کیا مذاکرات کی آڑ میں امریکہ زمینی افواج تیار کر رہا ہے؟

عمران خان کی طرح یوٹرن لینے کے ماہر صدر ٹرمپ تہران کے ساتھ پاکستان کے ذریعے مذاکرات کی کہانی چھیڑ کر اچانک زمینی افواج ایران میں داخل کرنے کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی پالیسیوں میں غیر متوقع پن ایک مستقل عنصر رہا ہے چنانچہ یہ بھولنا نہیں چاہیئے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عرب ممالک اسوقت کویت میں افواج کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ان افواج کی تعداد تقریباً 75 ہزار تک پہنچ سکتی ہے، جس کے بعد آئندہ ہفتے تک ایران کے خلاف زمینی حملہ شروع کیا جا سکتا ہے۔
ادھر پاکستانی حکومت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کےلیے سہولت کار بننے پر پہلے ہی رضامندی ظاہر کر چکی ہے، تاہم صورتحال اس لیے پیچیدہ ہو رہی ہے کہ ایران کے پیش کردہ مطالبات کے جواب میں صدر ٹرمپ مسلسل غیر ذمہ دارانہ بیانات دیتے ہوئے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ایران میں پہلے ہی ریجیم چینج ہو چکا ہے اور ایرانی خود امریکہ سے مذاکرات کے لیے کوشاں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے بیانات نہ صرف سفارتی عمل کو متنازع بناتے ہیں بلکہ اعتماد کی فضا کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
سیاسی مبصرین اس تناظر میں یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب اقوام متحدہ جیسا عالمی ادارہ امریکہ کو اپنی مرضی سے دوسرے ممالک کے خلاف کارروائیوں سے روک نہیں پا رہا، تو ایسے میں پاکستان کس بنیاد پر یہ ضمانت دے سکتا ہے کہ وہ بطور ثالث ایران اور امریکہ کے درمیان جو بھی معاہدہ کروائے گا، اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے گا؟
اس کے علاوہ پاکستان کے لیے یہ ضمانت دینا کیسے ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ اس بار مذاکرات کے دوران حملہ کرنے کے سابقہ طرزِ عمل کو نہیں دہرائیں گے؟ یاد رہے کہ ایران نے امریکہ کو جو 6 مطالبات پیش کیے ہیں ان میں یہ یقین دہانی بھی شامل ہے کہ جنگ بندی مستقل بنیادوں پر ہوگی اور ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی حکمت عملی اکثر پہلے نرم اور پھر گرم کے اصول پر مبنی ہوتی ہے۔ ان کے ناقدین کے مطابق وہ بظاہر مذاکرات کا ماحول پیدا کرتے ہیں، لیکن پسِ پردہ سخت اقدامات کی تیاری جاری رکھتے ہیں۔ ماضی میں ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے دوران بھی ایسے مواقع آئے جب اچانک پابندیوں میں اضافہ یا سخت فیصلے سامنے آئے، اور پھر وہ لمحہ بھی آیا جب مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ لہذا یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ صدر ٹرمپ ناقابل اعتبار لیڈر ہیں اور دھوکہ دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ واقعی ایران میں ریجیم چینج یعنی حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی کارروائی کرتا ہے تو ایسا منصوبہ کئی مراحل پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کی جانب سے فضائی حملوں کے ذریعے ایران کے فضائی دفاعی نظام، مواصلاتی نیٹ ورکس اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ زمینی افواج کے لیے راستہ ہموار ہو سکے۔ اس کے بعد اتحادی فوجی دستے ایران کے اہم شہروں، خاص طور پر دارالحکومت تہران، کی جانب پیش قدمی کریں گے، اسکے علاوہ سمندری راستوں سے بھی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ تاہم تجزیہ کار متفق ہیں کہ زمینی حملہ کر بھی دیا جائے تو بھی ایران میں حکومت کا خاتمہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ایران کی فوجی صلاحیت، پاسدارانِ انقلاب کی مضبوط ساخت، اور عوامی مزاحمت ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی بیرونی حملے کو طویل اور پیچیدہ جنگ میں بدل سکتے ہیں۔
ایران پر حملہ کرنے والا ٹرمپ فیس سیونگ پر کیسے مجبور ہوا؟
دفاعی تجزیہ کار عراق اور افغانستان کی مثالیں دیتے ہوئے خبردار کرتے ہیں کہ ابتدائی فوجی کامیابی کے باوجود ایران جیسے ملک میں اپنی مرضی کا حکمران لا کر ریجیم تبدیل کرنا امریکہ کے لیے انتہائی مشکل ٹاسک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران کا جغرافیہ، اس کی بڑی آبادی، اور خطے میں اس کے اتحادی گروہ کسی بھی امریکی مداخلت کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایسی صورت میں خلیجی ریاستیں، مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک، اور حتیٰ کہ عالمی طاقتیں بھی اس تنازع میں بالواسطہ یا بلاواسطہ شامل ہو سکتی ہیں، جس سے صورتحال پیچیدہ ہو جائے گی۔
اس تناظر میں تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی کا پنگا لینے والے پاکستان جیسے ممالک کو اہم سفارتی فیصلے درپیش ہوں گے۔ مبصرین کے مطابق اس صورتحال حال میں پاکستان کو چاہیے کہ وہ پہلے واضح بین الاقوامی ضمانتیں حاصل کرے، تاکہ کسی ممکنہ دھوکہ دہی کے منفی اثرات سے خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔ بصورتِ دیگر، یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان ایک ایسے تنازع میں الجھ سکتا ہے جس سے اسے فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہو جائے گا۔
