کیا امریکہ واقعی ایران جنگ سے بھاگنے والا ہے؟

ایران کی جانب سے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے سخت مزاحمتی کارروائیاں سامنے آنے کے بعد امریکہ نے جاری جنگ سے بھاگنے کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ناقدین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے جنگ جلد ختم کرنے کا عندیہ حقیقت میں “کھسیانی بلی کھمبا نوچے” کا غماز ہے کیونکہ یورپ سمیت دنیا بھر میں ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے جنگی اقدامات کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب کو ابتدا میں یہ توقع تھی کہ ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے بعد ملک کے اندر سیاسی نظام کمزور اور بہت جلد وہاں حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ تاہم زمینی حقائق اس اندازے کے برعکس ثابت ہوئے اور سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود ایران کے ریاستی اداروں یا سیاسی ڈھانچے میں فوری ٹوٹ پھوٹ یا اندروانی بغاوت کے واضح آثار سامنے نہیں آئے۔ رجیم چینج آپریشن میں ناکامی کے بعد اب امریکہ اور اسرائیل نے جنگی اہداف میں کامیابی کا ڈھونگ رچا کر اس جنگ سے نکلنے کی کوشش شروع کر دی ہے، تاہم دوسری جانب ایران نے فوری جنگ بندی کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ واشنگٹن یا تل ابیب نہیں بلکہ ایران کرےگا۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں اور امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایران کسی بھی ممکنہ طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران کے دوٹوک مؤقف کے بعد خطے میں جنگ کے بادل مکمل طور پر چھٹتے دکھائی نہیں دیتے۔
ایسے میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آیا امریکہ واقعی اپنے جنگی مقاصد حاصل کر چکا ہے یا بدلتے حالات کے باعث اس جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کیا مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ واقعی اپنے اختتام کے قریب ہے یا پھر یہ محض ایک نئے مرحلے کی ابتدا ہے؟مبصرین کے مطابق اگر عالمی طاقتیں اس بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے میں ناکام رہیں تو یہ تنازع طویل اور پیچیدہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں اس کے اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بھی اس کے نتائج سے متاثر ہو سکتا ہے جبکہ عالمی توانائی منڈی، علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی سفارتی توازن سب اس کشیدگی کے زیر اثر آ سکتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی میڈیا اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جارحیت کے ذریعے اپنے مقاصد مکمل طور پر حاصل کرنے میں یکسر ناکام رہے ہیں، جس کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے بیانیے میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے جنگ جلد ختم کرنے کا عندیہ دراصل بدلتے ہوئے حالات کا عکاس ہے تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق امریکی و اسرائیلی خواہشات کے برعکس ایران کے ساتھ جنگ مزید کم از کم ایک ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کے اندر ایران کے ساتھ طویل اور کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ کا خوف بڑھنے لگا ہے۔امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق متعدد اعلیٰ اسرائیلی حکام نے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق جنگ کے خاتمے کا کوئی واضح تصور موجود نہیں اور اس کے طویل عرصے تک جاری رہنے کے امکانات خطے اور عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ بعض اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ صورتحال مزید سنگین ہونے سے پہلے کسی سیاسی راستے کی تلاش ضروری ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام نے طوالت اختیار کرتی جنگ کے خوف سے اپنے اہداف محدود کر دئیے ہیں اسرائیلی حکام کے مطابق ایرانی نظام کا مکمل خاتمہ لازمی طور پر جنگ کا واحد مقصد نہیں ہے۔ اگر اہم فوجی اہداف کو تباہ کر دیا جائے تو اسرائیل اپنے مقاصد حاصل شدہ تصور کر کے جنگ بندی پر راضی ہو سکتا ہے چاہے ایران مکمل طور پر ہتھیار نہ ڈالے۔
اس حوالے سے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کا اصل ہدف ایران میں حکومتی تبدیلی تھا امریکی منصوبہ یہ تھا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے نظام کمزور ہو جائے گا اور عوامی بغاوت کے ذریعے حکومت کو گرا دیا جائے گا۔ تاہم امریکہ ایران میں رجیم چینج آپریشن میں یکسر ناکام رہا۔ مبصرین کے مطابق حملوں کے بعد ایران میں بغاوت تو نہ ہو سکی بلکہ ان حملوں نے ایرانی قوم کو ایک بار پھر یکجا کر دیا ہے، جس کے بعد امریکہ نے اس جنگ سے نکلنے کیلئے حیلے بہانے تلاش کرنے شروع کر دئیے ہیں
8 جنگیں رکوانے والے ٹرمپ نے 9ویں جنگ خود کیوں چھیڑ دی؟
ادھر بعض امریکی دفاعی حلقوں میں یہ خیال گردش کر رہا ہے کہ ایران کے قریب ایک اہم تیل بردار جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا اس جنگ کا آخری بڑا فوجی ہدف ہو سکتا ہے۔ اس جزیرے کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہاں موجود توانائی کے ذخائر عالمی منڈی اور خاص طور پر چین کی توانائی ضروریات کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اس علاقے پر قبضہ بھی کر لے تو اسے طویل عرصے تک برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ ایران علاقائی اور عالمی حمایت کے ساتھ اسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع ایک طویل اور پیچیدہ بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
