کیا ایران میں خون ریز ہنگاموں کے پیچھے واقعی امریکی ہاتھ ہے؟

چند ماہ پہلے خوفناک فضائی حملوں کے نتیجے میں اپنی نیوکلیئر تنصیبات سے محروم ہونے والا ایران اس وقت شدید داخلی اضطراب اور بیرونی دباؤ کے کڑے امتحان سے گزر رہا ہے جہاں مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے عوامی احتجاج تیزی سے پرتشدد صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ایران کے مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں، جن کے نتیجے میں اموات کی تعداد 217 تک پہنچ چکی ہے، تاہم ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ان اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں کے دوران درجنوں بینک، مساجد، ہسپتال، فائر ٹرک، ایمبولینسیں، بسیں اور شہری گاڑیاں نذرِ آتش ہو چکی ہیں جبکہ پولیس سٹیشنز اور سرکاری عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایمبولینسوں اور عبادت گاہوں پر حملوں کے واقعات نے ایرانی حکام کے اس مؤقف کو تقویت دی ہے کہ یہ محض مہنگائی کے خلاف عوامی غصہ نہیں بلکہ منظم امریکی سازش ہے، جس کا مقصد ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور نظام کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ اسی تناظر میں تقریباً ڈھائی ہزار افراد کی گرفتاری اور انٹرنیٹ سروس کی بندش کو حکومت کی جانب سے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ایران میں مہنگائی کے خلاف عوامی احتجاج کی بنیادی وجہ شدید معاشی دباؤ ہے، جس میں اشیائے خورونوش، ایندھن اور روزمرہ ضروریات کی اشیاء کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ایرانی حکومت اس مہنگائی کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتی ہے، کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ سخت اقتصادی پابندیوں نے ایرانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دی ہے۔ تیل کی برآمدات پر قدغن، بین الاقوامی بینکاری نظام سے ایران کی عملی بے دخلی، غیر ملکی سرمایہ کاری کا خاتمہ اور کرنسی کی قدر میں شدید کمی ایسے عوامل ہیں جنہوں نے مہنگائی کو بے قابو کر دیا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد عوام کو معاشی طور پر اس قدر بے حال کرنا ہے کہ وہ اپنی ہی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
اسی پس منظر میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا پر براہِ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ہاتھ ایرانی عوام کے خون سے رنگے ہیں اور ملک میں ہونے والی توڑ پھوڑ دراصل بیرونی قوتوں کو خوش کرنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق کچھ عناصر کرائے کے فوجیوں کے طور پر کام کر رہے ہیں، جنہیں ایران کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ خامنہ ای نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ اتحاد برقرار رکھیں اور امریکی صدر کو یہ پیغام دیا کہ وہ ایران کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے داخلی مسائل پر توجہ دیں۔ امریکا کی جانب سے بیانات نے ایرانی خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا یہ کہہ کر دباؤ بڑھایا کہ اگر ایران میں مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا، اگرچہ انہوں نے فوج اتارنے کی بات سے گریز کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق انسانی حقوق کی آڑ میں ایسے امریکی بیانات دراصل ایرانی فیصلہ سازوں پر نفسیاتی اور سیاسی دباؤ ڈالنے کا حصہ ہیں، ان کے مطابق اس طرح کے ہتھکنڈے ماضی میں لیبیا اور دیگر ممالک میں حکومتیں تبدیل کرنے کی امریکی کوششوں کے دوران پہلے بھی دیکھے جا چکے ہیں۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایران کے کچھ شہروں پر عوام کا کنٹرول ہو چکا ہے، صورتحال کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایران نے ان امریکی بیانات کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ سے باضابطہ رجوع کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کو خط لکھ کر امریکا اور اسرائیل پر ایران میں اشتعال، تشدد اور عدم استحکام کی حوصلہ افزائی کا الزام لگایا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی یہی مؤقف دہرایا ہے کہ غیر ملکی حمایت یافتہ عناصر نے جائز عوامی احتجاج کو تشدد کی طرف موڑنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام کی اکثریت ریاست اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور ایران اپنی تاریخ میں بارہا بیرونی سازشوں کا مقابلہ کر کے سرخرو ہو چکا ہے۔
ٹرمپ ایران کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں : ایرانی سپریم لیڈر
ادھر بین الاقوامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ غیر مصدقہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ ایرانی قیادت، خصوصاً آیت اللہ خامنہ ای، اقتدار چھوڑ کر روس میں جلاوطنی پر غور کر رہی ہے۔ سینئیر ایرانی حکام نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسی اطلاعات پھیلانا نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں، جنکا مقصد ایرانی قیادت کو کمزور دکھانا، عوام میں بے یقینی پھیلانا اور نظام پر اعتماد کو متزلزل کرنا ہے۔
بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران میں ہونے والے ہنگامے اب صرف مہنگائی کے خلاف احتجاج تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ عالمی طاقتوں، علاقائی سیاست، اقتصادی پابندیوں اور میڈیا وار کے پیچیدہ امتزاج کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ ایرانی مؤقف کے مطابق امریکا ان ہنگاموں کو جواز بنا کر ایک بار پھر ایران میں حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے، تاہم یہ کوششیں کامیاب ہوں گی یا نہیں، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ایرانی عوام، ریاستی اداروں اور عالمی سفارت کاری کے رویے سے ہوگا۔
