مالیت 500 سے 700 امریکی ڈالر کے درمیان ہے تو پاسپورٹ پر تقریباً 36 ہزار روپے اور قومی شناختی کارڈ پر تقریباً 48 ہزار روپے ٹیکس بنتا ہے۔ اس سے زیادہ مالیت والے فون مثلاً ایپل کے نئے ماڈلز آئی فون 17 سیریز پر ایف بی آر کے مطابق پی ٹی اے ٹیکس تقریباً دو لاکھ 13 ہزار 631 روپے جبکہ اس کے بنیادی ماڈل پر ایک لاکھ 54 ہزار 293 روپے عائد کیا جاتا ہے۔
تاہم رکن قومی اسمبلی سید قاسم گیلانی کے مطابق آج کے دور میں آئی فون یا کوئی بھی اچھا موبائل فون رکھنا کوئی عیاشی نہیں رہا بلکہ یہ عام ضرورت بن چکا ہے۔ اگر کوئی شخص اڑھائی لاکھ روپے کا فون خریدے اور اس پر ڈیڑھ یا اڑھائی لاکھ روپے ٹیکس ادا کرے تو یہ سراسر غیرمنطقی بات ہے۔‘اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی گاڑی کی رجسٹریشن کے لیے پانچ لاکھ روپے ادا کیے اور دو فونز پر بھی تقریباً اتنی ہی رقم ٹیکس کی مد میں جمع کرائی، کیا یہ مناسب ہے؟‘قاسم گیلانی نے مزید بتایا کہ وہ اس سلسلے میں بھرپور مہم چلائیں گے اور ان کی کوشش ہے کہ آئندہ بجٹ سے قبل وزیرِاعظم کو قائل کیا جائے کہ مہنگے فونز پر ٹیکس کی حد زیادہ سے زیادہ پچاس ہزار روپے تک مقرر کی جائے۔انہیں خوشی ہے کہ ’وزیرِ آئی ٹی شزہ خواجہ، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اکبر کیانی اور خود پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی بھی اس ٹیکس کے خلاف ہیں اور سب کی مشترکہ کوشش ہے کہ اس مسئلے پر وزیرِاعظم کو قائل کیا جائے گا۔‘ امید ہے اگلے مالی سال کے بجٹ میں موبائل فونز پر ٹیکس ختم تو نہیں لیکن کم ضرور کر دیا جائے گا۔
