کیا ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو شکست ہونے والی ہے؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ ایرانی تیل پر قبضے کے خواب کی تکمیل کے لیے ایران پر حملہ آور ہونے والے امریکی صدر ٹرمپ کے لیے ایران میں ریجیم چینج کرنا تب تک ممکن نہیں جب تک امریکہ اپنی زمینی فوجیں ایران میں نہ بھیجے، انکا کہنا ہے کہ محض فضائی حملوں کے ذریعے کسی بھی ملک میں کبھی ریجیم چینج نہیں ہو سکا۔

 

بی بی سی اردو کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ خطے میں جاری جنگی صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں دنیا بھر میں مذہبی اور سیاسی بیانیے ایک دوسرے سے گڈمڈ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا کے مختلف حلقوں میں جنگ کو مذہبی رنگ بھی دیا جا رہا ہے اور اسے تہذیبی یا عقیدتی تصادم کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرجا گھروں کی گھنٹیوں اور مذہبی خطابات میں دنیا کے اختتامی دور کی تعبیرات تلاش کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری طرف میدان جنگ میں بارود اور خون کی بو سے فضا بھری ہوئی ہے۔

 

عاصمہ شیرازی کے مطابق اس تمام منظرنامے میں اصل سوال یہ ہے کہ ایران پر حملوں سے حاصل کیا ہو گا اور اس جنگ کے حقیقی مقاصد کیا ہیں۔ ان کے بقول امریکہ اسرائیل کی جنگ میں کیسے اور کیوں شامل ہوا اور اس کا نتیجہ کس کے حق میں جائے گا، یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ابھی واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی جنگوں میں فوجیں آمنے سامنے آ کر لڑتی تھیں، میدان جنگ میں طاقت کا اظہار ہوتا اور فتوحات کے نتیجے میں حکومتیں قائم کی جاتیں۔ مگر جدید جنگوں میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ سیاسی، معاشی اور نظریاتی مقاصد بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ جنگ بھی دراصل انہی مفادات کے گرد گھوم رہی ہے جن میں توانائی کے وسائل، علاقائی اثر و رسوخ اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک برتری شامل ہے۔

 

انکا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹس بھی اس مؤقف کی تائید کرتی ہیں۔ امریکی خفیہ اداروں بشمول سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی اور دیگر سکیورٹی اداروں کی ایک مشترکہ انٹیلیجنس اسیسمنٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ایران جیسے بڑے اور مضبوط ریاستی ڈھانچے کو صرف فضائی حملوں کے ذریعے شکست دینا ممکن نہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر امریکہ واقعی ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتا ہے تو اسے بالآخر زمینی فوجی کارروائی پر غور کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم ایسا قدم خطے کو ایک طویل اور خطرناک جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔ اسی نوعیت کی انٹیلیجنس اسیسمنٹ گزشتہ برس جون میں بھی سامنے آئی تھی جب ایران پر امریکی اور اتحادی حملوں کے بعد امریکی اداروں نے خبردار کیا تھا کہ ایران میں فوری ریجیم چینج کا امکان انتہائی کم ہے اور اس مقصد کے لیے زمینی جنگ ناگزیر ہو سکتی ہے۔

 

عاصمہ شیرازی کے مطابق اس جنگ کے کئی ممکنہ مقاصد زیر بحث ہیں۔ ایک مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی بتایا جا رہا ہے جبکہ دوسرا مقصد خطے کے توانائی کے وسائل خصوصاً تیل اور گیس پر اثر و رسوخ حاصل کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو ایران کی عسکری طاقت سے مستقل خطرے سے آزاد کرنا بھی ایک ہدف سمجھا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے چین اور روس تک تیل کی فراہمی پر اثر انداز ہونا بھی بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ کے پس منظر میں شامل ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ جنگ سے کچھ ہی عرصہ قبل عالمی میڈیا میں امریکی کاروباری شخصیت جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں اور ویڈیوز کا معاملہ زیر بحث تھا مگر جیسے ہی ایران پر حملے شروع ہوئے یہ معاملہ عالمی توجہ سے تقریباً غائب ہو گیا۔ تاہم ان کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ جنگ کا آغاز صرف اسی معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا ہو، لیکن عالمی سیاست میں اکثر کئی مقاصد بیک وقت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

 

عاصمہ شیرازی کے مطابق نیتن یاہو کے حالیہ دورۂ واشنگٹن بھی اسی تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں جہاں بظاہر ایران سے متعلق عسکری حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔ ان کے مطابق ایران پر حملے کے ابتدائی مقاصد میں یہ توقع بھی شامل تھی کہ شدید حملوں کے نتیجے میں ایرانی ریاستی ڈھانچہ کمزور ہو جائے گا اور عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں گے، تاہم اب تک ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ امریکی انٹیلیجنس اداروں کی بریفنگز کے مطابق اس امکان کے مستقبل قریب میں بھی نمایاں ہونے کے آثار کم دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح ایران کی فوجی طاقت کو فوری طور پر کمزور کرنے کا مقصد بھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکا۔ ایران نے خطے میں موجود امریکی مفادات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ بعض حملوں کے باعث خلیجی ممالک بھی براہ راست دباؤ میں آ گئے ہیں۔

 

عاصمہ شیرازی کے مطابق حملے کا تیسرا بڑا مقصد ایران کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانا تھا۔ اگرچہ ایران پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار تھا، تاہم جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں اور تیل کی رسد میں ممکنہ رکاوٹ کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

دوسری جانب تازہ اطلاعات کے مطابق امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے پر غور کر رہا ہے اور ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے اضافی بحری اور عسکری وسائل تعینات کیے جا رہے ہیں۔

 

عاصمہ شیرازی کے مطابق بعض اطلاعات میں تیسرے بڑے امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی اور ایران کی جوہری تنصیبات کے حوالے سے مزید فوجی اقدامات پر غور کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورت حال کسی حد تک عراق جنگ 2003 کی یاد دلاتی ہے جب ابتدا میں محدود عسکری کارروائی کے بعد ایک طویل جنگ کا آغاز ہو گیا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار میدان عراق نہیں بلکہ ایران ہے جو جغرافیائی، عسکری اور آبادی کے لحاظ سے کہیں زیادہ بڑا اور پیچیدہ ملک ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف ایران یا امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ ان کے مطابق تیسری دنیا کے ممالک پہلے ہی معاشی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہیں اور ایک بڑی جنگ ان کے لیے مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔

امریکہ کے خلاف ایران کی منفرد جنگی سٹریٹجی کیا ہے ؟

عاصمہ شیرازی کے مطابق سب سے بڑا خدشہ یہی ہے کہ اس جنگ میں جیت کسی ایک کی بھی ہو، نقصان پوری انسانیت کا ہو گا۔ ان کے بقول اگر یہ جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو اس کے اثرات عالمی سیاست، معیشت اور امن کے لیے طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔

 

Back to top button